لاہور(ای پی آئی ) 9 مئی کوجلاؤ گھیراؤ کرنے اور شیرپاؤ پل پر انتشار انگیز تقاریر کے مقدمے میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں پیش کردیا،

عدالت نے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کی جج عبہر گل خان نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مقدمے میں بغاوت، جنگ چھیڑنے اور عوام کو فسادات پر اکسانے کی دعات شامل کردی گئی ہیں۔

تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ نئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ڈاکٹر یاسمین راشد کا دوبارہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد کا 5 پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا اور 14 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ تھانہ سرور روڑ پولیس نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف مقدمہ درج کررکھا ہے۔دریں اثنا انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے تھانہ شادمان میں درج جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں گرفتار 6 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔پولیس نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد گرفتار 6 ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش کیا، تاہم عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 6 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ۔

ملزمان میں ارباز ،عبد الحفیظ ،فہیم قیصر ،طاہر خان محمد گل اور غلام عباس شامل ہیں۔تھانہ شاد مان پولیس نے ملزمان کو عدالت پیش کیاعلاوہ ازیں پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں خدیجہ شاہ کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کردیا۔

پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی دفعات کی روشنی میں ملزمہ خدیجہ شاہ سے تفتیش کرنی ہے ۔ عدالت جسمانی ریمانڈ منظور کرے۔