اسلام آباد (ای پی آئی) سال 2022 میں دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں شمار ہونے والا شہر اسلام آباد جرائم کی شرح میں خطر ناک حد کو چھوگیا.

سیف سٹی اور پردیسیوں کے شہر کے نام سے پہچانے جانے والے شہر اقتدار میں سال 2022 کے دوران چور ڈکیت گینگ دندناتے پھرتے رہے، 2022 میں چوری ڈکیتی راہزنی،قتل،موٹرسائیکل اور کار چوری کی ساڑھے 10 ہزار سے زائد وارداتوں کے دوران شہری اربوں روپے مالیتی نقدی، طلائی زیوارت، 644 گاڑیوں اور 3 ہزار ایک سو 66 موٹرسائیکلوں سے محروم ہو گئے.

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق موجودہ آئی جی ڈاکٹر اکبر ناصر خان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی جرائم میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ سال 2022 میں نقب زنی، راہزنی اور چوری کی 5 ہزار 6 سو پچاس وارداتوں کے دوران شہری اربوں روپے مالیتی قیمتی اثاثہ جات سے محروم ہو گئے۔

شہر اقتدار میں ڈکیتی کی 50 وارداتیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ شہر سے 644 قیمتی گاڑیاں اور 3166 موٹرسائیکل بھی چرائے گئے.سال 2022 میں 162 افراد کو قتل کیا گیا.28 لاوارث لاشیں بھی برآمد ہوئیں.

رواں سال اسلام آباد میں دو آئی جیز تعینات ہوئے۔۔۔سابق آئی جی احسن یونس کو ایسے وقت میں تعینات کیا گیا جب اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں ڈکیتی کی واداتیں بڑھ گئی تھیں احسن یونس نے جرائم کے ساتھ نمٹنے کے لیے پولیس حکمت عملی تبدیلی لاتے
ہوئے پولیس مقابلوں کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر بالخصوص ڈکیتوں کو ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع کیا۔

احسن یونس کے دور میں کم و بیش 18 پولیس مقابلے ہوئے۔جن میں 10 سے زائد ڈکیتوں کو مارا گیا۔ موجودہ آئی جی کے آنے کے بعد صرف چار پولیس مقابلے ہوئے ہیں۔جن میں بلال ثابت سمیت سمیت متعدد ڈاکو مارے گئے۔

حکام کے مطابق یہ وہ وارداتیں جو اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں رپورٹ کی گئیں جبکہ رپورٹ نہ ہونے والی وارداتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ عام لوگ پولیس کے نظام سے گھبرا کر تھانے کا رخ ہی نہیں کرتے۔۔سال 2021 کی نسبت 2022 میں جرائم کی شرح میں ایک سو فیصد اضافہ ہوا جبکہ پولیس تمام دعووں کے باوجود وارداتوں پر قابو پانے میں ناکام رہی۔۔۔