اسلام آباد (چوہدری شاہد اجمل) صحافی ہیکنگ سے بچنے کیلئے مضبوط پاس ورڈکے ذریعے ڈیٹاکو محفوظ بنا سکتے ہیں
اگر ڈیجیٹل تحفظ کو خطرہ ہو تو آپ کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے،نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے صحافیوںکے فون اور تکنیکی آلات تک باآسانی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے.
ڈیجیٹل دور میں جہاں اب آن لائن اخبار، میگزین، یوٹیوب چینلز، انفرادی یا اجتماعی گروہی برانڈڈ نیوز آئوٹ لیٹس اور برانڈڈ صحافی سامنے آ رہے ہیں ایسے میں سائبر سپیس میں صحافیوں کو محفوظ بنانے کیلئے انہیںایسی ابلاغی ایپس سے متعارف کروایا جا سکتا ہے، جن کا ڈیٹا لینا مشکل ہے۔صحافیوں کو ای میلز ہیکنگ سے بچنے کیلئے لمبے، عجیب حروف اور مضبوط پاسورڈ سکھانے اور جاسوسی سے نبٹنے یا معلومات کو محفوظ رکھنے کیلئے ڈیٹاکو خفیہ بنانے کا طریقہ سکھا کر قدرے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
سیف باکس (SafeBox Network) کو مغربی دنیا میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے گلوبل کانفرنس 2022 میں متعارف کروایا گیا ہے۔اس کا استعمال پوری دنیا کے صحافیوں کو سکھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ صحافی محفوظ سائبر سپیس میں اپنے صحافتی پیشہ وارانہ امور کو ایمانداری اور جانی تحفظ کی فکر سے آزاد ہو کر پورا کر سکیں،پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ان کے مو بائل ،لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر سے ڈیٹا خفیہ دیوائسز کی مدد سے نکال لیا گیا اور بعد ازاں انہیں اسی نکالی گئی معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا یا ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی.
آج کل اگر ڈیجیٹل تحفظ کو خطرہ ہو تو آپ کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، اب حکومت فزیکل نگرانی کی بجائے سمارٹ فون کے ذریعے نگرانی کرتی ہے، یہی حکومت کا پیغام رساں آلہ ہے، نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے صحافیوںکے فون اور تکنیکی آلات تک باآسانی رسائی رکھ سکتی ہے، کچھ عرصہ قبل اسرائیلی ریاستی فرم نے پیگاسس نامی سافٹ وئیر کے ذریعے صحافی کے ڈیجیٹل آلات تک رسائی کا سافٹ وئیر بنا کر استعمال کیا۔
13جنوری 2023 کوبول نیوز کے صحافی شاہد اسلم اور اس ایک ایسے کیس میں گرفتار کیا گیا جس میں انہیںاس کیس میں اپنی نامزدگی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ ایف آئی اے نے گرفتاری سے پہلے نہ تو انہیں طلب کیا تھا اور نہ ہی کوئی نوٹس جاری کیا تھا،نے کہا، جنہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 13 جنوری کو گرفتار کیا تھا۔اسلم کو امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی کی تحقیقاتی کہانی کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا، جو نومبر 2022 میں فیکٹ فوکس میں شائع ہوئی تھی جس میں آرمی چیف قمر باجوہ کے خاندان کی دولت کے بارے میں بتایا گیا تھا۔اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد،اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے ڈیٹا کی خلاف ورزی اور ذمہ داری عائد کرنے کی تحقیقات کا حکم دیا۔شاہداسلم کو 14 روزہ ریمانڈ پر راولپنڈی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ 17 جنوری کو کیس کی سماعت کے دوران، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے)نے عدالت سے لیپ ٹاپ اور موبائل فون سے فرانزک ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے مزید ریمانڈ کی استدعا کی، جسے فرانزک کے لیے بھیجا گیا تھا۔یہاں تک کہ پراسیکیوٹر نے عدالت کے روبرو یہ کہا کہ شاہد اسلم اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ کیوں شیئر نہیں کر رہے۔
