اسلام آباد(ای پی آئی )رضوانہ تشدد کیس کی ملزمہ سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی جانب سے درخواست ضمانت قبل از گرفتار ی مسترد کر دی گئی،پولیس گرفتار کرلیا ،
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ملزمہ سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت ہوئی ،ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید بلوچ نے کیس کی سماعت کی،جج کی اہلیہ ملزمہ سومیہ عدالت میں پیش ہوئیں۔
وکیل ملزمہ نے کہاکہ ریکارڈ میں پولیس نے لکھا کہ ملزمہ سومیہ عاصم نے تشدد نہیں کیا،سومیہ عاصم نے ملازمہ کو واپس بھیجنے کا بار بار کہا،
سومیہ عاصم نے بچی کو اس کی والدہ کو صحیح سلامت دیا،ہم کہتے ہیں ویڈیو موجود ہے، کیا تفتیشی نے ویڈیو حاصل کی؟بس سٹاپ پر 3گھنٹے کی ویڈیو موجود ہے،کل آخری دن ہے پھر وہ ویڈیو کا ڈیٹا ختم ہو جائے گا۔
عدالت کی جانب سے تفتیشی کو ویڈیو لینے کی ہدایت کردی گئی، جج فرخ فرید نے کہاکہ تفتیشی کاک کام دونوں سائیڈ سے ثبوت حاصل کرنا ہے ،
دوران سماعت پراسیکیوشن کے ملزمہ سومیہ عاصم کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کردی ۔
جج فرخ فرید نے استفسار کیا کہ ملزمہ سومیہ عاصم کے خلاف کیس کا ریکارڈ کدھر ہے ؟وکیل ملزمہ نے کہاکہ ملزمہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی اور بے گناہی کااظہار کیا،کیس ملتوی ہونے سے ہمارے گواہان پر اثرانداز ہونے کا خطرہ ہے، وکیل ملزمہ کی جانب سے ایف آئی آر پڑھ کر سنائی، ویڈیو دکھائی گئی ۔
وکیل ملزمہ نے کہاکہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملازمہ گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہے،گاڑی کی بیک سیٹ پر ملزمہ سومیہ اور ملازمہ کی والدہ بیٹھی تھیں،گاڑی میں بیٹھی ملازمہ پر اس کی والدہ نے تشدد کیا، 3سے 4مکے مارے،بچی ماں کے ساتھ بھی بس سٹاپ پر بیٹھی ہے اور صحیح سلامت نظر آرہی ہے، الزام ہے کہ سول جج کے گھر گئے تو بچی زخمی تھی، رو رہی تھی،الزام لگایا گیا کہ بچی کا سر زخمی تھا اور کپڑے پھٹے ہوئے تھے، بچی بس سٹاپ پر ڈھائی گھنٹے بیٹھی رہی اور ایک بار بھی سر نہیں کھجایا۔
وکیل صفائی نے کہاکہ میڈیکل رپورٹ24جولائی سرگودھا کی اور مقدمہ 25جولائی کا ہے،الزام لگایا گیا بچی پر روز ڈنڈوں سے تشدد ہوتا تھا، بھوکا، پیاسا رکھا گیا، بچی سرگودھا بھی جاتی ہے اور مہمانوں سے بھی ملتی ہے،
سومیہ عاصم کے خلاف من گھڑت کہانی بنائی گئی ہے،ویڈیو میں 2کردار اور بھی ہیں جن کی ویڈیو مقامی ہوٹل سے ملی، عدالت سے پہلے سومیہ عاصم کا میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بچی ہسپتال 3بجے صبح پہنچتی ہے، یہ رپورٹ کہاں ہے؟طبی رپورٹ کے مطابق 23جولائی کو 5بجے انجری ہوئی، پولیس کو کہا گیا کہ بچی بیان دینے کی حالت میں نہیں، میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے بتایا کہ فریکچر نہیں ہے۔
مدعی وکیل نے کہاکہ ملزمہ کس بنیاد پر ضمانت میں توسیع مانگ رہی ہے ،کیا خاتون کوئی بھی جرم کرلے اور اس کو ضمانت دے دی جائے؟اگر خاتون کو ایسے ہی ضمانتیں ملتی رہیں تو معاشرہ ختم ہو جائے گا، کریمنل پھر خواتین سے جرم کروا کے قانون کا سہارا لیں گے۔
جج فرخ فرید نے کہاکہ پرویز مشرف کے دور میں ایسا ہی ایسا کیس ہوا تھا،
مدعی وکیل نے کہاکہ کیا گیا کہ پیسے دیئے گئے، کیوں پیسے دیئے گئے؟الزام لگایا گیا کہ بچی کے والدین نے بلیک میل کیا؟ کیوں ہوئے بلیک میل؟
حقیت ہے بچی کے والدین سے رابطہ کرکے پیسوں کی آفر کی گئی۔ جج فرخ فرید بلوچ نے کہا کہ ملزمہ کو کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں،
میرے لئے بھی مشکل ہے میرے کولیگ کی اہلیہ ہیں، لیکن جہاں انصاف کی بات ہو گی تو میں نے انصاف کرنا ہے ۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری مسترد کردی اور گرفتار کرنے کاحکم دیدیا۔


