اسلام آباد(ای پی آئی ) سابق وزیراعظم میاں شہباز شریف کی اچانک لندن روانگی کیوں ہوئی ہے؟اس حوالے سے 3 صحافیوں نے بڑے انکشافات کئے ہیں ۔

سوشل میڈیا پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی امتیاز عالم نے لکھاہے کہ زباں بندی یا پناہ گزینی؟ نواز شریف نے جونہی2017اور2018کی جمہوریت مخالف سازشوں کے ملزموں کا احتساب کرنے کا بیانیہ دے کر جونہی ووٹ کی عزت کی بحالی کی بات دہرائی تو ن لیگ میں جوتے چاٹ گروپ میں تھرتھلی مچ گئی۔ شہباز شریف جو خاص پیغام لے کر گئے ہیں وہ نواز شریف کی زبان بندی کا ہے یا پھر مفرور رہنے کا۔

کالم وتجزیہ نگارسلمان غنی نے ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ 2017میں مشکل ترین حالات میں اپنی بیٹی کے ساتھ ملک میں آ کرجیل جانے والے نواز شریف کے لئیے پھر سے مشکلاتہیں کون انھیں آنے سے روک رہاہے اورکیوں،کیاوہ رک پائیں گے بڑاسوال یہی ھے پاکستان میں سیاسی لیڈرشپ کاکردارکیوں محدود کیاجارھا ہے؟آخر کب تک اہل سیاست مصلحتوں سے دوچاررہیں گے۔

سینیئر اینکرپرسن کامران خان نے ٹوئیٹرپر لکھا ہے کہ مشن "روکو انقلاب روکو”شہباز شریف کو الٹے پاؤں لوٹنا پڑا ،ایک ماہ لندن قیام کے بعد پاکستان پہنچے تو معلوم ہوا نواز شریف انقلاب کی نوید دے چکے تھے قوم کو قیامت خیز اقتدار میں واپسی چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی تحریری گارنٹی کے ساتھ تہلکہ خیز عزم کا اظہار کر کے تھے کہ اقتدار میں واپس آتے ہی سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئندہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس اعجاز الحسن سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے اب شہباز شریف کو نواز شریف کو دو ٹوک پیغام دینا ہے یہ سب کیفر کردار تک پہنچانے والی باتیں بھول جائیں یا پاکستان واپسی کی خواہش بھول جائیں ۔

کامران خان نے لکھاہے کہ نواز شریف پر لازم ہوگا کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ آئندہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس اعجاز الحسن سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کو کیفر کردار پہنچانے کو دامے ورمے سخنے بھول جائیں دیکھتے ہیں اس موضوع پر شہباز شریف مریم نواز کی منت سماجت کام آتی ہے یا نواز شریف انقلابی عزائم پر رہتے ہیں یا فراموش کردیتے ہیں