لاہور(ای پی آئی)لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو جناح ہاؤس حملہ کے حوالے سے پولیس اسٹیشن سرور روڈ لاہور میں دائر ایف آئی آر میں ڈسچارج کرنے کا حکم سنا دیا۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹوجج عبیر گل خان نے ایک صفحہ پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمہ کے تفتیشی افسر نے عدالت سے درخواست کی کہ ڈاکٹریاسمین راشد کے 14روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے کیونکہ اس عرصے میں ان کی فوٹوجیومیٹری، وائس میچ ٹیسٹ اور موبائل فون وغیرہ کی برآمدگی کرنا ہے۔
فاضل جج عبیر گل خان نے لکھاہے کہ ریکارڈ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نہ تو ایف آئی آر میں نامزد ہیں اور نہ ہی ان کو سپلیمنٹری بیان میں شامل کیا گیا تھا اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو اس کیس میں شریک ملزم کے اعتراف کے بعد طلب کیا گیا اورقانون کی نظر میں اس شہادت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ،
فاضل جج نے حکم میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جو ان کا تعلق جرم کے ارتکاب سے جوڑ سکے اس لئے تفتیشی افسر کی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو اس کیس سے ڈسچارج کیا جاتا ہے ،اگر وہ کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
کیس کی سماعت کے دوران ڈاکٹریاسمین راشد، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل امجد جاوید، اسپیشل پراسیکیوٹر برائے اسٹیٹ سیف فرہاد علی شاہ اور تفتیشی افسر انسپکٹرمحمد سرور ریکارڈ سمیت پیش ہوئے۔

یاد رہے کہ 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے جناح ہائوس پر حملہ کرتے ہوئے جلائو گھیراؤ کیا گیا ۔جس پر پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ میں نامزد کردیا تھا ۔
پولیس کی درخواست پر یاسمین راشد کو جیل سے طلب کر کے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا اور جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ،انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تھانہ سرور روڈ کے مقدمہ نمبر 96/23 سے ان کا نام خارج کرنے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو طبعیت خراب ہونے کے باعث سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جہاں ماڈل ٹاؤن ڈویژن کی پولیس ڈاکٹر یاسمین راشد کو گرفتار کرنے کے لیے سروسز اسپتال پہنچی تھی۔


