لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس کی 19دسمبر 2022 کو ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے منیر احمد کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف دائر درخواست پر جاری کیا گیا حکم پانچ صفحات اور آٹھ پیراگراف پر مشتمل ہے۔ دوران سماعت درخواست گزار کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ اور وفاقی حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شیراز ذکا پیش ہوئے۔

پیراگراف 1۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ درخواست گزار کی اسدعا ہے کہ وطن عزیز کی آزادی سے لے کر اب تک وزرا اعظم اور صدور کو جتنے بھی تحائف ملے ہیں ان کی تفصیلات اسے فراہم نہیں کی جا رہیں اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ معلومات خفیہ ہیںاور یہ معلومات تک رسائی کے قانون 2017 کی شق 7 کی ذیلی شقوں ایف اور جی جبکہ شق 16 کی ذیلی شق اے کیدائرہ کار میں آتی ہیں۔

پیراگراف2۔
متعدد درخواست گزاروں کی طرف سے توشہ خانہ کی معلومات حاصل کرنے کے لئے کابینہ ڈویژن سے رجوع کیا گیالیکن ان کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں اور کہا گیا کہ ان معلومات کو عام کرنا پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے اس سے بیرونی دنیا سے تعلقات متاثر ہوں گے اور اگر یہ معلومات عام کی گئیں تو اس سے پرائیویسی کو بھی نقصان پہنچے گا۔ درخواست گزار کی طرف سے موقف اپنایا گیا کہ کابینہ ڈویژن کی طرف سے کئے گئے اس انکار کے خلاف دائر کی گئی اپیلیں انفارمیشن کمیشن نے منظور کیں اس کے باوجود یہ معلومات دینے سے انکار کیا جا رہا ہے اور وفاقی حکومت دعوی کر رہی ہے کہ اسے یہ معلومات خفیہ رکھنے کا استحقاق حاصل ہے وفاقی حکومت کے اس موقف کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

پیراگراف3۔
درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ اس عدالت کے پاس توشہ خانہ میں وصول کئے گئے تحائف کی معلومات طلب کرنے کا اختیار موجود ہے حتی کہ یہ عدالت وہ معلومات بھی منگوا سکتی ہے جنکو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت کلاسیفائیڈ کیا گیا ہے۔

پیراگراف4۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پہلا سوال یہ ہے کہ جو دستاویزات مانگی جا رہی ہیں کیا وہ خفیہ دستاویزات ہیں یا نہیںان دستاویزات کے حوالے سے متعلقہ قانون کے آرٹیکل 6 کے تحت جائزہ لیا جائے گا اس حوالے سیحقائق کو قانون شہادت آرڈر 1984 کے تحت بھی دیکھنا ہو گا۔ عدالت نے لکھا ہے کہ ایک طرف تو 28 اپریل 2022 کو ایک خط کے ذریعے استحقاق مانگا گیا اور 18 دسمبر 2018 کے آفس میمورنڈم کے تحت تحائف قبول کرنے اور ان کو نمٹانے کا میکانزم موجود ہے جسے کے لئے اسیسمنٹ کا انتظام کیا جاتا ہے وہ اسیسمنٹ ایف بی آر میں موجود حکومتی ماہرین یا پرائیویٹ تخمینہ کار کابینہ کی طرف سیکی جاتی ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ اگر ایک پرائیویٹ آدمی ان تحائف کی اسیسمنٹ کرسکتا ہے تو یہ معلومات خفیہ کیسے ہو سکتی ہے اور پاکستان کے شہری کو اس طرح کی معلومات دینے سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہیاس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ حکومت یا عوامی عہدیدار جو بھی تحائف وصول کرتے ہیں وہ ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں اور ان کو 18 دسمبر 2018 کے آفس میمورنڈم کی روشنی میں ہی نمٹایا جاتا ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ ان تحائف کو قومی اثاثے کا سٹیٹس مل جاتا ہے اگر کوئی حکومتی یا عوامی عہدے داریہ تحائف حاصل کرتا ہے تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسے ڈکلیئر کرے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ ان حالات میں یہ دیکھنا ہے کہ 1947 سے لے کر اب تک وزرائے اعظم اور صدور کو ملنے والے تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو خفیہ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

پیراگراف5۔ عدالت نے لکھا ہے کہ یہ معلومات یا دستاویزات عام کرنے کا حکم دینے سے پہلے ان
سوالات کا جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس ضمن میں انفارمیشن ایکٹ کی شق 6،7 اورقانون شہادت آرڈر 1984 کی شق 158 کی تشریح کی بھی ضرورت ہے۔

پیراگراف6۔
عدالت نے دفتر کو ہدایت کی ہے کہ درخواست کے فریق نمبر ایک اور دو کو 16 جنوری 2023 کے لئے نوٹس جاری کریاور یہ نوٹس کورئیر کے ذریعے بھجوائے جائیں۔

پیراگراف7۔
عدالت نے فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود تمام دستاویزات ، مواد سرکاری پیغام رسانی کی تمام دستاویزات پیش کریں تاکہ عدالت ان کا جائزہ لے کر حکومت کے اس دعوے پر غور کر سکے جس کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ توشہ خانہ کی معلومات خفیہ ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ فریقین اپنی تفصیلی رپورٹس بھی جمع کروائیں جن میں بتائیں کہ وہ کس بنیاد پر توشہ خانہ کی ان معلومات کو خفیہ رکھنے اور ان دستاویزات کو عام کرنے سے استثنا کا دعوی کرتے ہیں۔ فریقین یہ بھی وضاحت کریں کہ ان دستاویزات یا معلومات کو عام کرنے سے عوامی مفاد کو کیسے نقصان پہنچے گا اور اس سے ملک کے عالمی تعلقات کیسے متاثر ہوں گے۔

پیرا گراف 8
میں عدالت نے مقدمہ قابل سماعت ہونے سے متعلق متفرق درخواست منظور کرنے کا حکم لکھا ۔
عدالت نے کیس کی سماعت 16 جنوری تک ملتوی کی ہے۔