قصور(ای پی آئی ) قصور میں 3 سال قبل مئی 2020 میں ریلوے پھاٹک بند نہ ہونے کے باعث گزرنے کے دوران ٹرین سے تصادم کے باعث 2 دلہوں اور دو دلہنوں سمیت 4 افراد کی موت کے خوفناک واقعہ پر ورثاء کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوے سمیت دیگر افسران اور عملہ کیخلاف مبلغ 40 کروڑ روپے ہرجانہ کے دائر مقدمہ پر عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا۔
سول جج درجہ اول قصور سید شہباز حسین نقوی نے فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی وزیر، سیکرٹری، جی ایم، ڈی ایس، انجن ڈرائیوران، گیٹ کیپر وغیرہ کومبلغ 28 کروڑ روپے ہرجانہ جزوی طور پر ڈگری کر دیا۔
مدعیان کے دعوی کے مطابق نو بیاہتا جوڑوں کو ٹرین تلے کچل کر ہلاک کرنے کے مقدمہ کا فیصلہ 3 سال بعد سنایا گیا، وفاقی وزیر ریلوے، سیکرٹری ریلوے، جی ایم ریلوے اور ڈی ایس سمیت 13 افسران و ملازمین کیخلاف 28 کروڑ روپے ہرجانہ کی ڈگری جاری کر دی گئی، ہرجانہ متوفیان کے ورثا کو ادا کیا جائیگا۔
یاد رہے کہ مئی 2020 میں دو نو بیاہتا جوڑے حسین خانوالہ سے بذریعہ کار واپس گھر پتوکی آ رہے تھے جب اوپن پھاٹک لنڈا سے گزرنے لگے تو اسی دوران اچانک تیز رفتار ٹرین خیبر میل آگئی،
چلتی ٹرین کی زد میں آ کر دلہا سرفراز اس کی نئی نویلی دلہن ثمرین اشرف اور دلہا عماد علی اس کی بیوی کرن تصادم کے باعث جاں بحق ہو گئے تھے۔
نوبیاہتا جوڑوں کے والدین پتوکی کے معروف بزنس مین ہیں، علی شیر، شوکت علی اور محمد اشرف مدعیان نے فاضل عدالت میں مدعاعلیہان کیخلاف مبلغ 40 کروڑ روپے ہرجانہ کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
فاضل عدالت نے جرائم بالا باعث اموات ثابت ہونے پر جزوی طور پر مدعاعلیہان کیخلاف مبلغ 28 کروڑ روپے کی حد تک ڈگری کر دیا۔


