اسلام آباد (ی پی آئی نیوز)پاکستان تحریک کے انصاف کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی صداقت عباسی کے پارٹی سے علیحدگی کے بیان پر سینئر صحافیوں نے سوشل میڈیا پر بھر پور ردعمل دیا ہے ۔

ڈان نیوز پر انٹرویو نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر سینیئر صحافیوں سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے سینیئر صحافی تجزیہ کار مظہر عباس نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ۔آزاد ٹی وی کے دن گئے۔ ڈان نے کچھ دنوں تک دباؤ کا مقابلہ کیا لیکن آخر کار پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی کا انٹرویو اس وقت آن ایئر ہو گیا۔

اس کے علاوہ عدیل راجہ نے ٹوئٹ کیا کہ ڈان میں پانچ سال کام کیا، آج افسوس ہوا۔۔ ادارہ چلانے والے جب جوکر بھرتی کریں گے تو سرکس تو ہوگا ہی۔۔ پلانٹڈ کی ہر تعریف پر پورا اترتا یہ انٹرویو ڈان کی سکرین پر چلا۔

اسی طرح صحافی ،یو ٹیوبر اسد علی طور نے ٹوئٹر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ایک یرغمالی جو کسی اور کو یرغمال کا نام دے رہا ہے، یہ جوکر شو صرف ایک "ہائی جیک” پاکستان میں ہی ممکن ہے!

صحافی نیامت خان نے کہا کہ ڈان نے ڈان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔

خاتون صحافی منیزے جہانگیر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ صداقت عباسی اور عثمان ڈار کے انٹرویو کے بعد یہ بات واضح ہے کہ صحافت ایک نئی پستی کو پہنچ گئی ہے! جبری گمشدگیوں کے متاثرین کو ان کے اغوا کاروں کی طرف سے زبردستی انٹرویو دینے کے بعد ان کا انٹرویو لینا غیر اخلاقی اور جرم کی حوصلہ افزائی اور مدد کرنا ہے۔

صحافی، اینکر پرسن منصور علی خان نے ٹوئٹ کیا کہ ،صداقت کا انٹرویو صداقت کے آنسوؤں کی گواہی نہیں دے رہا۔

اسی طرح رائے ثاقب کھرل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اسکرپٹ گھسا پٹا نہیں ہے ، اس سارے انٹرویو میں ایک نئی انٹری ہوئی ہے*بشری بی بی کے کہنے پر زوم میٹنگ بلائی گئی* آہستہ آہستہ نئے لوگ انوالو کیے جا رہے ہیں ۹ مئی میں۔۔ پراڈکٹ نہیں بائی پراڈکٹ دیکھیں

صحافی علی مصطفیٰ نے انٹرویو کے حوالے سے دو ٹوئٹس کئے جو کہ ایک انٹرویو سے پہلے اور ایک بعد میں کیا گیا پہلے ٹوئٹ میں لکھا کہ ،مجھے معتبر ذرائع سے بتایا جا رہا ہے کہ ڈان نیوز پر صداقت علی عباسی کے یرغمالی/ اعترافی انٹرویو کو نشر کرنے کے لیے انتہائی دباؤ ہے، اور یہ کہ یہ اگلے چند گھنٹوں میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ڈان مل کر دباؤ میں آ جاتا۔

انٹرویو نشر ہونے کے بعد دوسرے ٹوئٹ میں کہا کہ ،
اب جبکہ صداقت علی عباسی کا انٹرویو ڈان نیوز نے نشر کیا ہے، میں ان حالات کی مزید تفصیلات بتا سکتا ہوں جن کے ارد گرد اسے نشر کیا گیا تھا – پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے عباسی کو ڈان اسلام آباد بیورو میں "بہت بری حالت” میں لایا گیا تھا، یہ واضح تھا۔ سب کے سامنے کہ اسے انتہائی دباؤ کے تحت اعترافات کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ریکارڈنگ کے دوران ایک "آرمی کا ایک کرنل فریم سے باہر اسٹوڈیو کے اندر بیٹھا ہوا تھا” اینکر اور "گھبرائے ہوئے” عباسی کے سامنے۔ جب انتظامیہ نے ابتدائی طور پر یرغمالی کا ٹیپ نشر کرنے سے انکار کر دیا تو اینکر عادل شاہ زیب نے "انتظامیہ سے انٹرویو کی درخواست کی”

