اسلام آباد (ی پی آئی نیوز)پاکستان تحریک کے انصاف کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی صداقت عباسی کے پارٹی سے علیحدگی کے بیان پر سینئر صحافیوں نے سوشل میڈیا پر بھر پور ردعمل دیا ہے ۔
ڈان نیوز پر انٹرویو نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر سینیئر صحافیوں سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے سینیئر صحافی تجزیہ کار مظہر عباس نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ۔آزاد ٹی وی کے دن گئے۔ ڈان نے کچھ دنوں تک دباؤ کا مقابلہ کیا لیکن آخر کار پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی کا انٹرویو اس وقت آن ایئر ہو گیا۔
Gone are the days of Independent TV. DAWN resisted the pressure for few days but finally, interview of PTI leader Sadaqat Abbasi on air at the moment.
— Mazhar Abbas (@MazharAbbasGEO) October 9, 2023
اس کے علاوہ عدیل راجہ نے ٹوئٹ کیا کہ ڈان میں پانچ سال کام کیا، آج افسوس ہوا۔۔ ادارہ چلانے والے جب جوکر بھرتی کریں گے تو سرکس تو ہوگا ہی۔۔ پلانٹڈ کی ہر تعریف پر پورا اترتا یہ انٹرویو ڈان کی سکرین پر چلا۔
ڈان میں پانج سال کام کیا، آج افسوس ہوا۔۔ ادارہ چلانے والے جب جوکر بھرتی کریں گے تو سرکس تو ہوگا ہی۔۔ پلانٹڈ کی ہر تعریف پر پورا اترتا یہ انٹرویو ڈان کی سکرین پر چلا۔۔ pic.twitter.com/RN31HX1TZ2
— Adeel Raja (@adeelraja) October 9, 2023
اسی طرح صحافی ،یو ٹیوبر اسد علی طور نے ٹوئٹر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ایک یرغمالی جو کسی اور کو یرغمال کا نام دے رہا ہے، یہ جوکر شو صرف ایک "ہائی جیک” پاکستان میں ہی ممکن ہے!
A hostage naming somebody else a hostage, this clown show is only possible in a “hijacked” Pakistan! https://t.co/fVbKlSJ5sD
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) October 9, 2023
صحافی نیامت خان نے کہا کہ ڈان نے ڈان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔
Dawn surrendered to Don
(courtesy @AWGoraya)
— Naimat Khan (@NKMalazai) October 9, 2023
خاتون صحافی منیزے جہانگیر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ صداقت عباسی اور عثمان ڈار کے انٹرویو کے بعد یہ بات واضح ہے کہ صحافت ایک نئی پستی کو پہنچ گئی ہے! جبری گمشدگیوں کے متاثرین کو ان کے اغوا کاروں کی طرف سے زبردستی انٹرویو دینے کے بعد ان کا انٹرویو لینا غیر اخلاقی اور جرم کی حوصلہ افزائی اور مدد کرنا ہے۔
Waqiyeh after #UsmanDar & #SadaqatAbbasi interview it’s clear that journalism has hit a new low! Interviewing victims of enforced disappearances after they are produced by their abductors to give an interview under duress is unethical & aiding & abetting a crime. https://t.co/zraXlESbcH
— Munizae Jahangir (@MunizaeJahangir) October 9, 2023
صحافی، اینکر پرسن منصور علی خان نے ٹوئٹ کیا کہ ،صداقت کا انٹرویو صداقت کے آنسوؤں کی گواہی نہیں دے رہا۔
صداقت کا انٹرویو صداقت کے آنسوؤں کی گواہی نہیں دے رہا۔
— Mansoor Ali Khan (@_Mansoor_Ali) October 9, 2023
