اسلام آباد (ای پی آئی )چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سائفر کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کا آغاز 2بج کر 49منٹ پر کیا ایک گھنٹہ 45منٹ کی سماعت چار بج کر 35منٹ پر اختتام پذیرہوئی ۔ کمرہ عدالت میں علیمہ خان،بیرسٹر اعتزازاحسن ،سلمان اکرم راجہ ، لطیف کھوسہ اور دیگر وکلا موجود تھے۔

سماعت کا آغاز ہوتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آئے تو ایف آئی اے کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی ، شاہ خاور اور ذوالفقار نقوی بھی بھی روسٹرم پر آگئے۔ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے موقف اپنایا 9 اکتوبر کو جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ کیس میں فرد جرم کی نقول ملزمان کو دیں گئیں ، لیکن ملزمان کے وکلا نے کہا ہے کہ جیل سماعت کے لئے ان کی درخواست زیر التوا ہے ،وکیل شیر افضل مروت کے کہنے پر ملزم نے دستاویزات پر دستخط کرنے سے بھی انکار کیا اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ

جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے خلاف درخواست پر فیصلہ کل یا پیر کو آ جائے گا ، اس پر اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت ان کیسز کو اکٹھا کرکے ہی سن لے ،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ درخواست گزار کی ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے ،ٹرائل کے حوالے سے کوئی اسٹے آرڈر موجود نہیں ،ٹرائل کورٹ نے ٹرائل اپنے حساب سے چلانا ہے ،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہاکہ یہ ٹرائل کو چلنے نہیں دے رہے ،

اس دوران چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے ٹرائل کورٹ کے ایشوز یہاں لے کر آ گئے ہیں ،یہ تو پنڈورا باکس کھلے گا تو ان کو پتہ چلے گا ، اس پر چیف جسٹس نے سلمان صفدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملے میں نہ پڑیں درخواست ضمانت پر اپنے دلائل کاآغاز فیشل سیکریٹ ایکٹ کی شق 5 سے کریں ،وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا اغاز کرتے ہوئے موقف اپنایاکہ فیشل سیکریٹ ایکٹ1923کا قانون آرمڈ فورسز کے لیے ہے ہم نے آٹھ کیسز دیکھے ،اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھا سابق وزیراعظم کے خلاف یہ ایکٹ استعمال ہوا ہو ، وکیل سلمان صفدرنے کہاکہ اس پورے کیس میں نہیں بتایا گیاکہ ممنوعہ جگہ کون سی ہے کہاں دشمن کے ساتھ شئیر کیا گیا ، یہ اسپیشل قانون ہے اس سارے ایشو پر اس کا عمل درآمد کرنا بدقسمتی ہے ، چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیاکہ مقدمہ میں الزام کیا ہے ؟اس پر وکیل نے جواب دیا کہ بڑے عجیب قسم کی دلیل آرہی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے سائفر ریکور کرنا ہے،ان کو کیسے پتہ چلا ٹمپرنگ ہوئی ہے ، کوئی ایکسپرٹس کی رپورٹ نہیں ہے ،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ یہ قانون دشمن کے ساتھ معلومات شیئر کرنے سے متعلق ہے لیکن بدقسمتی سے اس قانون کو سیاسی مخالفین کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ، سلمان صفدر نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی قیدی ہیں، ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ سائفر کو ریکور کرنا ہے، عمران خان پر ان کے الزامات ہیں کہ انہوں نے سائفر کو اپنے پاس رکھا اور ٹوئسٹ کیا، جب انہوں نے سائفر کو ریکور ہی نہیں کیا تو یہ کیسے پتہ چلا کہ اس کو ٹوئسٹ کیا، وکیل کا کہنا تھاکہ بڑی بدنامی کی باعث ہے آج تک کسی سابق وزیراعظم یا وزیر خارجہ کی اس ایکٹ کے تحت کاروائی نہیں ہوئی ، یہ قانون آرمڈ فورسز کے لیے ہے ، وکیل سلمان صفدرنے موقف اپنایا کہ نیشنل سیکورٹی وہاں پر ہے جہاں دشمن ممالک کے ساتھ معلومات شئیر ہوئی ہوں ،ان کا کیس ہے سائفر ریکور کرنا ہے حالانکہ ان کو ٹرائل جج نے ریمانڈ ہی نہیں دیا تھا، یہ کسی ایک شخص کا ایکشن نہیں تھا بلکہ ایک حکومت کا ایکشن تھا ، اگر ایک حکومت کہے کہ گذشتہ حکومت کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا تو کیا اس طرح مقدمات بنیں گے،وزارت خارجہ کیوں اس کا مدعی نہیں وزارت داخلہ کیوں مدعی ہے ، وکیل سلمان صفدرنے کہاکہ17 ماہ کی تاخیر سے مقدمہ کہ ایف آئی آر کیوں درج ہوئی ،پراسیکیوشن کے سائفر کیس میں بہت سے لنکس مسنگ ہیں۔ سوموٹو کیس میں سائفر کا سارا معاملہ ڈسکس ہوا ،سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران کہیں نہیں کہا گیا کرمنل ایکٹ ہوا ہے۔ معاملہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا کابینہ کے پاس گیا انہوں نے نہیں بتایا ، وکیل سلمان صفدرنے کہاکہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ کا لب لباب تھا کہ سائفر کی جو لینگوئیج ہے وہ قابل مذمت ہے ،سائفر کی زبان کے استعمال پرسفارتی سطح پرشدید احتجاج کیا گیا ،سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ سات مارچ 2022 کو سائفر وصول ہوا ، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیاسائفر امریکہ سے وصول ہوا ؟اس پر اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ پاکستان ہائی کمیشن امریکہ سے وصول ہوا ، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ27 مارچ کو سائفر لہرایالیکن یہ بات ایف آئی آر میں نہیں ہے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں سائفر سامنے رکھا گیا 9 اپریل 2022 کو کابینہ کی میٹنگ میں سائفرکوڈی کلاسیفائیڈ کیا گیا ،جس کے بعد چیف جسٹس ، اسپیکر اور صدر کے پاس بھیجا گیا ، وکیل سلمان صفدرکا مزید کہنا تھاکہ ان کا کیس ہے کہ سات مارچ سے گیارہ اپریل 2022 تک 33 دن سائفر عمران خان کے پاس رہا ، اس کے بعد گیارہ اپریل 2022کو سابق وزیر اعظم شہباز شریف اقتدارمیںآتے ہیں24 اپریل کو سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے میٹنگ کی یقینا انہوں نے سائفر پر میٹنگ کی ہو گی ، 30 ستمبر کو کابینہ ایف آئی اے کو کہتی ہے کہ سائفر وزیر اعظم ہاوس سے مسنگ ہے ،

سلمان صفدر نے کہاکہ ان کا کیس ہے کہ 33 دن سائفر چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس رہا ، اور ان کے بعد آنے والے وزیراعظم شہباز شریف کے پاس سائفر 169 دن رہا کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں ؟کیا شہباز شریف کا بیان ریکارڈ کیا گیا؟اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیاقومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ منٹس کسی کے پاس ہیں ؟اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ میٹنگ منٹس ریلیز نہیں ہوئے تھے صرف پریس ریلیز جاری ہوئی تھی ،اس دوران نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی پریس ریلیز عدالت کے سامنے پڑھی گئی اس دوران وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ میں صرف ضمانت کے کیس پر دلائل دے رھا ہوں کہ یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، چیف جسٹس نے سوال کیاکہ کیا کابینہ کے میٹنگ منٹس سپریم کورٹ کے سامنے تھے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ کابینہ کے میٹنگ منٹس بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ،سپریم کورٹ کے سامنے بھی پریس ریلیز ہی تھیں ،اس پر وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ جب پراسیکیوشن کے پاس کچھ نہ ہو تو پھر شریک ملزمان کے بیانات کا سہارا لیا جاتا ہے ، اعظم خان کا بیان انہوں نے شامل کیا ہے حالانکہ وہ ایف آئی آر میں نامزد ہے ،عدالت اس معاملے سے آگاہ ہے کہ اعظم خان کے لاپتہ ہونے پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی ، سلمان صفدر نے کہاکہ شریک ملزم کے بیان کی حیثیت کیا ہوتی ہے عدالتیں اپنے فیصلوں میں لکھ چکی ہیں ، ریکارڈ مینٹین کرناوزیراعظم کے آفس کی ذمہ داری ہوتی ہے ،اگر یہ کرمنل ایکٹ اعظم خان کو معلوم تھا تو وہ مدعی کیوں نہیں ؟ اعظم خان 15 اگست کو ملزم ٹھہرتے ہیں ، پھر اعظم خان لاپتہ ہوتے ہیں پریشر دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، یہ ڈاکومنٹری ثبوتوں کا کیس ہے کہاں ہیں وہ دستاویزات ؟ فزیکل ریمانڈ تو ان کو ملا نہیں ،

