اسلام آباد (ای پی آئی) مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی تاحیات نا اہلی کا سبب بننے والا پاناما پیپرز کیس میں بڑی پیش رفت، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی جانب سے پاناما میں سامنے آنے والے 436 افراد کے خلاف تحقیقات کے لئے دی گئی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی ،2 رکنی بینچ 9 جون کو سماعت کرے گا ۔

تفصیلات کے مطابق 2016 میںپاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا کی جانب سے دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والی خفیہ دستاویزات کو منظر عام پر لایا گیا ۔جس میں دنیا بھر میں کئی ملکوں کے حکمرانوں سمیت امیر اور طاقتور لوگوں کی جانب سے اپنی دولت کو چھپانے کے رازوں کو افشا کیا گیا ۔2016 میں جاری ہونے والی اس تہلکہ خیز رپورٹ میں اس کے وقت کے پاکستان کے وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کے کے علاوہ دیگر 400 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی اس لسٹ میں شامل تھے ۔

اس تہلکہ خیز رپورٹ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس کو اپنا سیاسی بیانیہ بناتے ہوئے طویل دھرنا بھی دیا اور نواز شریف کو فوری اقتدار سے ہٹانے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا جس کے بعد سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعتوں کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے پانامہ کی بجائے اقامہ کے نام پر نواز شریف کو تاحیات نا اہل قراردیدیا۔

تاہم اس موقع پر امیر جماعت اسلامی نے نواز شریف کے خلاف تحقیقات کے ساتھ ساتھ لسٹ میں سامنے آنے والے تمام افراد کے خلاف تحقیقات کی درخواست دائر کی لیکن اس درخواست کو بعد ازاں سماعت کے لئے مقرر نہ کیا گیا جس کا اظہار کچھ روز قبل امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

انہوںنے کہاکہ پانامہ پیپرز کیس میں صرف نواز شریف کو سزا دی گئی، باقی کسی شخص پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔سراج الحق نے کہا کہ جن لوگوں کا پیسہ باہر ہے وہ واپس لایا جائے، ان پیسوں سے ڈیم بنایا جائے ۔

جس کے بعد اب عدالتِ عظمیٰ جانب سے امیر جماعت اسلامی کی درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کرتے ہوئے جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ تشکیل دیدیا گیا ہے جو کہ 9 جون کو سماعت کرے گا۔سپریم کورٹ نے امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق کی درخواست پر اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔۔