اسلام آباد(ای پی آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعلی عدالتوں کی طرف سے فیصلوں میں طے کئے گئے قانونی اصولوں کے خلاف وفاقی دارلحکومت سے گرفتاریوں پر سیکرٹری وزارت داخلہ کوان خلاف قانون گرفتاریوں میں ملوث پولیس افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دیاہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سابق رکن قومی اسمبلی محمد علی وزیر کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر9صفحات اور 22پیراگراف پرمشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے
عدالت نے فیصلے میں قراردیا ہے کہ وفاقی پولیس نے قانونی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے متواتر گرفتاریاں کیں، اعلیٰ عدالتوں کے اظہار ناپسندیدگی کے باوجود اسلام آباد پولیس نے کارروائیاں جاری رکھیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے عبدالستار خان نیازی کیس اور رضیہ پرویز کیس کے فیصلوں میں وضع کردہ قانونی اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا، سیکرٹری داخلہ خلاف قانون متواتر گرفتاریوں میں ملوث افسران کے خلاف انکوائری کریں۔
فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے تفتیشی افسر نے کوئی وضاحت نہیں دی کہ علی وزیر کے خلاف یکم فروری کو درج کئے گئے مقدمہ میں کوئی تفتیش کیوں نہیں کی جبکہ اس کیس 20اگست سے علی وزیر پولیس کی تحویل میں ہیں، تفتیشی نے جواز دیا کہ ان کو یہ تفتیش مارچ میں مارک کی گئی تھی اور یہ معاملہ قانونی رائے لینے کےلئے بھجوایا گیا تھا صرف یہ بات ثابت ہوسکی ہے کہ تفتیشی صرف درخواست گزار کو گرفتار کرنا چاہتا تھاکیونکہ اسے ایک اور مقدمہ میں ضمانت مل گئی تھی ۔
درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے سابق رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کی دو مقدمات میں سات روزہ خفاطتی ضمانت منظور بھی کی اورایک ہفتے کےلئے پولیس کو علی وزیر کی گرفتاری اور گرفتاری میں معاونت سے بھی روک دیا تاکہ وہ متعلقہ عدالتوں میں ضمانت قبل از گرفاتری کےلئے رجوع کرسکیںجبکہ علی وزیر کو 26 ستمبر تک ترنول اور ٹیکسلا کی متعلقہ عدالتوں سے رجوع کا حکم بھی جاری کیاہے۔
عدالت نے فیصلے کی کاپی سیکرٹری، داخلہ آئی جی اسلام آباد، اور ڈی جی ایف آئی اے کو ارسال کرنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں۔


