اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہریار خان آفریدی کی گرفتاری کے حوالے سے دائر چارمختلف درخواستوں کی 2 جون کو ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے 12 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ 19 پراگراف پر مشتمل ہے جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہریار آفریدی کے بھائی فرخ جمال آفریدی اور اپنے وکیل کے توسط سے شہریار آفریدی کی جانب سے دائر کی گئی چار درخواستوںکو نمٹانے کا حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں یہ درخواستیں منظور کرتے ہوئے سات احکامات جاری کئے گئے ہیں
عدالت نے کیس کے حقائق لکھتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیرداخلہ شہریار آفریدی اور ان کی اہلیہ ربیعہ بی بی کو 16مئی کورات دو ریڈ کرکے گھر سے ایم پی او کی شق 16کے تحت گرفتار کیا گیا۔
ڈی سی اورا ئی جی اسلام باد کوطلب کرنے کے بعد 18مئی کو ربیعہ بی بی کو اس عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیااور شہریار آفریدی کو مجاز عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ۔
عدالت نے شہریار فریدی کیخلاف درج کی گئی رپٹ نمبر2/38کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ جب شہریار آفریدی اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت ڈی سی کی جانب سے ایم پی او کے تحت گرفتاری کے کوئی احکامات ہی موجود نہیں تھے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ شہریارآفریدی کے خلاف تھانہ آبپارہ اور تھانہ انڈسٹریل ایریا میں دو ایف آئی آرز درج تھیں لیکن حیران کن طور پر ایس ایچ او تھانہ مارگلہ ان ایف آئی آرز سے آگاہ ہی نہیں تھے۔ ان مقدمات میں گرفتاری کی بجائے شہریار آفریدی اور ان کی اہلیہ کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ایس ایچ او تھانہ مارگلہ نے پہلے رفتار کیا اس کے بعد ایم پی او کے تحت گرفتاری کاحکم حاصل کیا۔ عدالت نے لکھا ہے کہ شہریار آفریدی کے خلاف جتنے بھی اقدامات کئے گئے سب بدنیتی پر مبنی ہیں ۔
عدالت نے پولیس کی اس رپورٹ کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں اسلام آبا دپولیس نے موقف اختیار کیا تھا کہ وفاقی پولیس شہریار فریدی کو متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کے لئے جیل گئی لیکن جیل حکام نے شہریارآفریدی کوحوالے کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے ایم پی او کے تحت حراست کی مدت ختم ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ جیسے ہی شہریارآفریدی رہا ہوئے تو راولپنڈی پولیس ان کو گرفتار کرنے کیلئے تیار کھڑی تھی ۔ عدالت نے لکھا ہے کہ صورتحال دیکھ کر لگتا ہے کہ حکام کسی بھی قیمت پر ان کو قید رکھنا چاہتے ہیں۔
عدالت نے قراردیاہے کہ سرکاری افسران اختیارات کا غلط استعمال کرکے کسی شہری کی آزادی کے حق کو ختم نہیں کرسکتے۔عدالت ایس ایچ اور اور ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کے اس کنڈکٹ پر آنکھیں بند نہیں کرسکتی انہوں نے جان بوجھ کر قانون و اختیارات کا غلط استعمال کیاجس کی وجہ سے شہریارآفریدی کوغیر ضروری ہارڈ شپ کا سمنا کرنا پڑا اس کے ساتھ ساتھ انہیں قانونی رعایت حاصل کرنے سے بھی محروم کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد درکواست گزار کے سٹیٹس سے واقف تھے انہوں نے جان بوجھ کر شہریار آفریدی کو جیل میں مطلوبہ سہولیات سے محروم رکھا ہے۔
پیراگراف نمبر 19میں دیئے گئے احکامات
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر یہ قراردیا جاتاہے کہ
نمبرایک
عدالت نے لکھا ہے کہ اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ کی پولیس کی طرف سے درکواست گزاروں کی گرفتاری کالعدم قرار دی جاتی ہے
نمبر دو
عدالت نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی سی) اسلام آباد کی طرف سے ایم پی او کے تحت درخواست گزاروں کی گرفتاری کے احکامات کو اختیارات کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اپنا مائنڈ اپلائی کیے بغیر یہ احکامات جاری کیے اس لیے حراست میں لینے کے احکامات کو یہ عدالت درست تسلیم نہیں کر سکتی اس لیے وہ احکامات غیر قانونی اور اختیارات کا کے غلط استعمال قرار دیئے جاتے ہیں۔
نمبر تین
درخواست گزار شہریار آفریدی اس ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کے اندر ایک کرمنل کیس میں بھی گرفتار ہیں اس لیے تفتیشی افسر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ انہیں فاضل جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد کے سامنے فوری طور پر پیش کریں سپرنٹینڈنٹ سینٹرل جیل راولپنڈی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے عمل میں تفتیشی افسر کی معاونت کرے۔
نمبر چار
عدالت نے لکھا ہے کہ جیسا کہ کیس کی سماعت کے دوران دیکھا گیا کہ شہریار آفریدی کو جیل میں غیر ضروری سختی کا سامنا ہے اورجیل میں بہتر کلاس کی سہولیات حاصل کرنے کے لئے درخواست گزارکوالگ درخواست ڈپٹی کمشنر کو دینا ہوگی اس درخواست پر فوری طور پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گرفتار کئے گئے شخصکو جیل میں اس کے سٹیٹس کے مطابق کلاس فراہم کریں گے۔
نمبر 5
عدالت نے لکھا ہے کہ مارگلہ پولیس اسٹیشن کے افسران نے ملزمان کو گرفتار کرتے وقت جو موبائل قبضے میں لیے تھے وہ فوری طور پر درخواست گزار کی اہلیہ یا نمائندے کے حوالے کیے جائیں
نمبر 6
عدالت نے لکھا ہے کہ اس کیس میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد اور انچارج پولیس اسٹیشن مرگلہ کی طرف سے اختیارات کا غلط استعمال ظاہر ہے ان کاغیر مناسب کنڈکٹ بھی سامنے ہے اس طرح کے عمل سے انہوں نے اپنے آپ کو ایکسپوز کر دیا ہے جس کے قانونی اثرات ہونگے قانون کے مطابق درخواست گزار ان کے خلاف متعلقہ فورمز پر قانونی کاروائی کر سکتے ہیں۔
نمبر 7
فیصلے میں کہا گیاہے کہ جیسا کہ اس عدالت نے اسلام آباد پولیس اور سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل راولپنڈی کو دوبارہ سے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ شہریار آفریدی کو مجاز عدالت کے سامنے پیش کریں اس لیے اس حوالے سے دائر کی گئی درخواست نمبر 149/2023 نمٹائی جا تی ہے عدالت نے لکھا ہے کہ اس کیس میں اگرسات جون تک درخواست گزار کو مجاز عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا تو جیسا کہ درخواست گزار نے اس سے پہلے توہین عدالت کی جو درخواست دائر کی تھی اس کو بحال کیا جائے گا اور فریقین ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر وضاحت کریں گے کہ عدالت کو گمراہ کرنے پر انکے خلاف کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز نہ کیا جائے۔


