اسلام آباد (چوہدری شاہد اجمل) صارفین کے آن لائن ڈیٹا کے تحفظ اور سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے دو مجوزہ قوانین کی منظوری،

سیفٹی بل 2023 اور پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023 پر صحافیوں اور ڈیجیٹل رائٹس کی تنظیموں کے تحفظات سیفٹی اتھارٹی کا قیام غیر ضروری، صحافی اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے افراد نشانہ بنیں گے،صحافی بلز کی منظوری کے بعد آن لائن ہراسانی، سائبر بلئنگ، بلیک میلنگ جیسے جرائم کو روکا جا سکے گا،

حکومت وفاقی کابینہ کی جانب سے صارفین کے آن لائن ڈیٹا کے تحفظ اور سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے مجوزہ قوانین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، 27جو لائی کو کابینہ میںای سیفٹی بل 2023 اور پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023 کی اصولی منظوری دی گئی ہے جبکہ کابینہ نے پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023 کو نافذ کرنے کے لیے ای سیفٹی اتھارٹی کے قیام کی بھی منظوری دی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان بلوں میں آن لائن ہراسانی، سائبر بلئنگ اور بلیک میلنگ جیسے جرائم کے متاثرین کی داد رسی کے لیے نئی اتھارٹی کا قیام شامل ہے۔

تاہم صحافیوں اور ڈیجیٹل رائٹس کی تنظیموں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ متعلقہ تنظیموں اور افراد سے مشاورت کیے بغیر غیر شفاف انداز میں کی جانے والی قانون سازی سے انٹرنیٹ سینسرشپ میں اضافہ ہو سکتا ہے اس سے آن لائن کام کر نے والے صحافی اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے افراد نشانہ بنیں گے جبکہ اس ضمن میں حکومتی اختیارات مزید وسیع ہو سکتے ہیں کیونکہ غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ڈیٹا مقامی سطح پر سٹور کرنے کے لیے دبا ڈالا جا رہا ہے جس سے معاشی مشکلات سے دوچار ملک کی ڈیجیٹل اکانومی اور صارفین کی سروسز تک رسائی متاثر ہو سکتی ہیں،

اس وقت پی ٹی اے قابل اعتراض مواد پر صارفین کو نوٹس بھیجتا ہے یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اسے حذف کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ ایف آئی اے قابل اعتراض مواد پر باقاعدہ کارروائی کرتا ہے اور اس ضمن میں مقدمہ درج کر کے کارروائی کی جاتی ہے۔ ایک اضافی اتھارٹی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

اس سے پہلے سائبر کرائمز ایکٹ کے ذریعے صحافیوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔اس بل کا مسودہ تاحال عوامی سطح پر شیئر نہیں کیا گیا تاہم سرکاری اعلامیہ کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت ملک میں تمام قسم کی آن لائن سروسز، آن لائن خریداری، مختلف کمپنیوں کو دیے جانے والے کوائف اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنایا جائے گا جبکہ آن لائن ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ایک جامع فریم ورک بنایا جائے گا۔

اعلامیہ کے مطابق بل کی منظوری کے بعد آن لائن ہراسانی، سائبر بلئنگ، بلیک میلنگ جیسے گھناونے جرائم کو موثر طریقے سے روکا جا سکے گا۔ایک سرکاری بیان کے مطابق ڈیٹا پروٹیکشن بل کا مقصد صارف کے ڈیٹا کا تحفظ اور انفارمیشن سسٹم کے غیر قانونی استعمال کو روکنا ہے، یہ بل ہر قسم کی آن لائن خدمات پاکستان میں مختلف کمپنیوں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو فراہم کردہ ڈیٹا کے غیر مجاز استعمال کو روکے گا اور اس کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

ای سیفٹی بل کا مقصد آن لائن ہراساں کرنے، سائبر بدمعاشی، بلیک میلنگ جیسے جرائم کو روکنا ہے، بل کے تحت نئی ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا تصور دیا گیا ہے جسے” دی ای سیفٹی اتھارٹی” کا نام دیا جائے گا، یہ اتھارٹی بظاہر ویب سائٹس، ویب چینلز، یوٹیوب چینلز اور میڈیا ہاوسز کی موجودہ ویب سائٹس کی رجسٹریشن اور نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔

وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کی وفاقی کابینہ سے اصولی منظوری کے بعد قواعد کے تحت اسے کابینہ کمیٹی برائے امور قانون سازی بھیجا جائے گا جس کی منظوری کے بعد اسے دوبارہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور منظوری کے بعد یہ قانون بن کر فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔تاہم انٹرنیٹ پر موجود پلیٹ فارمز کی نمائندگی کرنے والے عالمی اداروں نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کے مسودے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس سے پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

