اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے مرزا شہزاد اکبر کے اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے بھائی مرزا مراد اکبر کی بازیابی کے لئے دائر کی گئی رٹ پٹیشن کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے ۔اسلام آباد ہائیکورٹ کےسینئرترین جج جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں 2 جون 2023 کو دانیال اکبر کی جانب سے وزارت داخلہ کے خلاف دائر کی گئی رٹ پٹیشن کی سماعت ہوئی تھی جس کا 2 صفحات اور 4 پیرا گراف پر مشتمل تحریری حکم نامہ آج (3 جون 2023) کو جاری کیا گیا ہے ۔

پیراگراف نمبر 1
عدالت نے کہا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد، وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے نمائندوں کے ہمراہ جبکہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے۔انہوں نے مؤقف اپنایا کہ وہ اپنی طرف سے اس معاملے کی انکوائری کر رہے ہیں تاکہ مبینہ مغوی مراد اکبرکو بازیاب کرایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں درخواست گزار دانیال اکبر کی درخواست پر ان کے والد کے اغواء کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

پیراگراف نمبر 2
عدالت نےلکھا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز اور وزارت داخلہ و دفاع کے افسران سے جب ان افسران کی تفصیلات پوچھی گئیں جن کے بارے میں درخواست گزار نے مبینہ اغواء میں شریک ہونے کا الزام لگایا ہے اس پر ڈی آئی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ پاکستان رینجرز سی ٹی ڈی یا اسلام آباد پولیس کا کوئی افسر اس واقعہ میں ملوث نہیں ہے عدالت نے لکھا ہے کہ یہ پہلو بادی النظر میں عیاں کرتا ہے کہ کوئی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کی وردیاں پہن کر کوئی منظم گینگ اسلام آباد میں کام کر رہا ہے اور کریمنل سرگرمیوں میں ملوث ہے اس گینگ سے نمٹنا ریاست کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی زمہ داری ہے کیونکہ ملک کے شہریوں کی زندگی اور آزادی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

پیراگراف نمبر 3
عدالت نے قرار دیا ہے کہ مندرجہ بالا صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکرٹری وزارت داخلہ ، ڈی جی پاکستان رینجرز اور آئی جی اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں تمام افسران اپنے محکموں میں ایسے مجرموں کے خلاف دائر کئے گئےان مقدمات کی کاپیاں بھی عدالت میں پیش کریں جو انہوں نے اپنے محکموں کے وقار کا تحفظ کرنےکے لئے درج کئے ہیں ۔

پیراگراف نمبر 4
عدالت نے قرار دیا ہے کہ کیس کی مزید سماعت 5 جون 2023 کو ہو گی ۔

کیس کی سماعت کے دوران دانیال اکبر کی جانب سے بیرسٹر قاسم ودود، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عثمان رسول گھمن، اسٹیٹ کونسل ربی بن طارق، وزارت داخلہ کی جانب سے سیکشن افسر روحیل بھٹی، وزرات دفاع کے لاء افسر کموڈور جمشید گل، ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد ندیم بخاری، ایس پی صدر نوشیروان، ڈی ایس پی لیگل محمد ریاض، ایس ایچ او تھانہ شالیمار کمال خان اور تفتیشی سب انسپکٹر غلام مرتضی عدالت میں پیش ہوئے۔