بہاولنگر (ای پی آئی ) دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے باعث تباہی کا نہ رلنے والا سلسلہ جاری ہے ،

بہاولنگر میں 150 کلو میٹر کے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی ،متعدد دیہات زیرآب آ گئے ، کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، بہاولپور میں واقع زمیندارہ بند ٹوٹ گیا،کئی دیہاتوں کا آپس میں رابطہ منقطع ہو گیا،

رحیم یار خان میں بھی سیلابی پانی کئی بستیوں میں داخل ہو گیا ۔بہاولنگر میں دریائے ستلج کے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی ہے، ضلعی انتظامیہ نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے متعلق سرکاری اعدادوشمار جاری کر دیئے ۔

اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو کر نقل مکانی کر چکے ہیں اور ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلاب سے 157 دیہات سیلابی پانی سے متاثرہوئے، 17 ہزار 549 گھروں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچا، متعدد عارضی حفاظتی بند ٹوٹ گئے اور رابطہ سڑکیں پانی میں بہہ گئیں جس کے باعث 100 سے زائد آبادیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریائی علاقے میں قائم 43 سکول سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئے اور درجنوں آبادیاں تاحال پانی کی لپیٹ میں ہیں۔ بہاولپور میں واقع زمیندارہ بند ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے۔

رحیم یار خان کے علاقے لیاقت پور میں کچے کے علاقے غفور آباد میں سیلابی پانی 3 بستیوں میں داخل ہوگیا۔علاقہ مکینوں کے مطابق غفور آباد کے ارد گرد کے علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جس سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقے میں محکمہ لائیو سٹاک کی جانب سے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیا گیا ۔