ڈیجیٹل رائٹس کی کارکن فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ ان مجوزہ قوانین کے مطابق یوٹیوب اور سوشل میڈیا سمیت انٹرنیٹ پر مواد کی نگرانی کے لیے ایک نئی اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ فی الحال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ(ایف آئی اے)آن لائن مواد کی نگرانی کرتے ہیں،

خدشہ ہے کہ اس نئی اتھارٹی کو میڈیا، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر دیگر پلیٹ فارمز کے مواد پر بھی اختیار حاصل ہو گا۔ بظاہر آن لائن مواد کے حوالے سے ریاستی اختیارات وسیع تر ہو جائیں گے۔ یعنی یہ مجوزہ قوانین نہ صرف صحافیوں بلکہ یوٹیوب پر کونٹینٹ کریئیٹرز، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے انفلوئنسرز کے لیے بھی باعث تشویش ہیں۔ ایسا نہیں کہ ملک میں انٹرنیٹ سینسرشپ اور آن لائن مواد کی نگرانی کے لیے سخت فریم ورک نافذ العمل نہیں اور نہ ہی بات سیاسی یا دیگر متنازع موضوعات تک محدود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صحافی اور سوشل میڈیا صارفین پی ٹی اے کے نوٹس یا ایف آئی اے کی طلبی سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ لوگ اپنا مواد ہٹانے پر مجبور ہوتے ہیں اور آئندہ کچھ بھی شائع کرنے سے جھجھکتے ہیں۔ حکومت انٹرنیٹ کی مزید سخت نگرانی کے لیے سائبر بلئنگ اور ہراسانی جیسے سنگین مسائل کو بطور جواز پیش کر رہی ہے۔ پیکا پر بھی یہی ہراسانی کا بیانیہ بنایا گیا، نیشنل ایکشن پلان کے وقت ویب سائٹس کی بندش کے لیے انتہا پسندی کا جواز دیا گیا۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی اچھے اقدام کی آڑ میں حکومتی ادارے اپنے اختیارات کو وسیع کرتے ہیں۔ پیکا کی دو، چار مخصوص شقیں ہیں جنھیں بار بار(میڈیا کودبانے کے لیے)استعمال کیا جاتا ہے۔

وزارت آئی ٹی کے حکام کا اس حوالے سے کہناہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران ڈیٹا پروٹیکشن بل پر مقامی و بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز سے کئی بار مشاورت کی گئی ہے جس کے بعد بل میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں سے تمام ڈیٹا پاکستان میں اسٹور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، بلکہ صرف کریٹیکل پرسنل ڈیٹا ملک کے اندر اسٹور کرنا لازم ہوگا۔

وزیر آئی ٹی نے مزید کہا کہ ای سیفٹی بل پر اہم سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ اس بل کی کابینہ نے اصولی منظوری دی ہے اور تفصیلی غور و فکر کے بعد اسے مسودے کی شکل دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 میں پہلے سے ہی سائبر بلنگ، آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جا چکی ہے۔

وزارت آئی ٹی کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا کہ ای سیفٹی اتھارٹی کے قیام کا مقصد شہریوں، کاروبار کے ساتھ ساتھ سرکاری اور نجی اداروں دونوں کے آن لائن حقوق کا تحفظ کرنا اور انہیں بلیک میلنگ سے بچانا ہے۔ اس وقت پی ٹی اے کے پاس آن لائن مواد کی نگرانی اور ویب سائٹس سے متعلقہ قوانین کے نفاذ کو چیک کرنے کا اختیار ہے جب کہ ایف آئی اے سائبر کرائم قوانین کو نافذ کرتی ہے۔

تاہم مجوزہ ای سیفٹی اتھارٹی تمام ویب سائٹس کے مواد کی نگرانی کرے گی۔ متعلقہ قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے گی اور جرمانے بھی عائد کرے گی۔ اتھارٹی کا قیام ضروری تھا۔ سامنے آنے والے سائبر کرائم کیسز کی رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے جب کہ پی ٹی اے ریگولیٹری کا کردار کرتا ہے جو کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے متعلق خلاف ورزیوں تک محدود ہے۔ نئی مجوزہ اتھارٹی کو ویب چینلز سمیت ویب سائٹس کو لائسنس دینے کا اختیار حاصل ہوگا اور وہ موجودہ نیوز اور میڈیا ویب سائٹ کو بھی ریگولیٹ کرے گی۔

