اسلام آباد (ای پی آئی ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے سائفر کیس میں عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موت برحق ہے، جیل میں جہاں قید ہوں اس سے چند قدم دور پھانسی گھاٹ ہے۔

انھوں نے کہا کہ غداری کی نہ کریں گے، ملک ہمارا ہے جو ہمیں عزیز ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں نے کبھی ملک سے غداری نہیں کی، اعتماد سے کہتا ہوں کہ ملک کا وفادار ہوں، ملک سے غداری کی ہے تو پھانسی گھاٹ پر لٹکا دیا جائے، قبول کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین ایک ہی تھے اور ہیں، اس میں کوئی ابہام نہیں ہے، میں نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کو اولیت دی۔

انہوں نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا، پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ سے متعلق قیاس آرائیاں اور غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اڈیالہ جیل میں قیدِ تنہائی کاٹ رہا ہوں، دیگر قیدیوں کی طرح مجھے جیل سے باہر چہل قدمی نہیں کرنے دی جاتی۔

ان کا کہنا ہے کہ میری فیملی اس وقت سب سے زیادہ ٹارچر سے گزر رہی ہے، میں 9 مئی کے واقعات میں بے قصور ہوں، میں موجود ہی نہیں تھا، اس وقت میری اہلیہ بیمار تھیں، میں ان کی تیمار داری کر رہا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک معاشی اور آئینی بحران کا شکار ہے، جس کا حل شفاف انتخابات ہیں، ذاتی انا سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا، ملک مشکل میں ہے، اپنے رویوں پر سب کو نظرِ ثانی کرنی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیرِ خارجہ ہمیشہ اداروں کا دفاع کیا، انصاف میں دیر ہو سکتی، اندھیر نہیں ہونا چاہیے، جیل میں مجھے گھر کا کھانا نہیں ملتا، عام قیدیوں والا ہی ملتا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے یہ بھی بتایا ہے کہ فیملی سے کل ملاقات ہوئی ہے، بچے اور اہلیہ اڈیالہ جیل آئے تھے۔