اسلام آباد (عابدعلی آرائیں ) پاکستان میں برسراقتدار پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے آڈیولیکس کی تحقیقات کے لیے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ان مقدمات میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا ہے جن میں سپریم کورٹ بار اور پاکستان تحریک انصاف نے آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل کو چیلنج کیاہے. 26صفحات پر مشتمل جواب میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کمیشن کی طرف سے 22 مئی کو کی گئی سماعت کا حکم نامہ اوراس حکم کی روشنی میں اخبارات میں شائع ہونے والے نوٹسز کی کاپیاں بھی لگائی گئی ہیں
جواب میں کمیشن نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئےکہا ہے کہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس نہیں جاری کیے جو قواعد کے مطابق ضروری ہوتے ہیں اور نہ ہی درخواست کی کاپیاں فریقین کو بھجوائی گئیں
کمیشن کے جواب میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے علم میں آیاہے کہ یہ درخواستیں آئین کے آرٹیکل 184تین کے تحت دائر کی گئی ہیں لیکن 26 مئی کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجربینچ نے جو حکم جاری کیا اس میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ درخواست ہے آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت دائر کی گئی ہیں اور یہ بھی ذکر نہیں ہے کہ یہ درخواستیں قابل سماعت ہیں یا نہیں کیوں کہ آئین کے آرٹیکل 184 کا اطلاق وہیں کیا جا سکتا ہے جہاں عوامی مفاد کا معاملہ ہو ،
کمیشن نے کہا ہے کہ درخواست گزار عابد زبیر ی پر مبینہ طور پر ایک ویڈیو آڈیو میں بات کرنے کا الزام ہے اس لئے عدالت کواس بات پربھی غور کرنا ہوگا کہ عابدزبیری عوامی مفاد کی نمائندگی کر سکتے ہیں یا نہیں
کمیشن نے کہا ہے کہ آڈیو ریکارڈنگ میں موجود دیگر افراد نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے پر اعتراض کیا کمیشن کے مطابق خواجہ طارق رحیم اور عبدالقیوم صدیقی نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے پر رضا مندی ظاہر کی۔
کمیشن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ پریکسٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے مطابق یہ درخواستیں سماعت کیلئے مقرر ہی نہیں ہو سکتی تھیںاور نہ ہی انہیں سنا جا سکتا تھا
کمیشن کے مطابق ان درخواستوں کی سماعت کرنے والا بینچ چیف جسٹس اور سینئر ترین ججز کی کمیٹی نے تشکیل نہیں دیا اس لئے یہ درخواستیں سماعت کے لئے مقرر بھی نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی انہیں سنا جا سکتا تھا
کمیشن کے مطابق مبینہ طور پر ایک آڈیو میں بات کرنے والے خواجہ طارق رحیم اور دیگر نے یہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2030 کو چیلنج کیا ہے حالانکہ یہ قانون ابھی تک بنا ہی نہیں
کمیشن نے کہا ہے کہ عدالت کے دفتر نے ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگایا تھا ان اعتراضات میں عدالت کے آفس نے یہ کہا تھا کہ درخواست گزاروں نے درخواستوں میں عوامی مفاد کے معاملے کی نشاندہی نہیں کی جس کی بناپر عدالت اآئین کے آرٹیکل 184تین کا غیر معمولی دائرہ اختیار استعمال کرے ۔
کمیشن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل بھی دائر نہیں کی گئی نہ ہی عدالت نے آفس کے اعتراضات کالعدم قرار دیئے۔
کمیشن کے مطابق انہی درخواستوں پر عدالت نے دو مئی کو مذکورہ ایکٹ کو معطل کردیا اور اس کے بعد آٹھ مئی کو ان مقدمات کی سماعت 24 دن یعنی یکم جون تک ملتوی کردی گئی
کمیشن نے کہا ہے کہ یہ تمام درخواستیں ناقابل سماعت ہیں کیونکہ ان کے آرٹیکل 184 تین کے تحت یہ درخواستیں دائر ہی نہیں ہو سکتی تھیں
کمیشن کا کہنا ہے کہ بینچ کے لئے مناسب نہیں ہوگا کہ وہ یہ درخواستیں سنے کیونکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کو چاہیے کہ وہ آئین و قانون کے مطابق کام کریں جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے بنائے گئے کوڈ آف کنڈکٹ کی بھی پابندی کرنی چاہیے کیونکہ کوڈ آف کنڈکٹ میں کہا گیا ہے کہ جج کو ذاتی مفاد کو اپنے آفیشل کنڈکٹ اور فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونا ہونے دینا چاہیے
کمیشن نے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی تین شقیں جواب میں شامل کی ہیں کمیشن نے چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جسٹس منیب اختر کا نام بھی آڈیو میں لیا جا رہا ہے جبکہ ایک اور آڈیو میں کیس کی سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حوالے سے جسٹس اعجاز الاحسن کا ذکر بھی ہو رہا ہے۔
