لاہور (عابدعلی آرائیں)لاہور ڈسٹرکٹ کو رٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے احتجاج کرنے پرگرفتارکئے گئے اساتذہ کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کاتحریری حکم نامہ جاری کیا ہے
13 اکتوبر 2023کو جاری ایک صفحہ پرمشتمل حکم نامہ میں بتایا گیاہے کہ ملزمان اپنے وکلا حبیب الرحمن و دیگر عدالت میں موجود ہیں ریاست کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر عمران رضااور تفتیشی افسر کیس کے ریکارڈسمیت پیش ہوئے
پیراگراف نمبر 1
عدالت نے لکھا ہے کہ اس کیس میں تفتیشی افسر نے ملزمان کے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے جبکہ ملزمان کے وکلا کی جانب سے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
پیراگراف نمبر 2
عدالت نے لکھا ہےکہ دونوں فریقین کے دلائل کو سنا گیا اور ریکارڈ کاجائزہ لیا گیا۔
پیراگراف نمبر 3
ایف آئی آر کے مندرجات سے ظاہر ہوتاکہ کچھ اساتذہ احتجاج کررہے تھے اور سڑکیں بند کررہے تھے لیکن ریکارڈ سے یہ ظاہر ہے کہ ایف آئی آرمیں کہیں بھی ان ملزمان کا کوئی کردارظاہر نہیں کیا گیااور پولیس کے پاس کوئی بھی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے جس سے استغاثہ کا کیس مضبوط ہوتا ہو۔
پیراگراف نمبر 4
عدالت نے لکھا ہے جی ایف آئی آر میں جو کہانی لکھی گئی ہے اس میں کسی ملزم کا مخصوص کردار نہیں بتایا گیااب یہ ممکن نہیں ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد ہرکسی کا کوئی کردار ظاہر کیا جائے ، اس واقعہ میں کوئی زخمی بھی نہیں ہوا ،نہ ہی ریکارڈ پر کوئی میڈیکولیگل سرٹیفیکیٹ موجود ہے جس سے فوجداری قانون کی شق 324کامقدمہ بنتاہو ۔ ریکوری میمو میں بھی استغاثہ نے لکھا ہے کہ ان ملزمان سے چار کارپٹ اور ایک ٹینٹ برآمد ہوا ہے ۔لیکن ملزمان پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ وہ ٹینٹ میں ان کارپٹس پر بیٹھ کرپر امن احتجاج کررہے تھے ۔ ان ملزمان سے کوئی ہتھیار بھی برآمد نہیں ہوا۔
پیراگراف نمبر 5
عدالت نے لکھا ہے کہ دونوں فریقین کے وکلا کی معاونت اور ریکارڈ کا جائزہ لینے سے ان ملزمان کے خلاف ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر ان کاجسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ دیا جائے ۔ عدالت نے کہا ہےکہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ اگر ملزم کے خلاف ریکارڈپرکوئی شہادت موجود نہ ہوتو مکینیکل طریقے سے ریمانڈنہیں دیا جاسکتااس لئے ان ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا جاتا ہے اگر یہ کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہیں ہیں تو ان کو فوری طور پررہا کیاجائے۔
پیراگراف نمبر 6
فاضل مجسٹریٹ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ یہ طے شدہ قانون کے مطابق ڈسچارج آرڈر کا مطلب مقدمہ سے بریت یا ایف آئی آر کی منسوخی نہیں ہے ملزمان کیخلاف کیس زندہ رہے گا کیس کی تفتیش جاری رہے گی مزید تفتیش کے بعد تفتیشی افسر ڈسچارج کئے گئے ملزمان کودوبارہ گرفتار بھی کرسکتاہے اور مجازعداالت کے سامنے ان کوچالان بھی کرسکتاہے ، یہ بھی طے شدہ قانون ہے کہ مجاز عدالت بھی ڈسچارج کئے گئے ملزمان کو ٹرائل کاسامنا کرنے کےلئےطلب کرسکتی ہے ۔ عدالت نے لکھا ہے کہ فیصلے میں یہ لائنیں اس لئے لکھی گئی ہیں تاکہ کیس سے ڈسچارج کرنے کے سکوپ کے حوالے سے موجود شبہات کودور کیاجاسکے۔


