مکوآنہ (ای پی آئی) فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں تعینات اہلکار کی جانب سے قیدی کے رشتہ دار کو کال کر کے 10 ہزار روپے بھتہ مانگنے کی فون آل آڈیو لیک ہو گئی ۔
جیل سپرنٹنڈنٹ نے اہلکار کو معطل کر دیا تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل فیصل آبادمیں تعینات بیرک انچارچ کی فون کال کی آڈیو لیک ہوگئی، جس میں اہلکار نےکسی قیدی کے رشتہ دار کو فون کال کرکے 10ہزار روپے بھتہ کا مطالبہ کیا اور کہاہے کہ یہ رقم میرے پر حرام ہے میں نے پیسے اس طرح آگے ہی دینے ہیں میرے پاس توامانت ہیں ۔
بیرک انجارچ کی قیدیوں کے ورثاء سے بھتہ خوری کی مبینہ کال آڈیو سامنے آنے پر فیصل آباد ڈسٹرکت جیل کے سپریٹنڈنٹ علی اکبر نے نوٹس لیتے ہوئے بیرک انجارچ کو فوری معطل کرکے تحقیقات شروع کردی ہے ۔
قیدیوں سے ناروا سلوک اور ملاقاتیوں سے بھتہ وصول کرنے سمیت دیگر الزامات پر کئی بار قیدی شکایات کرچکے مگر اس پرکوئی عملدار نہیں ہوتا جبکہ اس قبل بھی خط میںقتل کیس کے قید ی کے ورثاء نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان ایک خط لکھاتھا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ جیل سپریٹنڈنٹ فیصل آبادکی مبینہ ملی بھگت سے قیدیوں، ان کے ملاقاتیوں سے 10سے 50ہزار روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے.
ا اس کا ٹھیکہ اہلکارون کی ملی بھگت سے پرائیویٹ افراد کو دیا گیا ہے جو بھتہ وصول کرکے جیل حکام کو دیتے ہیں، نہ دینے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے برہنہ کیا جاتا ہے اورقیدیوں کو قصوری چکی میں بند کرنے کی سزاء دی جاتی ہے،اس غیر انسانی سلوک کے باعث اب تک قیدی ہلاک بھی ہوچکے ہیں اس خط پرچیف جسٹس سے معاملے پر سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل کی گئی تھی۔