کمیشن نے لکھا ہے کہ کمیشن کے ممبران قانون کے پابند ہیں کمیشن کے ممبران میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ، اسلام آباد ہائی کورٹ اوربلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں انکوائری کمیشن ایکٹ کی شق تین کی ذیلی شق دو میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کمیشن قائم کرنے کا اختیار رکھتی ہے
کمیشن نے کہاہے کہ اس قانون میں چیف جسٹس سے مشاورت کا ذکر نہیں ہے قانون چیف جسٹس کو کمیشن کے ممبران نامزد کرنے کا اختیار بھی نہیں دیتا ،
کمیشن نے جواب میں کہا ہے کہ یہ قانون 6سال سے موجود ہے نہ تو اس کی کسی شق کو چیلنج کیا گیا اور نہ ہی کسی عدالت نے اس قانون کو کالعدم قرار دیا
جواب میں کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی شامل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمیشن کو کام مکمل کرنے کے لیے 30 دن کا وقت دیا گیا تھا اس لیے فوری طور پر22مئی کو اس کمیشن کا اجلاس بلایا گیا اور اس کا حکم اسی روز ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیااسی حکم کی روشنی میں اخبارات میں اشتہارات شائع کرائے گئے جس میں سیکرٹری کمیشن کاموبائل نمبر، ای میل اور سپریم کورٹ کا ایڈریس بھی دیا گیا
کمیشن نے لکھا ہے کہ چار افراد عابد بیری ،خواجہ طارق رحیم ،نجم ثاقب اور عبدالقیوم صدیقی کو نوٹس جاری کیے گئے کمیشن کا دوسرا اجلاس 27 مئی کو ہوا جس میں بتایا گیا کہ اس کمیشن کے خلاف کافی درخواست دائر ہوئی ہیں اور یہ درخواستیں آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت دائر کی گئی ہیں ان درخواستوں میں سے دو درخواستوں میں کمیشن کو بذریعہ سیکرٹری فریق بنایا گیا ہے ۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو کمیشن کو کام سے روک دیا جس پر کمیشن نے اپنا کام اپنی کارروائی روک دی کمیشن نے 27 مئی کو جو کاروائی کی تھی اس کو بھی اس جواب میں شامل کیا گیا ہے
کمیشن نےلکھا ہے کہ عابد زبیری اور،نجم ثاقب نے کمیشن کو کوئی جواب نہیں دیا تاہم عابدزبیر ی کے وکیل شعیب شاہین کے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران دیئے گئے دلائل کو جواب کا حصہ بنایا گیاہے جس میںشعیب شاہین نے موقف اپنایا تھا کہ کمیشن کو سپریم جوڈیشل کونسل کے اختیارات دے دیئے گئے ہیں
کمیشن نے جواب میں کہا ہے کہ عابد زبیری وکیل نے کمیشن کے حکم نامہ کا وہ حصہ عدالت کو نہیں بتایا جس میں کمیشن نے کہا تھا کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہے کمیشن نے سپریم جوڈیشل کونسل کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 209 کا حوالہ بھی دیا ہے اور کہا ہے کہ اس آرٹیکل کے مطابق اگر سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ایک جج کے خلاف معاملہ ہو تو اس کے بعد سینئر ترین جج جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی کرتا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ یہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ اس کمیشن کے قیام سے عدلیہ کی آزادی کو خطرہ کیسے ہو سکتا ہے جس کمیشن میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوں ۔
کمیشن نے اپنے جواب میں لکھا ہے کہ عابدزبیری نے دعوی کیا کہ ان کے موکل سے گفتگو Privileged communication تھی حالانکہ قانون شہادت کے مطابق جرم ،فراڈ اور غیرقانونی مقصد کو اس دائرہ کار سے نکالا گیاہے،
کمیشن نے اپنے جواب میں نجی ٹی وی جی این این،اے آر وائی اور بول نیوز پرعابدزبیری کی جانب سے آڈیولیکس سے متعلق کی گئی گفتگو کا حوالہ بھی دیا ہے
کمیشن نے جواب میں شعیب شاہین کی آج نیوز، اے آر وائے اور جی این این پر کی گئی گفتگو کا ذکر بھی کیا ہے
کمیشن نے اپنے جواب میں لکھا ہے کہ ہائی کورٹ کے پاس ماتحت عدلیہ کی نگرانی کا اختیار ہوتا ہے لیکن سپریم کورٹ کے پاس ماتحت عدلیہ یا عدالتوں کی نگرانی کا کوئی اختیار موجود نہیں ہے۔
کمیشن نے عدالت کو بتایا ہے کہ اس جواب کی کاپیاں تمام فریقین کو دے دی گئی ہیں کمیشن میں کسی وکیل کی خدمات نہیں حاصل کیں اس لیے درخواست گزار کے وکیل یا اٹارنی جنرل ان کا جواب پڑھ سکتے ہیں۔
کمیشن نے لکھا ہے کہ اس کمیشن کو اس معاملے میں اس سے زیادہ کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ حکومت کی طرف سے دیا گیا ٹاسک ملک کے قانون اور آئین کے مطابق پورا کرے کمیشن توقع کرتا ہے کہ حکومت نے جو قانونی عتراض اٹھائے ہیں عدالت ان کو مدنظر رکھے گی۔


