اسلام آباد (ای پی آئی )پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی اہلیہ بشرٰی عمران خان نےاڈیالہ جیل میں اپنے شوہر کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز سلوک کو چیلنج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی ہے جس میں قانون،جیل رولز اور جیل منول کے مطابق برتائو کرنے اور زندگی کے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں وفاقی پاکستان ریاست پاکستان،وزارت دفاع،سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور،آئی جی جیل خانہ جات پنجاب،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل،ڈی جی انٹلی جنس بیورو(آئی بی) اور ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کے شوہر کو جیل میں جان سے مارنے کا خطرہ ہے، خدشہ ہے کہ عمران خان کو جیل میں زہر دے کر مار دیا جائے گا۔درخواست میں عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ہونے والی سازشوں،اقتدار سے محروم کرنے کے بعد جعلی مقدمات کے ذریعے ایذا رسانیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئےکہا گیا ہے کہ مذکورہ سارے واقعات سے ثابت ہورہا ہے کہ آزادانہ اور شفاف الیکشن کے جمہوری عمل کے ذریعے عمران خان اور ان کی جماعت پی ٹی آئی کو ختم کرنے میں ناکامی پر ان کے شوہر کو جسمانی طور پر ختم کردیا جائے گا۔
درخواست میں اڈیالہ جیل کے غیر انسانی ماحول کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے اور اس ضمن میں خادم حسین کیس میں پیش کی گئی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں گنجائش سے کئی گناہ زیادہ قیدی موجود ہونے کے علاوہ صحت و صفائی کی مخدوش صورتحال اور ناقص خوراک کی فراہمی بھی معمول ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حریف جماعتیں، سابق پی ڈی ایم حکومت اور موجودہ نگران حکومت عمران خان کو اسی طرح راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں جس طرح ماضی میں سیاسی قیادت کو ہٹایا گیا۔اس ضمن میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی مثال دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان لیڈران کو اس لیے سیاسی منظر نامے سے ہٹایا گیا کیونکہ یہ لوگ عوام اور ریاست کی سالمیت کے لیے کھڑے ہوگئے تھے۔
عمران خان کو منظر نامے سے غائب کرنے کے لیے کی جانے والی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ابتدا خارجی مداخلت سے ہوئی جب ڈونلڈ لو نے ایک خط لکھا اور پھر ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔الیکشن کمیشن کی ایک جعلی شکایت پر ٹرائل کورٹ سے عدم موجودگی میں سزا دلوائی گئی ،عدم موجودگی میں سزا دینا آئین کے آرٹیکل چار اور دس اے کی خلاف ورزی ہے۔
پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے جب ہائی کورٹ نے سزا معطل کی تو ایک اور مقدمے میں گرفتاری ظاہر کی گئی اور عدم موجودگی میں جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا گیا ،حالانکہ عدم موجودگی میں سزا دینا اور ریمانڈ حاصل کرنا قانون کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔یہی نہیں بلکہ عدالت عظمٰی کے واضح احکامات کے باجود ضمانت کی درخواست خارج کی گئی ۔
درخواست میں عمران خان کو غیر انسانی ماحول میں قید رکھنے کے بارے قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب تک کسی ملزم کے خلاف الزام ثابت نہ ہو تو وہ بے گناہ تصور ہوتا ہے اور کسی بے گناہ کو غیر قانونی طور پر پابند سلاسل رکھ کر بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ۔زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں بلکہ یہ طے شدہ اصول قانون ہے کہ تحفظ کا احساس ،سکیورٹی ،صحت بخش غذا اور نقل و حرکت کی سہولت بھی زندگی کے حق میں شامل ہے۔
درخواست گزار کے شوہر کو انسانیت سوز طریقے سے زندگی کے بنیادی حق سے محروم کیا جارہا ہے،فوری توجہ نہیں دی گئی تو آہستہ آہستہ زہر دیکر مار دیا جائے گا۔درخواست میں مثالیں دے کرکہا گیا ہے کہ قیدیوں کو گھر سے خوراک کی اجازت دینے کی سہولت فراہم ہوئی لیکن عمران خان کو یہ سہولت نہیں دی جارہی،انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اس ضمن میں پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہونے والے سلوک کو بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے۔جبکہ کہا گیا ہے کہ شرمناک بھونڈے طریقے سے ان کے شوہر عمران خان کو کوئٹہ میں ایک وکیل کے قتل کے مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا۔