بول ٹی وی کے صحافی عمران ریاض خان سے کہا گیا کہ وہ اپنے ٹوئٹر اور یوٹیوب اکائونٹ کیپاس ورڈ شیئر کریں۔ ایف آئی اے نے بول ٹی وی کے اینکر عمران ریاض خان کے خلاف الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام (پی ای سی اے)2016 کے تحت 02 فروری 2023کو ایف آئی آر درج کی تھی۔ تاہم لاہور کی عدالت نے 7 فروری کو درخواست خارج کر دی تھی۔اسی طرح،اے آر وائے نیوز چینل کے پروڈیوسر عماد یوسف کو کراچی میںایف آئی آرکے اندراج کے بعد 10 اگست کو کراچی میں ان کی ڈی ایچ اے کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے پروگرام میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکترشہباز گل کی گفتگو باقاعدہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت نشر کی اس پروگرام کے اینکر مرحوم ارشد شریف تھے۔تفتیش کے دوران عماد سے ان کے موبائل کا پاس ورڈ بھی طلب کیا گیا جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔
قانونی امور کے ماہر شاہ خاور کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے قوانین کے مطابق ایف بی آر کسی بھی شخص کی تفصیلات کسی کو فراہم نہیں کر سکتا لیکن ایسی تفصیلات شائع کرنا یا نشر کرنا جرم نہیں ہے اور شاہد اسلم اپنا ذریعہ ظاہر کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے، یہ صرف شاہد اسلم کا معاملہ ہی نہیں ہے ،
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی صحافی سے اس کے سورس کے بارے میں پوچھنا یا اس کی کسی الیٹرانک ڈیوائس کا پاس ورڈ طلب کر نا صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے ایکٹ 2021 کی خلاف ورزی ہے۔ پاس ورڈ مانگنا یا ذرائع کا انکشاف کرنا حال ہی میں نافذ کردہ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ، 2021 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جو صحافیوں کے کاموں اور ذرائع کی رازداری کی ضمانت دیتا ہے۔پاکستان پریس فائونڈیشن(پی پی ایف)کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی کو اس قانون کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ صحافی کو پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 کے تحت پرائیویسی کے حق کی ضمانت دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی بھی شخص، افسر، ایجنسی یا ادارہ غیر قانونی یا من مانی طور پر کسی صحافی، رپورٹر یا میڈیا پروفیشنل اور ان کے گھر، خط و کتابت (بشمول الیکٹرانک میل)اور خاندان کی رازداری کے حق میں مداخلت نہ کرے۔حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسی صحافی، رپورٹر، یا میڈیا پروفیشنل کو قانون کی مناسب کارروائی کے بغیر کسی بھی شخص، افسر، ایجنسی، اتھارٹی، یا ادارے کی طرف سے ان کی معلومات کے ذرائع کو ظاہر کرنے کے لیے مجبور، حوصلہ افزائی، زبردستی، زبردستی یا دھمکی نہیں دی جائے گی۔حکومت صحافیوں یا میڈیا پروفیشنلز کے ذرائع کی رازداری کا تحفظ کرے گی۔
پاکستان فیڈرل یو نین آف جرنکسٹس (پی ایف یو جے)کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری کا کہنا ہے کہ صحافی ڈیٹا فراہم کرنے کے پابند نہیں ہیں۔کوئی ریاستی ادارہ یا اتھارٹی کسی صحافی کو اپنا ذریعہ ظاہر کرنے اور لیپ ٹاپ یا فون کا پاس ورڈ فراہم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔یہ کیسز صحافیوں کے ڈیٹا کی کمزوری اور پاکستان میں تحقیقاتی صحافت کے ممکنہ نتائج کو اجاگر کرتے ہیں۔ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 کے باوجود، صحافیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تحقیقات کے دوران اپنے لیپ ٹاپ اور موبائل فون کے پاس ورڈز فراہم کریں، جو ان کی پرائیویسی اور سورس پروٹیکشن کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی نائب صدر مائرہ عمران کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ان صحافیوں کے لیے تشویشناک ہے آج کے ڈیجیٹل دور میں، ڈیجیٹل سیکورٹی آزاد صحافیوں کے لیے بنیادی تشویش ہے۔ ڈیجیٹل دور میں وسل بلورز کے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں کے لیے پیروگیا اصول ذرائع کی حفاظت کے لیے کئی سفارشات پیش کرتے ہیں، بشمول ممکنہ نتائج اور خطرات کا اندازہ لگانا،رازداری کا استعمال کرکے ڈیجیٹل دفاع کی ذمہ داری لینا، اصل دستاویزات اور ڈیٹا سیٹس کو محفوظ طریقے سے شائع کرنا، ذرائع کے ذریعے فراہم کردہ ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے حذف کرنا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ کوئی بھی ڈیجیٹل ڈراپ باکس محفوظ ہے اور وسل بلورز اور زیادہ خطرے والے مواد کے لیے گمنامی اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
دنیا میں کئی حکومتیں صحافیوں کی پرائیویسی کو مجروح کرتی ہیں جس میں صحافیوں کے فون ٹیپ کرنا، ان کی ای میلز، واٹس ایپ کو ہیک کرنا شامل ہے۔ کسی بھی تفتیشی کہانی کے دوران جب صحافی کسی موڑ پر ایسی خبر شائع کرنے کے قریب ہوتا ہے جس میں حکومت پر کڑی تنقید ہو تو ایسے میں انہیں اغوا، ان پر قاتلانہ حملہ یا ان کے خاندان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔سورس کی پرائیویسی رکھنا صحافی کا حق ہے لیکن سمارٹ فون یا فون ایپس کو ہیک کر کے صحافی کے سورس کی باتیں عوام میں پھیلانا جیسا کہ مریم نواز اور عاصمہ شیرازی کے کیس میں فون ریکارڈنگز کے ذریعے کیا گیا، ڈان لیکس میں سرل المیڈا، صحافی احمد نورانی پر قاتلانہ حملہ اور ٹیپ سکینڈل وغیرہ میں ہر جگہ حکومتی سائبر جاسوسی کا عنصر شامل ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ 2022 کے مطابق گزشتہ برس میں میڈیا پریکٹیشنرز کے خلاف کل 86 خلاف ورزیوں میں سے کم از کم 12 (%14) ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے صحافی تھے۔ ہلاک ہونے والے 4 صحافیوں میں سے 2 کو (%50)، 17 صحافیوں میں سے تین ڈیجیٹل صحافیوں کے خلاف کیسز بنائے یا گرفتار کیے گئے (%12)، 14 صحافیوں کو ہراساں کیا گیا (%14) اور 9 میں سے ایک ڈیجیٹل صحافی کے خلاف کوششوں میں سے قتل کی کوشش (%11)، واحد دستاویزی صحافی کے اغوا کی کوشش، 5 صحافیوں میں سے ایک ڈیجیٹل صحافی (%20) کے زخمی ہونے پر قانونی مقدمہ درج کیا گیا۔ 13 صحافیوں میں سے ایک ڈیجیٹل صحافی کیخلاف (%8) قانونی مقدمات درج ہوئے۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کا کہنا ہے کہا کہ ابھی تک مشاہدے میں یہ بات سامنے ضرور آئی ہے کہ جو لوگ وی پی این استعمال کرتے ہیں اور وہ آن لائن نگرانی کے ریڈار میں نہیں آتے تو ان کے لئے مشکل بنتی ہے، صحافی اس لئے بھی آن لائن ہراسگی اور نگرانی کا نشانہ بنتے ہیں کیونکہ صحافی کے پاس خصوصی معلومات، اقلیتی یا انسانی حقوق کے علمبرداروںکی لسٹ یا رابطہ نمبر یا رسائی یا مظلوم اور سورسز کی لسٹ کا ڈیٹا ہوتا ہے۔ صحافی کے حوالے سے حکومت اپنے بارے میں جاننے کی تگ دو کر نے کی وجہ سے متجسس رہتی ہے، حکومت باخبر رہنا چاہتی ہے کہ اگر صحافی کوئٹہ یا کسی علاقے میں جا رہے ہیں تو کس مقصد کیلئے جا رہے ہیں، صحافی کا خاصہ ہے کہ وہ مختلف لوگوں سے ملتے ہیں، ایسی جگہ جا سکتے ہیں جہاں طاقتور بھی نہیں جا سکتا، تنازعات والے علاقے میں غیرریاستی عناصر بھی ان کو متنازعہ علاقوں تک رسائی دیتے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے شکار اور ان کے مددگاروں کی تفصیلات کیلئے صحافی کی زیادہ ریکی اور نگرانی ہوتی ہے۔ دور جدید میں صحافی ٹیکنالوجی دوستی کے بغیر نہیں چل سکتا، اور ٹیکنالوجی حکومت کے ہاتھوں میں ایسا ٹول ہے جس سے وہ آپ کے فون یا لیپ ٹاپ سے باآسانی آپ کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں۔اس لیے