اسی طرح رائے ثاقب کھرل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اسکرپٹ گھسا پٹا نہیں ہے ، اس سارے انٹرویو میں ایک نئی انٹری ہوئی ہے*بشری بی بی کے کہنے پر زوم میٹنگ بلائی گئی* آہستہ آہستہ نئے لوگ انوالو کیے جا رہے ہیں ۹ مئی میں۔۔ پراڈکٹ نہیں بائی پراڈکٹ دیکھیں
اسکرپٹ گھسا پٹا نہیں ہے ، اس سارے انٹرویو میں ایک نہی انٹری ہوئی ہے*بشری بی بی کے کہنے پر زوم میٹنگ بلائی گئی* آہستہ آہستہ نئے لوگ انوالو کیے جا رہے ہیں ۹ مئی میں۔۔ پراڈکٹ نہیں بائی پراڈکٹ دیکھیں رائو صاحب۔ https://t.co/Ne306nfAe2
— Rai Saqib KharaL (@iRaiSaqib) October 9, 2023
صحافی علی مصطفیٰ نے انٹرویو کے حوالے سے دو ٹوئٹس کئے جو کہ ایک انٹرویو سے پہلے اور ایک بعد میں کیا گیا پہلے ٹوئٹ میں لکھا کہ ،مجھے معتبر ذرائع سے بتایا جا رہا ہے کہ ڈان نیوز پر صداقت علی عباسی کے یرغمالی/ اعترافی انٹرویو کو نشر کرنے کے لیے انتہائی دباؤ ہے، اور یہ کہ یہ اگلے چند گھنٹوں میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ڈان مل کر دباؤ میں آ جاتا۔
I’m being told from reliable sources that Dawn News is under extreme pressure to air the Sadaqat Ali Abbasi hostage/confessional interview , and that this might play out in the next few hours; if it happens Dawn would’ve buckled under mil pressure https://t.co/3bquLXhYSL
— علی مصطفی | Ali Mustafa (@Ali_Mustafa) October 9, 2023
انٹرویو نشر ہونے کے بعد دوسرے ٹوئٹ میں کہا کہ ،
اب جبکہ صداقت علی عباسی کا انٹرویو ڈان نیوز نے نشر کیا ہے، میں ان حالات کی مزید تفصیلات بتا سکتا ہوں جن کے ارد گرد اسے نشر کیا گیا تھا – پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے عباسی کو ڈان اسلام آباد بیورو میں "بہت بری حالت” میں لایا گیا تھا، یہ واضح تھا۔ سب کے سامنے کہ اسے انتہائی دباؤ کے تحت اعترافات کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ریکارڈنگ کے دوران ایک "آرمی کا ایک کرنل فریم سے باہر اسٹوڈیو کے اندر بیٹھا ہوا تھا” اینکر اور "گھبرائے ہوئے” عباسی کے سامنے۔ جب انتظامیہ نے ابتدائی طور پر یرغمالی کا ٹیپ نشر کرنے سے انکار کر دیا تو اینکر عادل شاہ زیب نے "انتظامیہ سے انٹرویو کی درخواست کی”
now that Sadaqat Ali Abbasi’s İnterview has been aired by Dawn News, I can divulge more details of the circumstances around which it was aired – the former PTI MNA Abbasi was brought into the Dawn Islamabad bureau in “a very bad shape” , it was clear to all present that he had… https://t.co/Z98F98E8Za
— علی مصطفی | Ali Mustafa (@Ali_Mustafa) October 9, 2023
عارفہ نور نے ٹوئٹ کیا کہ ۔صحافت کا جنازہ ہے ۔۔ذرہ جھوم کر نکلے
Sahafat ka janaza hai, zara jhoom say niklay
— Arifa Noor (@arifanoor72) October 9, 2023
صحافی راؤ فیصل نے کہا کہ ۔یہ کیا بات ہے ہر فلم فلاپ کیوں ہو رہی ہے شاید اسکرپٹ گھسا پٹا ہے لوگ اس کہانی سے تنگ آچکے ہیں
یہ کیا بات ہے ہر فلم فلاپ کیوں ہو رہی ہے شاید اسکرپٹ گھسا پٹا ہے لوگ اس کہانی سے تنگ آچکے ہیں۔۔ pic.twitter.com/Fs2iHl3PcO
— Rao Faisal (@RaoFaisalSpeaks) October 9, 2023
قمبر زیدی نے مختصر لکھا کہ۔فیک انٹرویو
Fake interview !!