ڈیٹا پروٹیکشن قانون مختلف آن لائن سروسز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ای کامرس ویب سائٹس سمیت خبروں اور تفریحی ویب سائٹس وغیرہ کے ذریعے جمع کیے گئے ڈیٹا کی رازداری کو یقینی بنائے گا۔ مجوزہ بل کی روشنی میں گمنام یا کسی فرضی ڈیٹا کو ذاتی ڈیٹا نہیں سمجھا جاتا۔ اس قانون سازی کے تحت وہ تمام ادارے جو پاکستان میں ڈیٹا جمع کرتے ہیں، اسے برقرار رکھتے ہیں یا ڈیجیٹل یا نان ڈیجیٹل ڈیٹا پروسیسرز ہیں انہیں مقامی طور پر خود کو رجسٹر کرنا ہوگا اور اپنے اداروں میں ڈیٹا پروٹیکشن افسر بھی مقرر کرنا ہوگا۔

رجسٹریشن کا کام نیشنل کمیشن فار پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (این سی پی ڈی پی)کے ذریعے کیا جائے گا۔ یہ کمیشن بل کی منظوری کے چھ ماہ کے اندر قائم کیا جانا ہے۔ یہ کمیشن صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر مقامات پر اپنے ذیلی دفاتر قائم کر سکتا ہے۔ پہلی بار پروٹیکشن آف پرسنل ڈیٹا بل 2021 کی شکل میں سامنے آنے والے اس بل کی عمران خان کی زیرقیادت کابینہ نے فروری 2022 میں منظوری دی تھی۔

پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کہنا ہے کہ مجوزہ بل کے حوالے سے ابھی تک صحافیوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی لگ بھگ تمام صحافی سوشل میڈیا پر خبریں اور پوسٹیں شیئر کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے کئی صحافی حکومت کی تنقید اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بھی بنتے ہیں جبکہ اسی وجہ سے ہمارے کچھ ساتھی اپنے جانوں سے گئے ہیں اور کئی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ،اس لیے ہم اس قانون کو نہیں مانتے بلکہ اگر حکومت نے بغیر مشاورت کے ایسا کوئی اقدام اٹھایا تو اس کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے ،

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے پی ٹی اے کے پاس متنازعہ پوسٹیں ہٹانے، اکائونٹس کو بلاک کر نے کا اختیار موجود ہے اور ایف آئی اے اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرتاہے تو بھی نئی اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے اور ”دال میں کچھ کالا”نظر آتا ہے۔

بل کی کابینہ سے منظوری کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ایشیا انٹرنیٹ کولیشن (اے آئی سی) نے ڈیٹا پروٹیکشن بل کے حوالے سے خدشات کا اظہارکیاہے۔اے آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹرجیف پینی کا کہنا ہے کہ موجودہ شکل میں یہ بل ڈیٹا کے تحفظ کے لیے عالمی معیارات پر پورا نہیں اترتا اور غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے جس سے کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہو گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو جائے گی۔

اس کا کہنا ہے کہ بل کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صارفین کا حساس ڈیٹا مقامی سطح پر اسٹور کرنا ہو گا، یعنی اس سے تمام ذاتی ڈیٹا کی سرحد پار منتقلی روکی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستانی صارفین عالمی ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی کھو دیں گے۔

اے آئی سی نے کہا ہے کہ پاکستانی صارفین، کاروباروں اور ملکی پیداوار کے لیے یہ ایک اہم قانون سازی ہے جس کے لیے حکومت کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شفاف انداز میں مشاورت کرنا ہو گی۔ ڈیجیٹل حقوق کی مہم چلانے والی اور میٹا بورڈ کی رکن نگہت داد کا کہناہے کہ بل میں جس موضوع پر بات کی گئی ہے وہ بہت اہم ہے لیکن اس پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ خفیہ انداز غیر جمہوری ہے۔ جس سے اس کے پیچھے چھپی سوچ ظاہر ہو تی ہے۔

اسلام آباد کے سینئر صحافی وقار ستی نے بتا یا کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کر نے کی بنیاد پر ان کے خلاف تو ہین مذہب کا مقدمہ درج کر لیا گیا جس کی سزاموت ہے ،

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ مقدمہ سیاسی تھا لیکن اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو دفعات مجھ پر اس مقدمے کی ایف آئی آر میں لگائی گئی تھیں ان کے تحت اگر ٹرائل کیا جا تا تو مجھے سزائے موت ہو سکتی تھی لیکن میں نے عدالت کے اندر اس مقدمے کو لڑا اور سرخرو ہوا اور ایف آئی آر کو عدالتی حکم پر ختم کیا گیا ۔

صحافی برادی پہلے ہی کئی طرح کی سنسر شپ اور پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے ایسے میں یہ قانون آزادی صحافت پر قدغن کے مترادف سمجھا جا رہا ہے حکومت اس کو تنقید کر نے والے صحافیوں اور ویب سائیٹس کے خلاف استعما ل کر ے گی جس سے عالمی سطح پر آزادی صحافت کی درجہ بندی میں پاکستان مزید تنزلی کا شکار ہو سکتا ہے ۔