ڈیجیٹل تحفظ کے بارے میں ہر فرد خصوصا صحافی کا حساس ہونا بہت ضروری ہے، یہ نا سوچیں کہ کسی بند کمرے میں کوئی آپ کو سن یا دیکھ نہیں سکتا! فون کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن ہے، جتنا آپ باخبر اور احتیاطی تدابیر اپنائیں گے، اتنا ہی محفوظ رہیں گے۔ اکثر میٹنگز میں لوگ ٹی وی یا کھانے کے وقفے میں اپنا فون اور لیپ ٹاپ میز پر بنا نگرانی چھوڑ جاتے ہیں، آج کل ایسے سافٹ وئیر آ چکے ہیں جن کی بدولت ایک یو ایس بی کے ذریعے آپ کا ضائع شدہ ڈیٹا بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اس لئے آج کل ڈیجیٹل ہائی جین کے بارے میں باخبر رہنا بہت ضروری ہے۔
شمائلہ خان، ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ پالیسی، ڈیجیٹل رائٹس فانڈیشن نے کہا کہ صحافی خواتین کو زیادہ تر آن لائن ہراسگی، ٹرولنگ، ان کے کام کی شناخت، سماجی رابطہ سائٹس کی ہیکنگ، ٹوئٹر یا فیس بک بند ہونے اور دھمکیوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، زیادہ تر عوام ڈیجیٹل رائٹس کی آن لائن ہراسگی شکایت ہیلپ لائن تک پہنچ بھی نہیں پائے۔ ان کی تنظیم کی کوشش ہے کہ وہ تربیتی ورکشاپس کے ذریعے نقصان ہونے سے پہلے احتیاطی تدابیر کی معلومات اور تربیت کے ذریعے لوگوں کو بچا سکیں کیونکہ نقصان کے بعد ڈیجیٹل فٹ پرنٹس رہ جاتے ہیں، اور ذہنی صحت اور معاشرتی تعلقات کی خرابی سے پہلے ہی بچا کی تراکیب، ٹولز، پریکٹسز سیکھا دیے جائیں، اس کے علاوہ ان کا ادارہ آن لائن ہراسانی کے واقعات کو دستاویز بھی کرتا ہے تاکہ ممکنہ نتائج یا معاشرے پر اثرات کو جانچا جا سکے اور اس تحقیق کی روشنی میں اس مسئلے کی نشاندہی اور اس کے ممکنہ حل کے ساتھ وکالت کی جا سکے۔ متاثرین کو قانونی مدد کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل اور ذہنی تحفظ کی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے سینیٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران پاکستان میں کم از کم 42 صحافی مارے گئے۔دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ 42 میں سے 15 صحافی پنجاب میں، 11 سندھ میں، 13 خیبرپختونخوا (کے پی)اور تین بلوچستان میں مارے گئے۔پارلیمانی امور کے وزیر مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ صحافی کے قتل کے 42 کیسز میں سے صرف ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
اگرچہ حکومتی ادارے اور ایجنسیاں اس بات کی تردید کر تی ہیں کہ کسی صحافی کے مو بائل یا لیپ ٹاپ کو ہیک کیا جا تا ہے ،ایف آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ دوران تحقیقات کسی بھی شہری کے موبائل کی کالز کا ریکارڈ تو مو بائل کمپنیوں سے قانون کے مطابق حاصل کیا جا تا ہے جو کسی بھی معاملے کی تحقیقات کے لیے معاون ثابت ہو تے ہیں لیکن مو بائل ہیک کر نا یا لیپ ٹاپ سے معلومات حاصل کر نا اور پاس ورڈ حاصل کر نے کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے ہاں اگر کسی کی گرفتاری عمل میں آئے اور اس کے جرائم میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہوں تو ملزم کے مو بائل کی تلاشی لی جا تی ہے۔
پاکستان میں صحافیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی الیکٹرانک ڈیوئسز(مو بائل فون،لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر)کو محفوظ بنا نے کے لیے ہر ممکن سیکورٹی اقدامات اٹھائیں جبکہ اپنی ایم میل ،فیس بک ،ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کے اکائونٹس کے پاس ورڈ کو نہ صرف محفوظ بنائیں بلکہ ایک خاص مدت کے بعد انہیں تبدیل بھی کرتے رہیں ،یہ ان کے ذرائع اور ان کی اپنی جان کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے


