اسلام آباد(ای پی آئی) سارا انعام قتل کیس میں ملزم شاہنواز امیر نے عدالت کے سامنے اپنے بیان میں اپنے خلاف قتل کے الزامات کو من گھڑت قرار دیا ہے.

فوجداری قانون کی دفعہ 342 کے بیان میں شاہ نواز نے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کی جانب سے جھوٹی کہانی بنانے کےلئے ڈاکٹر نے سر پر متعدد انجریوں کا بیان دیا ، میرے خلاف پولیس نے قتل کی مکمل طور پر جھوٹی کہانی بنائی ، جو تصاویر بطور ثبوت پیش کی گئیں اس پر بھی مجھے شک ہے میں جائے وقوعہ کی کسی بھی تصویر میں موجود نہیں ، میرے خلاف ڈمبل سے قتل کرنے کی بھی کہانی پولیس نے بعد میں بنائی ، مجھے سارہ انعام کی خون آلود کپڑوں کا کچھ معلوم نہیں ، مقتولہ کے والد انعام الرحیم، چچا اکرام الرحیم کسی وقوعہ کے چشم دید گواہ نہیں،

شاہنواز امیر ے کہا ہے کہ پولیس کو دیے گئے اپنے پہلے بیان میں والد انعام الرحیم نے مجھ پر قتل کا کوئی الزام نہیں لگایا ، اس کیس میں انعام الرحیم کو ظفر قریشی نے قتل کے بارے میں بتایا جوشاملِ تفتیش ہوا نہ گواہ ے ، میرے کوئی خون آلود کپڑے پولیس کو برآمد نہیں ہوئے پولیس نے جائے وقوعہ کامکمل کنٹرول لے لیا تھا ، میرے خلاف جائے وقوعہ سے مختلف تاریخوں پر ثبوت اکٹھے کیے گئے ، جائے وقوعہ سے برآمد کیے گئے ثبوت بھی جھوٹے ہیں ،

شاہنواز امیر کاکہنا ہے کہ میرے خلاف ریکارڈ پر لائے گئے میڈیکل ثبوت بھی متنازع ہے ، کوئی ریڈیولوجسٹ بطور گواہ نہ کوئی ایکسرے بطور ثبوت میرے خلاف پیش کیا گیا ، پولیس نے مدعی کے ساتھ مل کر جھوٹی کہانی بنائی ، موبائل فون ٹوٹنے کی کہانی اصل حقائق کو منظرعام سے حذف کرنے کے لیے بنائی گئی ، پولیس نے سارہ انعام کی موبائل سم لی نہ ہی فرانزک کے لیے بھیجا ، مدعی نے سارہ انعام کے اصل موبائل کو تبدیل کر دیا ، پولیس نے ثبوت مدعی سے حاصل کیے جو میرے خلاف پلانٹ کیے گئے تھے ، اگر ثبوت وقتِ وقوعہ والے دن کمرے میں موجود تھے تو اسی دن پولیس نے کیوں نہیں برآمد کیے؟

شاہنواز امیر کاکہنا ہے کہ میرے سارہ انعام کو بھیجے گئے وائس میسجز بھی مدعی کی جانب سے جھوٹی کہانی ہے ، میرے نہ سارہ انعام کے موبائل سے وائس میسجز نہیں برآمد ہوئے ، دورانِ جسمانی ریمانڈ پولیس نے میری آواز ریکارڈ کی اور فرانزک کے لیے بھیج دی ، مجھے معلوم نہیں پولیس نے میرے بینک اکاؤنٹ کی کون سی اسٹیٹمنٹ حاصل کی ، کسی مجسٹریٹ کی موجودگی میں میری آواز کا نمونہ نہیں لیاگیا ، 5 اکتوبر 2022 کو کیا گیا میرا مبینہ وائس سیمپل بھی ایف آئی اے کے نہیں بھیجاگیا ،

بیان میں شاہنواز امیر کاکہنا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے میرے وائس سیمپل کی فرانزک بھی پولیس کی جانب سے من گھڑت کہانی ہے ، میرےطبی معائنے کی بھی کوئی درخواست نہیں تھی میرے خلاف جھوٹی دستاویزات بنائی گئیں میرے موبائل سے جائے وقوعہ کی لی گئی تصاویر کا مجھے معلوم نہیں ، میرے اور سارہ انعام کی وٹس ایپ چیٹ سے ظاہر ہوتا ہےکہ ہمارے درمیان کچھ تنازعہ نہ تھا ، میں اور میری اہلیہ سارہ انعام بہت خوشی سے ساتھ رہ رہےتھے ، وقوعہ والے روز سارہ انعام میرے پاس ہنسی خوشی موجود تھیں ”