ان تمام انتقامی کارروائیوں کا مقصد عمران خان کو آزادی سے محروم کرنا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کسی خاص سلوک کا متمنی نہیں لیکن ہائی کورٹ نے 25ستمبر کے آرڈر میں جو سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا وہ بھی فراہم نہیں کی جارہی اور کھلی طور پر توہین عدالت کی جارہی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انسانی زندگی ایک عظیم نعمت ہے اس لیے مخالف فریقین کو عمران خان کو تکالیف دینے سے روکا جائے جبکہ 25ستمبر کے عدالتی حکم اور 11اگست کے حکومت پنجاب کے نوٹی فکیشن کے مطابق عمران خان کو جیل میں سہولیات دی جائیں۔
یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ ذمہ دار میڈیکل افسر کے ذریعے عمران خان کو خوراک اور پینے کا پانی دیا جائے جبکہ چہل قدمی اور ورزش کے لیے مناسب جگہ فراہم کی جائے۔مخالفین فریقین کو پابند کیا جائے کہ وہ عمران خان کو ذہنی و جسمانی تکلیف نہ دے۔
اس حساس کیس کے حوالے سے صدیق جان نے اپنے وی لاگ میں کیا کہا ؟ سنیں
درخواست میں کہا گیا ہے کہ حالیہ گیلپ سروے کے مطابق پی ٹی آئی ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت ہے اور عمران خان زندگی بھر عوام کی خدمات کے لیے پر عزم ہے۔درخواست میں عمران خان کی شخصیت اور بین الاقومی قد کاٹھ کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور بطور کرکٹر انھوں نے ملک کی قیادت کرتے ہوئے ورلڈ کپ جیتا جبکہ انسانیت کی خدمات میں شوکت خانم جیسا عظیم شان اسپتال کھڑا کیا جو 75فیصد کینسر کے مریضوں کو مفت علاج فراہم کررہا ہےاور بطور سیاست دان کرپٹ سیاسی کلچر کے خلاف کھڑا ہوکر پہلے خیبر پختون خواہ کی روایتی حکمران طبقے کو شکست سے دو چار کرکے صوبے میں حکومت بنائی اور اصلاحات کرکے پولیس میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کیا،2018کے عام انتخابات میں کامیاب ہوکر ورثے میں ادائیگیوں کے توازن کو بہتر کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا،افغانستان اور امریکہ میں مذکرات کرواکر افغانستان سے امریکی فوج کو نکالنے کا راستہ ہموار کرایا،خواتین کو بااختیار کرنے کے لیے قانون سازی کی،
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمرانخان نے اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی اور رسول کریم کی تعلیمات کے مطابق مساوات پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کے لیے جدوجہد شروع کی ۔ان وجوہات کی وجہ سے انھیں ہر طرف سے سیاسی ایذا رسانی کا شکار بنایا گیا،وزیر اعظم ہائوس سے نکالنے کے لیے سازش کرائی گئی ،پی ڈی ایم اور سہولت کاروں نے ہر طرف سے گھیر کر اقتدار سے محروم کردیا اور پھر نو مئی کے واقعے کا دلدل تیار کرکے اس کے ذریعے دس ہزار سے زیادہ سیاسی ورکرز اور قائدین گرفتار کیے گئے،پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر ختم کرنے اور عمران خان کو جسمانی طور پر ختم کرنے کے لیے وہ وہ طریقے اپنائے گئے اور ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا گیا کہ جس کے سامنے انسانی وقار اور بنیادی حقوق بھی ماند پڑ جاتے ہیں،توشہ خانہ جیسا جھوٹے اور جعلی مقدمے بنائے گئے اور پھر اس میں سزا بھی دلوائی گئی۔
درخواست میں عمران خان پر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر کی نقل کے علاوہ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے 25ستمبر کے فیصلے اور 11اگست کے حکومتی پنجاب کی طرف سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کی نقل بھی منسلک کی گئی ہے۔
پہلی سماعت کا احوال ،فریقین کو نوٹس جاری
بشریٰ بی بی کی درخواست پر پہلی سماعت 5 اکتوبر کو ہوئی جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں سکیورٹی اور تحفظ فراہم کرنے سے متعلق کیس میں وزارت داخلہ اورجیل حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں سکیورٹی اور تحفظ فراہم کرنے سے متعلق بشری بی بی کی جانب سے دائر درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ۔
بشری بی بی کے وکیل سرادر لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ صرف بنیادی انسانی حقوق کا نہیں بلکہ ایک انسان کی سالمیت کا بھی مسئلہ ہے ، چیئرمین تحریک انصاف کو جس کمرہ میں رکھا گیا ہے وہاں نماز پڑھنا مشکل ہے ۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین کو گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت دی جائے ، اگر گھر کا کھانا دینے کی اجازت نہیں دی جاتی تو جیل کے کھانے کو چیک کروایا جائے ۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری تاریخ رہی ہے کہ جو بھی صدر یا وزیراعظم ہاؤس میں ہوتا ہے ،بعد میں اڈیالہ اور اٹک جیل کا مہمان بنتا ہے ۔
عدالت نے وزارت داخلہ اورجیل حکام کو نوٹس جاری کر تے ہوئے جواب طلب کرلیا اور کیس کی سماعت سوموار سے شروع ہونے والے ہفتے تک ملتوی کی گئی ہے۔


