اسلام آباد(ای پی آئی ) یہ ایک غلط فہمی ہے کہ صوبہ سندھ میں حکمران جماعت ایک جمہوری جماعت ہے،کراچی میں جو ہوا وہ جمہوریت کے دامن پر ایک بدنماداغ بن گیا ، ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میئر کے الیکشن کو معطل کرکے دوبارہ الیکشن کا انعقاد کیا جائے،
ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے ایک انٹرویو کے دوران کیا انھوں نے کہا کہ اس وقت ہماے ملک کے جو مسائل ہیں سچی بات ہے کہ 13جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم کی حکومت یہ صلاحیت نہیں رکھتی ہے کہ یہ مسائل حل کرے۔ قوم کے ساتھ جو ہاتھ ہونا تھا وہ ہوگیا لیکن اب اس قوم کواختیار دیا جائے کہ وہ اپنے لئے نئی حکومت کاانتخاب کرے۔ ہماری معلومات کے مطابق لوگ نگران وزیر اعظم کے لئے شارٹ لسٹ بھی ہو گئے ہیں اورشاید انٹرویو کی طرف بھی کام جاری ہے اورمیں پُرامید ہوں کہ یہ سال پاکستان میں الیکشن کاسال ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ اصولی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو نگران وزیر اعظم کے نام پر اعتماد میں لینا چاہیے ، میں تجویز دیتا ہوں کہ ایسا نام تجویز کیا جائے جس پر کم ازکم سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہو۔
انھوں نے کہا کہ،نسل درنسل ایک پارٹی جس میں نہ اندرونی الیکشن ہوتا ہے اورنہ کبھی خاندان کے باہر کوئی فرد قیادت کے منصب پرآتا ہے، اس کو ایک پراپرٹی کہیں توزیادہ آسانی رہے گی، آصف علی زرداری نے اعلان کیااور یہ نہیں کہا کہ آئندہ وزیر اعظم پاکستان پیپلز پارٹی کا ہو گا بلکہ یہ کہا کہ بلاول ہو گا میرا بیٹا ہو گا، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میڈیا جن جمہوریت پسند یا جمہوری کہتا ہے ان کی سوچ کیا ہے،ان کی سوئی اسی جگہ پر اٹکی ہوئی ہے کہ اول تاآخر صرف اپنی ذات اوراپنا خاندان ہے اور سیاست اسی کا نام ہے، جمہوریت اسی کا نام ہے، عوام اسی کانام ہے، طاقت کاسرچشمہ اسی کانام ہے۔
انھوں نے کہا کہ پہلے لوگ دوسروں سے محبت کرتے تھے پھر ان کی کہانیاں بنتی تھیں، داستان وجود میں آتی تھی، لوگ ساری ساری رات بیٹھ کر ان کو سنتے تھے کہ لیلیٰ نے یہ کہا مجنوں نے یہ کہا ، لیلیٰ اس طرح کرتی تھی مجنوں اس طرح کرتا تھا، اب یہی لوگ لیلیٰ بھی خود ہیں اورمجنوں بھی خود ہیں اوراپنی ذات اورپنے عشق میں مبتلا ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کراچی ملک کاسب سے برا شہر ہے اور معاشی شہ رگ ہے اور طویل عرصہ سے مشکلات سے دوچار ہے، لوگوں کا یہی خیال تھا کہ بلدیاتی الیکشن ہو گا حکومت بنے گی اورلوگوں کے مسائل حل ہو ں گے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے عوام کے سینوں پر ایسے تیر چلائے کہ لوگ پھر رونے لگے اورسینہ کوبی کرنے لگے کہ یہ ہمارے ساتھ کیا، کیا۔بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا ، پھر اس جمہوریت پر کون یقین کرے گا ، کون شناختی کارڈ پکڑ کر قطار میں کھڑے ہو کر ووٹ دینے کے لئے انتظار کرے گا،میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے شعوری کوشش کی کہ لوگوں کا اعتماد بیلٹ باکس پر بالکل ختم کریں اورجمہوریت کو کراچی کی گلیوں اور کوچوں میں دفن کریں لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میئر کے الیکشن کو معطل کرکے دوبارہ الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔
سراج الحق نے کہا کہ میئر کراچی کے انتخاب کے معاملہ پر عدالت جائیں اور اس حوالے سے ہم تیاری کررہے ہیں۔ ایک طرف 173اوردوسری طرف193ہیں، اب 173جیت جاتے ہیں اور193ہارجاتے ہیں، پیپلز پارٹی نے کراچی کی میئرشپ حاصل کرنے کی جو بھونڈی کوشش کی ہے یہ ان کو ہضم نہیں ہو گی، یہ ہضم نہیں کرسکتے۔
انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اگر عام انتخابات نہیں کروائے جاتے تو پھر کیاآپ کیا کریں گے، کیاآپ مارشل لاء چاہتے ہیں، کیاآپ ایمرجنسی پلس چاہتے ہیں، کیاآپ غیر آئینی حکومت چاہتے ہیں،میں سمجھتاہوںکی موجودہ حکومت کوایکسٹینشن دے کر پانچ،چھ،10ماہ یاایک سال بھی ملک گیا توکیااس سے قوم کامسئلہ حل ہو گا،عام آدمی کا مسئلہ حل ہوگا،کیا ظلم، جبر، مہنگائی اوربیروزگاری میں کمی آئے گی،
انھوں نے کہا کہ یہی صبح اورشام جھوٹ کی بنیاد پر حکومتیں چل رہی ہیں، اب اچھے دن آرہے ہیں، اب اچھے دن آرہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے اعلان کیا تھا کہ میں دیکھتا ہوںکہ ڈالر کس طرح اوپر جاتا ہے، اب ڈالر کہاں پہنچ گیا اورڈار صاحب کہاں رہ گئے، زمین اورآسمان کے فاصلے پر ہیں۔
سراج الحق نے کہا کہ اس وقت ایک ہی آپشن ہے کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے۔ اس حکومت کو اب رخصت ہونا چاہیے اور کوئی بہانہ بنا کر اپنی مدت میں توسیع کرنا قوم کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہو گا۔اب ہم نے اپنے مسائل خود حل کرنے ہیں ،اپنے پائوں پر کھڑے ہونا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم اب آپشن کی تلاش میںہے اور میں کہتا ہوںکہ وہ آپشن اورمتبادل صرف اورصرف جماعت اسلامی ہے۔ انہوںنے کہا کہ جس دن اس ملک میں صحیح جمہوریت قائم ہو گئی وہی دن جماعت اسلامی کی ترقی ، عروج اورحکومت میں آنے کا دن ہو گا، اس ملک میں جمہوریت ایک دن کے لئے قائم نہیں ہوئی، یہ توایک مینجمنٹ ہے پہلے سے صوبے تقسیم ہوتے ہیں، یہ طے کیا جاتا ہے کہ کس حلقے میں ہم نے کس کو کامیاب کرنا ہے،
انھوں نے کہا کہ اگر جمہورت کوآزادی دیں تویوں سمجھیں کہ آپ نے جماعت اسلامی کی حکومت کے لئے راستہ ہموارکردیا۔ جب یہاں جمہوریت ہو گی جماعت اسلامی آگے آئے گی، اس وقت الیکشن یرغمال ہے، اس وقت جمہوریت یرغمال ہے، میں کہتا ہوں اس ملک میں صرف مسلح دہشت گردی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی دہشت گردی ہے اورعوام ان دہشت گردوں کے خلاف نہ اٹھے اس وقت تک حقیقی خوشحالی نہیں آسکتی۔


