اسلام آباد (ای پی آئی )سینئر صحافی اینکر پرسن مطیع اللہ جان نے اپنے خلاف کئے گئے سخت ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کر دیا ،

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عمرا نعام نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اسی لیے چیف جسٹس بننے کے بعد چھٹی پر نہیں جاتے اور اگر بیماری کے نام پر آٹھ، آٹھ دن، دس دس دن چھٹی کریں بھی تو اپنے بعد سب سے سینیئر جج جسٹس محسن اختر کیانی کو قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات نہیں دیتے،

مطیع اللہ جان سمیت کورٹ رپورٹرز کو یہ نظر کیوں نہیں آتا؟؟

بندیال پر تو بہت اچھل اچھل کر تنقید کرتے تھے کہ چھٹی پر اس لیے نہیں جاتا کہ قاضی فائز عیسٰی قائم مقام چیف جسٹس نہ بن جائے تو وہی اصول یہاں لاگو کیوں نہیں کرتے؟ بندیال کو گالیاں دیتے تھے کہ تفصیلی فیصلے جاری نہیں کرتا، یہاں تو شارٹ آرڈر اور فیصلے جاری نہیں ہورہے، عمران خان کو جیل رکھنے کے لیے انصاف کا قتل کیا جارہا ہے، فیصلے نہیں کیے جارہے، سب کیسز عامر فاروق اپنے پاس دبا کر بیٹھا ہے۔

جبکہ ایک اور ٹوئٹ میں عمر انعام نے لکھا کہ ایک ٹویٹ نے مطیع اللہ جان سمیت کمپنی کے تمام پوشیدہ و ظاہری حامیوں کو ایکسپوز کردیا ہے۔

مطیع اللہ جان سب سے بڑا اصولی بنتا ہے، کبھی آپ نے کوئی ایک ٹویٹ دیکھا جس میں اس نے کہا ہو کہ انصاف نہ دے کر، فیصلے نہ کر کے عمران خان کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ زیادتی کررہی ہے، بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نہیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کیونکہ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ عامر فاروق کے علاوہ کوئی بھی جج میرا کیس سنے، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ کاش مطیع اللہ کوئی ایسی ٹویٹ بھی کرتا۔

ان ٹوئٹس پر معروف صحافی ،یو ٹیوبر صدیق جان نے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ.. آپ نے روزانہ مطیع اللہ جان صاحب کے خلاف ایک ٹویٹ کرنا فرض کر لیا ہوا ہے؟اگر وہ کسی موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے تو آپ کیوں انہیں مجبور کرتے ہیں؟؟

جبکہ عمر انعام کی جانب سے کئے گئے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرنے پر جہاں پر سوشل میڈیا صارفین نے مطیع اللہ جان کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ان چیزوں پر بات نہیں کر رہے وہیں پر سوشل میڈیا صارفین نے مطیع اللہ جان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ان کا بڑا پن ہے کہ انھوں نے اپنے خلاف کئے گئے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا