اسلام آباد(ای پی آئی ) جوڈیشل اکیڈمی کے انتظامی افسر کی اہلیہ ثومیہ عاصم رضوانہ تشدد کیس میں شامل تفتیش ہو گئیں ،

ملزمہ نے تفتیشی ٹیم کے سامنے صحت جرم سے انکار کردیا ۔

ثومیہ عاصم نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہاکہ بچی ہمارے گھر پر ملازمہ تھی اور نہ ہی کام کرتی تھی، بچی کے والدین کو امداد کے طور پر ابتک 60ہزار روپے بھیجے تھے،پیسے اپنے شوہر کے موبائل اکاؤنٹ سے بھیجے تھے،

ملزمہ کا مزید کہنا تھا کہ بچی پر کوئی تشدد نہیں کیا اسے سکن الرجی تھی،بچی کے سر پر چوٹ کیسے لگی ہمیں نہیں،

ملزمہ کا کہناتھا کہ اس خاندان کے 10بچے ہیں ایک بچی اپنے پاس رکھ کر ان کی مدد کر رہے تھے،بچی کے سر کے زخم پر کبھی نظر ہی نہیں پڑی تھی،بچی کو اسلام آباد میں 26نمبر چونگی پر والدین کے حوالے کیا تھا،

سپیشل جے آئی ٹی نے ملزمہ سے تحریری جواب بھی طلب کرلیا۔یاد رہے کہ ملزمہ ثوبیہ عاصم رضوانہ تشدد کیس میں عبوری ضمانت پر ہیں۔