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کے سامنے وزیراعظم کا حلف پڑھاتو اس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے سلمان صفدر سے کہاکہ آپ اپنا نام ہی پڑھ لیں ،

اس دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم کی گمشدگی کی ایف آئی آر عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ قانون کے مطابق ایسے بیان کی کوئی حیثیت نہیں جو غیر قانونی حراست کے دوران دیا گیا ہو، ریکارڈ کی دیکھ بھال پرنسپل سیکرٹری کی ذمہ داری ہوتی ہے ،اس کیس میں الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم سائفر کو اپنے ساتھ لے گئے ،ایسی صورتحال میں تو اس مقدمے کا مدعی اعظم خان کو ہونا چاہئیے تھا ،اس دوران عدالت نے استفسار کیاکہ اگر صدر یا وزیراعظم سے کسی سے کوئی قتل ہو جاتا ہے توکیا انہیں استثنی حاصل ہو گا ؟ اس دوران سلمان صفدر نے استدعا کہ کہ عدالت پلیز آج ضمانت پر فیصلہ کر دے کیونکہ پیر کے روز ٹرائل کورٹ فرد جرم عائد کرنے لگی ہے اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ میں نے پہلے بھی کہا تھا جب دلائل مکمل ہو جائیں گے دو تین دن فیصلے میں لگیں گے جتنا وقت آپ کو دیا ہے اتنا وقت پراسیکیوشن کو بھی دوں گا ،وکیل سلمان صفدر نے اپنے دلائل مکمل کیے تو اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کی چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر سے کہاکہ آپ دلائل شروع کریں سوا چار بجے تک دلائل دیں پھر آئندہ دلائل ہوں گے ، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سروس میں جو بھی ہو گا اس پر اس ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے ،قانون کے پرانے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا عمل نہیں ہو گا ،اس دوران عمران خان کے وکیل نے کہاکہ 1960 میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو آرمی ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا ،اگر وہ چاہییں تو فوجی عدالتوں میں بھی ٹرائل ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ، عدالت نے استفسار کہاکہ کوئی وزیر اعظم ، صدر ، گورنر آتے ہیں کیا پوری زندگی وہ آفیشل کو ظاہر نہیں کر سکتے ؟ پراسیکیوٹرنے کہاکہ بالکل پوری زندگی وہ ڈسکلوز نہیں کر سکتے ،یہ ایسا ڈاکومنٹ ہے جس کو آپ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے وہ وایس جانا ہے ،یہ سیکریٹ ڈاکومنٹ تھا ڈی کلاسیفائیڈ بھی نہیں ہوا اور ہو بھی نہیں سکتا ،چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس کیس کے چالان کے ساتھ جو ڈاکومنٹ ہیں کیا سائفر کی کاپی اس کے ساتھ منسلک ہے ،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہاکہ چالان کے ساتھ سائفر کی کاپی نہیں لگ سکتی ، گواہوں کے بیانات بھی ہیں وزارت خارجہ سے متعلق بھی گواہ ہیں ، چیف جسٹس نے سوال کیاکہ نہ کوڈڈ نہ ہی ڈی کوڈڈ سائفر چالان کا حصہ ہے ،؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہاکہ سیکریٹ ہونے کی وجہ سے اس کو چالان کے ساتھ منسلک کر نہیں سکتے اس دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کمرہ عدالت سے چلی گئیںاس دوران عمران خان کے وکیل کا کہنا تھاکہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں دو گیٹگریز ہیں ایک قابل ضمانت دوسری ناقابل ضمانت ہیں عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرنا چاہی تو وکیل نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت کل یعنی جمعہ تک ملتوی کی جائے تاہم عدالت نے اس کی یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت پیرتک ملتوی کردی۔