عارفہ نور نے ٹوئٹ کیا کہ ۔صحافت کا جنازہ ہے ۔۔ذرہ جھوم کر نکلے

صحافی راؤ فیصل نے کہا کہ ۔یہ کیا بات ہے ہر فلم فلاپ کیوں ہو رہی ہے شاید اسکرپٹ گھسا پٹا ہے لوگ اس کہانی سے تنگ آچکے ہیں

قمبر زیدی نے مختصر لکھا کہ۔فیک انٹرویو

ذیشان بخش نے پی ٹی آئی آفیشل کے اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی صداقت عباسی کی 9 مئی کے دن کی تقریر کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ،پی ٹی آئی آفیشل کی جانب سے فوری رسپانس دیا گیا ہے اب صداقت عباسی کا کون سا بیان درست ہے ڈان نیوز پر جو دیا گیا یا عوام میں ۔۔

اس کے علاوہ ایک اور ٹوئٹ میں ڈان نیوز کے اینکر کی جانب سے ایک ہی پروگرام میں دو الگ رنگ کی ٹائی پہننے پر ،لکھا کہ ایک پروگرام میں دو ٹائی نیا ٹرینڈ ہے۔۔

صحافی مغیث علی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی انٹرویوز یا پریس کانفرنس ہوئی ہیں اس میں کبھی براہ راست بشریٰ بی بی پر الزام نہیں لگایا گیا، لیکن آج صداقت عباسی نے بشریٰ بی بی پر بات کی ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عمران خان اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ رہے، شاید بشریٰ بی بی کے ذریعے اب دباؤ بڑھایا جائے۔۔۔!!!

اسی طرح مہرین زہرہ ملک نے لکھا کہ ۔۔لیکن ایمانداری سے اس پر کون یقین کرتا ہے؟ یہ ایک طنز ہے۔ اس کو ترتیب دینے والوں اور پلیٹ فارم فراہم کرنے والوں کے لیے شرمندہ۔

عمر جٹ نے کہا کہ صداقت عباسی کے انٹرویو سے کیا اب جلسہ گاہیں عوام سے بھر جائیں گی؟؟؟؟؟

اس کے علاوہ روہان احمد نے ٹوئٹ کیا کہ ۔ڈان نیوز پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی کا انٹرویو نشر کر رہا ہے، سابق ایم این اے جو چند روز قبل لاپتہ ہونے کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ عباسی کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ تک ایک دوست کے گھر رہے اور پھر گلگت چلے گئے۔سابق قانون ساز نے عمران خان کو 9 مئی کے تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

عذیر یونس کہا کہ ۔ڈان نے ہتھیار ڈال دیے… میڈیا تنظیم اور وسیع تر میڈیا ایکو سسٹم کے لیے ایک تاریک، تاریک دن

https://twitter.com/UzairYounus/status/1711435058823708854?t=exVxEVHdrPq7LOVeEI-0TQ&s=08

صحافی ارشد یوسفزئی نے لکھا کہ آخر کار ڈان نیوز نے پنڈی بوائز کے سامنے دم توڑ دیا

صحافی مبشرزیدی نے اپنے مختصر ٹوئٹ میں لکھا کہ ۔آج مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔۔۔

خاتون سارہ الیاس نے لکھا کہ ۔ RIP Journalism(صحافت کا جنازہ )

ذیشان اسلم ڈوگر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ۔پاکستان میں صحافت کے لیے ایک اور افسوسناک دن۔انڈسٹری اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک عادل شاہ زیب، کامران شاہد اور کامران خان جیسے اینکرز اس کا حصہ ہیں کیونکہ وہ کمپنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔مجھے یقین نہیں ہے کہ سرکاری مارشل لاء کا اعلان کرنے کے لیے کیا باقی رہ گیا ہے!

