اسلام آباد(ای پی آئی ) آئین اور قانون ہمیں پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کرنا ہمارا حق ہے۔ اندر ہماری پارٹی کے لوگ نہیں گئے بلکہ وہ اندر جانے والوں کو روک رہے تھے

ان خیالات کا اظہار چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کرنا ہمارا حق ہے، اگر فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف مقدمات چلیں گے تو جمہوریت تو ختم ہوگئی، نیم مارشل لا تو لگ گیا ہے،ان کا مقصد پی ٹی آئی کو ختم کرکے نواز شریف کو بحال کروانا ہے، مذاکرات وہ چاہتے ہیں جو کوئی حل چاہتے ہیں اور حل الیکشن ہیں، وہ یہ نہیں چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نو مئی کے واقعات میں آگ تو چار یا پانچ جگہ لگی جن میں کور کمانڈر ہاؤس اور ریڈیو پاکستان پشاور جیسی جگہیں تھیں۔ وہاں کیمرے ہوں گے، سیف سٹی کے کیمرے ہیں سب معلوم ہو جائے گا۔ یہ انکوائری تو بہت سیدھی سادھی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف مقدمات چلیں گے تو جمہوریت تو ختم ہوگئی۔ نیم مارشل لا تو لگ گیا ہے۔ ان کا مقصد پی ٹی آئی کو ختم کرکے نواز شریف کو بحال کروانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو انتخابات جیتنے کے لیے اب الیکٹ ایبلز کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا سب سے بڑا ووٹ بینک ہے۔ جب ووٹ بینک اتنا ہو تو لوگوں کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ مذاکرات کی پیشکش پرحکومت کی جانب سے جواب نہ ملنے کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مذاکرات تو چلتے رہے ہیں لیکن دوسری جانب سے کوئی رسپانس نہیں ہے۔ مذاکرات وہ چاہتے ہیں جو کوئی حل چاہتے ہیں اور حل الیکشن ہیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے ہیں۔ اس سے بھاگ رہے ہیں۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے 23 ہزار کارکنوں کی فہرست بنائی ہے جس میں سے 10 ہزار کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