راولپنڈی(ای پی آئی ) متروکہ وقف املاک بورڈ نے سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے زیر استعمال لال حویلی کو ایک بار پھر سیل کر دیا،
جمعرات کی صبح ایف آئی اے اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ لال حویلی واگزار کرانے کیلئے متروکہ وقف املاک کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر آصف خان نے آپریشن مکمل کرتے ہوئے لال حویلی کے مرکزی دروازوں کو سیل کیا،
سابق وزیر داخلہ شیخ احمد رشید کا دفتر اور لال حویلی کے مرکزی ہال کو جانے والا راستہ بھی مکمل سیل کر دیا گیا۔آپریشن کے دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے زیر استعمال لال حویلی کی پراپرٹی، سیاسی بیٹھک سمیت 7 یونٹس کو سیل کیا گیا ہے، آپریشن مکمل ہونے کے بعد متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام نے لال حویلی کے مرکزی دروازے پر تالا لگا دیا۔
متروکہ وقف املاک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دمدمہ مندر متروکہ وقف املاک کی ملکیت ہے جبکہ شیخ رشید اور ان کے بھائی شیخ صدیق اس پراپرٹی پر غیر قانونی قابض ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ رشید اور ان کے بھائی لال حویلی سے متعلق کوئی مستند دستاویزات پیش نہیں کر سکے ۔
واضح رہے کہ لال حویلی کا معاملہ سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے تیسرے دور حکومت سے چل رہا ہے جب اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے لال حویلی شیخ رشید سے خالی کروانے کا بیان دیا تھا، اس کے بعد متعدد بار لال حویلی کے کچھ حصوں کوسیل کیا گیا لیکن عدالتی حکم پر انھیں دوبارہ کھول دیا گیا، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ لال حویلی سمیت وہ تمام حصے سیل کر دیے گئے ہیں جو متروکہ املاک کی ملکیت ہیں۔