— Qamber Zaidi (@qamberzaidii) October 9, 2023
ذیشان بخش نے پی ٹی آئی آفیشل کے اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی صداقت عباسی کی 9 مئی کے دن کی تقریر کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ،پی ٹی آئی آفیشل کی جانب سے فوری رسپانس دیا گیا ہے اب صداقت عباسی کا کون سا بیان درست ہے ڈان نیوز پر جو دیا گیا یا عوام میں ۔۔
Quick Response by @PTIofficial . now which statement of @Sadaqat_Ali is true . the one in @Dawn_News or the one in public https://t.co/oT3yxjPUUk
— Zeeshan Bakhsh (@ZeshanBakhsh) October 9, 2023
اس کے علاوہ ایک اور ٹوئٹ میں ڈان نیوز کے اینکر کی جانب سے ایک ہی پروگرام میں دو الگ رنگ کی ٹائی پہننے پر ،لکھا کہ ایک پروگرام میں دو ٹائی نیا ٹرینڈ ہے۔۔
ایک پروگرام میں دو ٹائی نیا ٹرینڈ ہے https://t.co/ZTNH71PxXD
— Zeeshan Bakhsh (@ZeshanBakhsh) October 9, 2023
صحافی مغیث علی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی انٹرویوز یا پریس کانفرنس ہوئی ہیں اس میں کبھی براہ راست بشریٰ بی بی پر الزام نہیں لگایا گیا، لیکن آج صداقت عباسی نے بشریٰ بی بی پر بات کی ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عمران خان اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ رہے، شاید بشریٰ بی بی کے ذریعے اب دباؤ بڑھایا جائے۔۔۔!!!
جتنے بھی انٹرویوز یا پریس کانفرنس ہوئی ہیں اس میں کبھی براہ راست بشریٰ بی بی پر الزام نہیں لگایا گیا، لیکن آج صداقت عباسی نے بشریٰ بی بی پر بات کی ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عمران خان اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ رہے، شاید بشریٰ بی بی کے ذریعے اب دباؤ بڑھایا جائے۔۔۔!!!
— Mughees Ali (@mugheesali81) October 9, 2023
اسی طرح مہرین زہرہ ملک نے لکھا کہ ۔۔لیکن ایمانداری سے اس پر کون یقین کرتا ہے؟ یہ ایک طنز ہے۔ اس کو ترتیب دینے والوں اور پلیٹ فارم فراہم کرنے والوں کے لیے شرمندہ۔
But who believes this, honestly? It’s a farce. Embarrassed for those who set this up and those who provided the platform. https://t.co/Z9j2WJbtGP
— Mehreen Zahra-Malik (@mehreenzahra) October 9, 2023
عمر جٹ نے کہا کہ صداقت عباسی کے انٹرویو سے کیا اب جلسہ گاہیں عوام سے بھر جائیں گی؟؟؟؟؟
صداقت عباسی کے انٹرویو سے کیا اب جلسہ گاہیںُ عوام سے بھر جائیں گی؟؟؟؟؟
— Umar Jutt (Student of Arshad Sharif) (@UmarJavaidJutt) October 9, 2023
اس کے علاوہ روہان احمد نے ٹوئٹ کیا کہ ۔ڈان نیوز پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی کا انٹرویو نشر کر رہا ہے، سابق ایم این اے جو چند روز قبل لاپتہ ہونے کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ عباسی کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ تک ایک دوست کے گھر رہے اور پھر گلگت چلے گئے۔سابق قانون ساز نے عمران خان کو 9 مئی کے تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
Dawn News is airing the interview of PTI leader Sadaqat Abbasi, the former MNA who returned home a few days ago after being 'missing'. Abbasi says he stayed at a friend's home for a month and then went to Gilgit.
The former lawmaker blamed Imran Khan for May 9 violence. pic.twitter.com/QZ9lZeQJgj
— Roohan Ahmed (@Roohan_Ahmed) October 9, 2023
عذیر یونس کہا کہ ۔ڈان نے ہتھیار ڈال دیے… میڈیا تنظیم اور وسیع تر میڈیا ایکو سسٹم کے لیے ایک تاریک، تاریک دن
https://twitter.com/UzairYounus/status/1711435058823708854?t=exVxEVHdrPq7LOVeEI-0TQ&s=08
صحافی ارشد یوسفزئی نے لکھا کہ آخر کار ڈان نیوز نے پنڈی بوائز کے سامنے دم توڑ دیا
Finally Dawn News succumbed to Pindi Boys. pic.twitter.com/FfQrbuEnuB
— Arshad Yousafzai (@Arshadyousafzay) October 9, 2023
صحافی مبشرزیدی نے اپنے مختصر ٹوئٹ میں لکھا کہ ۔آج مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔۔۔
آج مجھے بہت دکھ ہوا ہے pic.twitter.com/OTz8q9r5H2
— Mubashir Zaidi (@xadeejourno) October 9, 2023
خاتون سارہ الیاس نے لکھا کہ ۔ RIP Journalism(صحافت کا جنازہ )
RIP Journalism https://t.co/gRoXXzI7Hp
— Sarah Ilyas (@_SarahIlyas) October 9, 2023
ذیشان اسلم ڈوگر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ۔پاکستان میں صحافت کے لیے ایک اور افسوسناک دن۔انڈسٹری اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک عادل شاہ زیب، کامران شاہد اور کامران خان جیسے اینکرز اس کا حصہ ہیں کیونکہ وہ کمپنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔مجھے یقین نہیں ہے کہ سرکاری مارشل لاء کا اعلان کرنے کے لیے کیا باقی رہ گیا ہے!
Another sad day for journalism in Pakistan.
The industry cannot thrive as long as anchors like Adil Shahzaib, Kamran Shahid and Kamran Khan are part of it as they end up being a mouthpiece of the company.
I’m not sure what’s remaining to declare an official martial law! https://t.co/kK2PcBjOvB— Zeeshan Aslam Dogar (@ZeeshanDogar_5) October 9, 2023
اسی طرح فخر درانی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ،صداقت عباسی نے عادل شاہ زیب کے پروگرام میں بتایا کہ وہ کچھ عرصہ دوست کے پاس رہے پھر گلگت بلتستان چلے گئے اور وہاں سے آکر انہوں نے ضمانت کروائی اور اب آپکے پاس پروگرام میں آگیا۔ گلگت بلتستان سے واپس آکر گھر والوں سے دھاڑیں مار مار کر بھلا کون روتا ہے صداقت عباسی صاحب؟
صداقت عباسی نے عادل شاہ زیب کے پروگرام میں بتایا کہ وہ کچھ عرصہ دوست کے پاس رہے پھر گلگت بلتستان چلے گئے اور وہاں سے آکر انہوں نے ضمانت کروائی اور اب آپکے پاس پروگرام میں آگیا۔ گلگت بلتستان سے واپس آکر گھر والوں سے دھاڑیں مار مار کر بھلا کون روتا ہے صداقت عباسی صاحب؟
— Fakhar Durrani (@FrehmanD) October 9, 2023
اس کے علاوہ زبیر علی خان نے کہا کہ ،صداقت عباسی کا ماں کے ساتھ لپٹ کر رونا اس بات کی گواہی ہے کہ ریاست نے اس کے ساتھ ماں جیسا سلوک نہیں کیا۔۔۔ وہ دھاڑے مار کر روتا رہا جس ریاست کے لیے ایک گولڈ میڈلسٹ نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی اس سے جبرا بیان دلوا کر اس کی تزلیل کرنے کی کوشش کی گئی
صداقت عباسی کا ماں کے ساتھ لپٹ کر رونا اس بات کی گواہی ہے کہ ریاست نے اس کے ساتھ ماں جیسا سلوک نہیں کیا۔۔۔ وہ دھاڑے مار کر روتا رہا جس ریاست کے لیے ایک گولڈ میڈلسٹ نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی اس سے جبرا بیان دلوا کر اس کی تزلیل کرنے کی کوشش کی گئی
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) October 9, 2023