اسی طرح فخر درانی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ،صداقت عباسی نے عادل شاہ زیب کے پروگرام میں بتایا کہ وہ کچھ عرصہ دوست کے پاس رہے پھر گلگت بلتستان چلے گئے اور وہاں سے آکر انہوں نے ضمانت کروائی اور اب آپکے پاس پروگرام میں آگیا۔ گلگت بلتستان سے واپس آکر گھر والوں سے دھاڑیں مار مار کر بھلا کون روتا ہے صداقت عباسی صاحب؟

اس کے علاوہ زبیر علی خان نے کہا کہ ،صداقت عباسی کا ماں کے ساتھ لپٹ کر رونا اس بات کی گواہی ہے کہ ریاست نے اس کے ساتھ ماں جیسا سلوک نہیں کیا۔۔۔ وہ دھاڑے مار کر روتا رہا جس ریاست کے لیے ایک گولڈ میڈلسٹ نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی اس سے جبرا بیان دلوا کر اس کی تزلیل کرنے کی کوشش کی گئی

محمد عمیر نے لکھا کہ جس دن 3 اکتوبر بروز منگل عثمان ڈار کا انٹرویو ریکارڈ ہوا،اسی روز صداقت عباسی کی ضمانت منظور ہوئی،5 اکتوبر کو صداقت عباسی کا انٹرویو ریکارڈ ہوا،6 کو وہ فیملی کو ملے جس کے بعد وہ اب تک پھر غائب ہیں۔اس ضمانت کا سب کو 5 اکتوبر کو پتہ چلا اس سے قبل یہ ضمانت کہیں رپورٹ نہیں ہوئی۔یعنی صداقت عباسی کے تمام معاملات سیٹ کرکے ان کو سامنے لایا گیا

خاتون نوشین یوسف نے مختصر ٹوئٹ میں کہا کہ ۔اب ڈان نیوز بہت ترقی کرے گا۔۔

https://twitter.com/nausheenyusuf/status/1711437462797508991?t=_YLbsJ9APNjsW8d7hFiYkA&s=08

اسی طرح فہیم اختر ملک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ،ڈان نیوز لیٹا نہیں وہ پہلے ہی لیٹا ہوا تھا بس مرضی کے وقت پر انٹرویو نشر کرانا تھا جو آج ہوگیا۔۔۔ پاکستان زندہ باد ۔

فہیم اختر ملک نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اب وہ سب دوست جو ڈان انتظامیہ کو صحافتی اخلاقیات زندہ رکھنے اور Resist کرنے پر مبارکباد دے رہے تھے وہ کیا کہیں گے؟ جس دن یہ بات سامنے آئی تھی اسی دن کہا تھا کہ ڈان کیا سی چینل کی جرات نہیں

صحافی سیرل المیڈا نے ٹوئٹ کیا کہ ۔ٹی وی مردہ ہے کیونکہ ٹی وی حکومت کے ساتھ بستر پر ہے…

اسی طرح سلمان عابد نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے کہاں سے اپنی آزادی،خود مختاری اور اظہار کی سچائی کا سفر شروع کیا اور آج اس میڈیا نے خود کو کہاں لاکر کھڑا کردیا۔ فرق کو سمجھنے کے لیے صحافی اور مالکان سیٹھ کے مفادات کو علیحدہ علیحدہ سمجھیں تو بہت کچھ سمجھنے کا موقع مل سکے گا۔

صحافی ضرار کھوڑو نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم نے کوشش کی اور ہم ناکام رہے۔ جتنی گالیاں دینی ہیں دے دیں۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک کے انصاف کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی صداقت عباسی نے ڈان نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں تحریک انصاف اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے،اس انٹرویو میں انھوں نے 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر منصوبہ بندی کرنے کے الزامات لگائے ہیں