لاہور (ای پی آئی )عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ جو کچھ کرایا جا رہا ہے پولیس کی اکثریت اس سے ناخوش ہے،پی ٹی آئی کو توڑنے کے لیے تمام ادارے منظم طریقے سے تباہ کیے جا رہے ہیں بد ترین کارروائیوں کے باوجود صرف چند لوگوں نے ہی پارٹی کیوں چھوڑی ہے؟

ان خیالات کا اظہار چیئرمین پی ٹی آئی عمران نے ویڈیو لنک کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کو پارٹی ٹکٹ دینے کا ارادہ نہیں تھا۔

عمران خان نے کہا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس بار پارٹی ٹکٹ خود میں نے الاٹ کیے ہیں اور لوگوں کو اندازہ ہو گیا ہے کہ جو بھی اس موڑ پر پارٹی چھوڑ ے گا، اس کی سیاست ختم ہو جائے گی۔۔انہوں نے کہا کہ جیلوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کو دیکھتے ہوئے پولیس کی اکثریت اس بات سے ناخوش ہے جو ان سے کروایا جا رہا ہے، پولیس کی اکثریت کا خیال ہے کہ ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں گلو بٹ کو داخل کر دیا گیا ہے جو نہ معلوم افراد کے دباؤ میں ہیں، پولیس جو کچھ کر رہی ہے، اسے وہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام اداروں کو پی ٹی آئی ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ ملک کے تمام اداروں کو ایک مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے کہ بس کسی نہ کسی طرح پی ٹی آئی کو ختم کیا جائے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اعلیٰ عدلیہ پر اس وقت بہت زیادہ دباؤ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ ججوں کو بھی نامعلوم نمبروں سے فون کالز موصول ہو رہی ہیں اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔عمران خان نے کہا ہے کہ حکام زیر حراست خواتین کو رہا کرنے سے خوفزدہ ہیں، وہ جانتے ہیں کہ خواتین میں سے کوئی بھی آتش زنی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ شاید ہی 100 سے 150 لوگ فساد میں ملوث ہوں گے، باقی زیر حراست لوگ پرامن احتجاج کر رہے تھے۔’خواتین کو اٹھانے‘ کی مبینہ دھمکیوں پر عمران خان نے ردعمل پر دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ان کے گھر کی خواتین کو اٹھالیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس حد تک پستی میں گر گئے ہیں، وہ پاکستان کی سیاست کو اس سطح لے آئے ہیں جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے زور دے کر کہا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کو صرف اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پارٹی چھوڑنے والوں میں سے بہت سے اب نئی کنگز پارٹی بنانے کےلیے لابنگ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک نئی پارٹی کا ایک نیا ڈرامہ گھڑا جا رہا ہے اور پی ٹی آئی کو اس جانب لے جانے کے لیے یہ کھیل بھی جاری ہے، چھپنے والوں کے گھروں پر حملہ کیا جا رہا ہے، ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنے کی وجہ سے پارٹی رہنماؤں سمیت کئی افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس وقت ہماری ساری قیادت یا تو جیل میں ہے یا لوگ روپوش ہے، اب حکمران ٹکٹ ہولڈرز کے پیچھے پڑے ہیں کہ کسی طرح انہیں پی ٹی آئی سے الگ کر دیں جب کہ ان میں بہت سے الگ ہو چکے ہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی پر اس وقت جس طرح کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ دس ہزار لوگوں، کارکنوں اور ہمارے حامیوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، یہی نہیں بلکہ انہوں نے ان میں سے کئی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے۔