محمد عمیر نے لکھا کہ جس دن 3 اکتوبر بروز منگل عثمان ڈار کا انٹرویو ریکارڈ ہوا،اسی روز صداقت عباسی کی ضمانت منظور ہوئی،5 اکتوبر کو صداقت عباسی کا انٹرویو ریکارڈ ہوا،6 کو وہ فیملی کو ملے جس کے بعد وہ اب تک پھر غائب ہیں۔اس ضمانت کا سب کو 5 اکتوبر کو پتہ چلا اس سے قبل یہ ضمانت کہیں رپورٹ نہیں ہوئی۔یعنی صداقت عباسی کے تمام معاملات سیٹ کرکے ان کو سامنے لایا گیا
جس دن 3 اکتوبر بروز منگل عثمان ڈار کا انٹرویو ریکارڈ ہوا،اسی روز صداقت عباسی کی ضمانت منظور ہوئی،5 اکتوبر کو صداقت عباسی کا انٹرویو ریکارڈ ہوا،6 کو وہ فیملی کو ملے جس کے بعد وہ اب تک پھر غائب ہیں۔اس ضمانت کا سب کو 5 اکتوبر کو پتہ چلا اس سے قبل یہ ضمانت کہیں رپورٹ نہیں ہوئی۔یعنی… pic.twitter.com/fjbz64ppkI
— Muhammad Umair (@MohUmair87) October 9, 2023
خاتون نوشین یوسف نے مختصر ٹوئٹ میں کہا کہ ۔اب ڈان نیوز بہت ترقی کرے گا۔۔
https://twitter.com/nausheenyusuf/status/1711437462797508991?t=_YLbsJ9APNjsW8d7hFiYkA&s=08
اسی طرح فہیم اختر ملک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ،ڈان نیوز لیٹا نہیں وہ پہلے ہی لیٹا ہوا تھا بس مرضی کے وقت پر انٹرویو نشر کرانا تھا جو آج ہوگیا۔۔۔ پاکستان زندہ باد ۔
ڈان نیوز لیٹا نہیں وہ پہلے ہی لیٹا ہوا تھا بس مرضی کے وقت پر انٹرویو نشر کرانا تھا جو آج ہوگیا۔۔۔ پاکستان زندہ باد
— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) October 9, 2023
فہیم اختر ملک نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اب وہ سب دوست جو ڈان انتظامیہ کو صحافتی اخلاقیات زندہ رکھنے اور Resist کرنے پر مبارکباد دے رہے تھے وہ کیا کہیں گے؟ جس دن یہ بات سامنے آئی تھی اسی دن کہا تھا کہ ڈان کیا سی چینل کی جرات نہیں
اب وہ سب دوست جو ڈان انتظامیہ کو صحافتی اخلاقیات زندہ رکھنے اور Resist کرنے پر مبارکباد دے رہے تھے وہ کیا کہیں گے؟ جس دن یہ بات سامنے آئی تھی اسی دن کہا تھا کہ ڈان کیا سی چینل کی جرات نہیں https://t.co/8KNZ4FISo3
— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) October 9, 2023
صحافی سیرل المیڈا نے ٹوئٹ کیا کہ ۔ٹی وی مردہ ہے کیونکہ ٹی وی حکومت کے ساتھ بستر پر ہے…
TV is dead because TV is in bed with the regime…
— cyril almeida (@cyalm) October 9, 2023
اسی طرح سلمان عابد نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے کہاں سے اپنی آزادی،خود مختاری اور اظہار کی سچائی کا سفر شروع کیا اور آج اس میڈیا نے خود کو کہاں لاکر کھڑا کردیا۔ فرق کو سمجھنے کے لیے صحافی اور مالکان سیٹھ کے مفادات کو علیحدہ علیحدہ سمجھیں تو بہت کچھ سمجھنے کا موقع مل سکے گا۔
پاکستانی میڈیا نے کہاں سے اپنی آزادی،خود مختاری اور اظہار کی سچائی کا سفر شروع کیا اور آج اس میڈیا نے خود کو کہاں لاکر کھڑا کردیا۔ فرق کو سمجھنے کے لیے صحافی اور مالکان سیٹھ کے مفادات کو علیحدہ علیحدہ سمجھیں تو بہت کچھ سمجھنے کا موقع مل سکے گا۔
— Salman Abid (@Salmanabidpk) October 9, 2023
صحافی ضرار کھوڑو نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم نے کوشش کی اور ہم ناکام رہے۔ جتنی گالیاں دینی ہیں دے دیں۔
We tried and we failed. Jitni gaalian daini hain dai dain.
— Zarrar Khuhro (@ZarrarKhuhro) October 9, 2023
یاد رہے کہ پاکستان تحریک کے انصاف کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی صداقت عباسی نے ڈان نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں تحریک انصاف اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے،اس انٹرویو میں انھوں نے 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر منصوبہ بندی کرنے کے الزامات لگائے ہیں


