لاہور (ای پی آئی ) پاکستان تحریک انصاف کےسابق سینئر رہنما اور سابقہ وفاقی وزیر فرخ حبیب 5 ماہ کی روپوشی کے بعد منظر عام پر آگئے ،
لاہور میں پریس کانفرنس چیئرمین پی ٹی آئی پر الزامات کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف سے راہیں جدا کر کے جہانگیر ترین کی قیادت میں استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق 9 مئی واقعات کے بعد سے روپوش سابق وفاقی وزیر اطلاعات فرخ حبیب گذشتہ روز اچانک استحکام پاکستان پارٹی کے دفتر پہنچ گئے استحکام پاکستان پارٹی کے رہنماؤں عون چوہدری اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فرخ حبیب نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں سے میں نے اپنے اہل خانہ سے رابطہ منقطع کیا ہوا تھا جس کی کچھ وجوہات تھیں کیونکہ گزشتہ 5 ماہ سے گھر میں موجود نہیں تھے.
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ افسوس ناک تھا جس کی وجہ سے گھروں میں موجود نہیں تھے اور گزشتہ 5 ماہ سے یہ سوچ دماغ میں تھی کہ جو سیاست ہم کر رہے ہیں کیا اس کے لیے ہم نے سیاست کا آغاز کیا تھا۔
فرخ حبیب نے کہا کہ ہم حقیقی معنوں میں پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لیے جدوجہد میں تھے۔ حالات کے تسلسل اور جذبات میں انسان اتنا آگے چلا جاتا ہے کہ کچھ پتا نہیں چلتا، میں نے وقت لیا تاکہ اپنا کوئی فیصلہ کروں، میرے دوستوں نے اس متعلق میری مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سیاست کو جمہوری جدوجہد سے ہٹ کر پرتشدد ماحول میں لائے۔ اپریل میں عدم اعتماد تحریک کا عمل ہوا جو کہ آئینی طریقے سے ہوا لیکن اس کے بعد جمہوری جدوجہد ہونی چاہیے تھی، انتخابات کا انتظار کرنا چاہیے تھا لیکن پرتشدد مزاحمت کا راستہ اختیار کرلیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم خود مار کھا لیتے تھے لیکن پرتشدد سیاست نہیں کرتے تھے، ہم رات دن سیاسی کام کرتے تھے۔ ہم اس دور سے کام کر رہے تھے جب لوگ پوچھتے تھے تحریک انصاف کیا ہے، اس وقت ہمارا پیغام قائد اعظم کا پاکستان اور پرامن سیاسی جدوجہد تھی۔
فرخ حبیب نے کہا کہ 9 اپریل کے بعد لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے اور مزاحمت کرنے کا پیغام دیا گیا، معصوم لوگوں کو اکسایا گیا اور ان کے دماغ میں مسلسل جذبات بھڑکائے گئے کہ پاکستان کے ادارے آپ کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ سے لوگ پرامن جدوجہد کی توقع کرتے تھے آپ نے بیلٹ کے بجائے بلٹ کا راستہ دیا اور پھر 24 گھنٹے مزاحمت ہوتی رہی، رات دن ٹی وی پر بیٹھ کر نیلسن منڈیلا کا سبق دیا جاتا تھا لیکن منڈیلا نے نوجوانوں کو پیٹرول بم بنانے کی ترغیب نہیں دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہوئے، املاک کو نقصان پہنچا، عمران خان کی ذمہ داری تھی کہ وہ تدبر دکھاتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، ان کا خیال تھا کہ لوگ ان کے لیے لڑیں۔
فرخ حبیب نے مزید کہا کہ ہمارے دور حکومت میں بھی اس وقت کی اپوزیشن نے برداشت کیا۔ 9 مئی کے واقعہ کے لیے مسلسل لوگوں کی ذہن سازی کی گئی، اکسایا گیا کہ گرفتاری کے وقت لوگ جمع ہوجائیں۔
فرخ حبیب نے کہا کہ آپ کی گرفتاری کے وقت چند لوگوں کو پتا نہیں کیا احکامات تھے، جب میں نے حالات دیکھے تو کشیدہ تھے، میں کہیں بھی نہیں گیا، جو کچھ اس دن ہوا یہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مزمت تھا جس کو سیاہ واقع کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔ عمران خان نے بدقستی سے پرتشدد سیاست کو فروغ دیا، ہم اس عمران خان کے ساتھ شامل نہیں ہوئے تھے، مدینہ کی ریاست میں لوگوں کو اکسایا نہیں جاتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک اس طرح آگے نہیں چل سکتا جس طرح یہاں ہو رہا ہے۔فرخ حبیب نے کہا کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو راستہ دکھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے توشہ خان سے متعلق نواز شریف اور آصف زرداری پر تنقید کرتے تھے لیکن عمران خان نے بھی وہاں سے گھڑیاں لیں، بھلے ہی انہوں نے پیسوں سے خریدیں لیکن ہمیں اس کا پتا تک نہیں تھا۔
فرخ حبیب نے کہا کہ میرا سوال ہے کہ عمران خان کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ توشہ خانہ سے گھڑیاں نہ لیتے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے نوجوان سے کہتا ہوں کہ وہ اس بارے میں سوچیں، صبر کریں، یہ سوچیں کہ اگر کسی کی گاڑی جلی ہے تو وہ بھی کسی شہری کی ہے۔ نوجوانوں سے پوچھا کہ گاڑیں کیوں توڑی ہیں تو کہنے لگے خاب صاحب پر حملہ کرنے آئے تھے، نوجوانوں کے لیے سوال چھوڑ رہے ہیں کہ ہم حقائق کو چھوڑ کر ایسے بیانیہ کے پیچھے نہ لگیں کہ ہم اپنی ہی ریاست کے خلاف ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی اپنی اپنی جگہ سوچ رہے ہیں، جن لوگوں کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں وہ جیل میں ہیں۔


