اسلام آباد (ای پی آئی )عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےاٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے کہا ہے کہ آرٹیکل 184/3 کے بے دریغ استعمال سے کورٹ کا تشخص متاثر ہوتا ہے،

سپریم کورٹ کے جوڈیشل اور انتظامی معاملات میں شفافیت کی ضرورت ہے، عام سائلین کے مقدمات کے بلا تاخیر فیصلے ہونے چاہئیں۔

انھوں نے کہا کہ کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، کیسز کم کرنے کی کاوشوں کو سراہتے ہیں تاہم ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، عام سائلین کے مقدمات کے بلا تاخیر فیصلے کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو اپنی توانائیاں 185 کے تحت آئے کیسز کو سننے میں صرف کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت سیاسی اور ہائی پروفائل کیسز کی وجہ سے عام سائلین کے کیسز متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ 184/3 کے مقدمات غیر معمولی، عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے معاملات میں ہونے چاہئیں۔

منصور عثمان اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کا اختیار استعمال کرتے ہوئے عدالت کو اختیارات کی آئینی تقسیم کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔انہوںنے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کے اصول کا خیال نہیں رکھا جاتا ، عدالت پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیو کے اختیار میں مداخلت کرتی ہے، آرٹیکل 184/3 کے بے دریغ استعمال سے کورٹ کا تشخص متاثر ہوتا ہے، سپریم کورٹ کے جوڈیشل اور انتظامی معاملات میں شفافیت کی ضرورت ہے۔

اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ججز کی تعیناتیاں اور بینچز کی تشکیل چیف جسٹس کرتے ہیں۔