اسلام آباد (ی پی آئی )سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کو کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنیئر قانون دان اعتزاز احسن ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں بہت بڑا دن ہے اور یہ تاریخ میں اس کو سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بہت اہم کیس میں بہت اہم فیصلہ دیا ہے اور فیصلہ جمہوریت کو آئین کو قانون کے سارے نظام کو مستحکم کرے گا اور یہ بھی ثابت کر دیا سپریم کورٹ نے کہ بالادستی قانون اور آئین کی ہوگی جس طرح ایک انگریز آرچ بشپ نے کہا تھا بادشاہ کو بادشاہ نے کہا میں تو بادشاہ ہوں میرے پاس میں قانون ہوں اس نے کہا آپ بادشاہ ہیں لیکن آپ بادشاہ اس وجہ سے ہیں کہ آپ کو قانون بناتا ا ہے بادشاہ قانون آپ سے بالادست ہے

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ اتنا اہم فیصلہ ہے کہ تمام اداروں کو یہ اطلاع ہو جانی چاہیے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ آج واضح الفاظ میں یہ فرما دیا ہے کہ قانون سب سے بالادست ہے یہ فوجی عدالتوں سے سویلینز کا ٹرائل ہم اس کے خلاف تھے ہم نے اس کے خلاف بحث کی اور اس کے خلاف ہماری جدوجہد رہی یہ فیصلہ جو سپریم کورٹ کا ہے اس میں میرے وکیل راجہ سلمان راجہ،اورسردار لطیف کھوسہ یہاں سے چلے گئے تھے یہ چار پانچ سے اس بات پہ متفق ہے کہ جو پٹیشنز ہماری ہیں وہ ان کا جواز ہے اور ان میں ریلیف دینی ،داد رسی دینی سپریم کورٹ کا استحقاق ہے پھر اس کے بعد انہوں نے جو ملٹری کورٹس اس وقت آج کی خبر کے کل کی خبر تھی کہ وہ اس میں کاروائی شروع ہو گئی ہے اور یہ حکومت نے بھی درخواست کی تھی کہ انہوں نے کاروائی شروع کر دی ہے جبکہ کاروائی کے بارے میں خود حکومت نے اٹارنی جنرل نے یہ موقف لیا تھا کہ ہم کوئی کاروائی نہیں شروع کریں گے

انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں جب تک آپ کو سپریم کورٹ کو اطلاع نہ دیں یہ اطلاح انہوں نے دی ہے حکومت نے پر ٹرائل شروع کر لینے کے بعد یہ پہلے اطلاع دینی تھی اس کو بھی انہوں نے رد کیا ہے اور سپریم کورٹ نے جو ملٹری کورٹ کے بارے میں قانون کی تشریح جو تھی کہ گورنمنٹ چاہتی تھی کہ اس کی تشریح ہو کہ فوجی عدالتوں میں سول افراد کا بھی ٹرائل چل سکتا ہے انہوں نے اس کو بھی ختم کردیا

انہوں نے خاص کہا کہ نو مئی اور 10 مئی یہ جو واقعات ہیں ان کے جو ملزمان ہیں ان واقعات پہ جو الزام حکومت نے لگایا وہ سب کے سب فوجی عدالتوں میں نہیں چل سکتے ان کے خلاف مقدمہ چلے گا تو سویلین عدالتوں میں چلے گا چلے گا

انہوں نے کاروائی فوجی عدالتوں کی ختم کر دی اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس قسم کا اہم فیصلہ اور پاکستان میں قانون آئین کی بنیادوں کو مستحکم کرے گا آئندہ آپ دیکھیں گے اس میں جمہوریت اور جمہوری اداروں میں اور قانون کے دوسرے سویلین اداروں میں ذرا زیادہ اعتماد آئے گا اور ان کو اپنی کارکردگی دی بہتر کرنی چاہیے

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں میں شکر گزار ہوں کہ سپریم کورٹ نے سب فریقین کو بڑے حوصلے سے سنا اس نے سارے انہوں نے دلائل سنے سب کو موقع دیا ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہترین بہترین ججمنٹ دی ہے اور اپنی جب ججمنٹس لکھیں گے سپریم کورٹ یہ شارٹ آرڈر ہے تو اس سے اور رہنمائی ہوگی عوام کی عدالتوں کی وکلا ء کی اور سول سوسائٹی اور زیادہ مضبوط ہوگی

ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالتوں میں کوئی لڑائی نہیں ہوتی ہماری یہ فوجی عدالتوں کا مسئلہ تھا ہمارے افواج جو ہیں فوج جو ہے یہ آئین کے حکمت ہے آئین کے ماتحت چلنے کی یہ خواہش رکھتی ہے مزاج رکھتی ہے تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے یہ 102 بندے تھے ان کو یہ ریلیف ملی ہے کہ وہ فوجی عدالتوں اور فوجی کسٹڈی سے وہ واپس سولین کسٹڈی میں جائیں گے اور پولیس اور ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے گا اور ضمانت کا حق دیا جائے گا

انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ایک عدالت کا آپ سمپل پہلا اصول ہے کہ جو جج ہے وہ آزاد ہونا چاہیے اس کو یہ فکر نہ ہو کہ میں نے اگر یہ فیصلہ اس کے حق میں دے دیا اس کے حق میں دے دیا تو مجھے ٹرانسفر کر دیں گے مجھے شوکاز نوٹس کر دیں گے میرے خلاف وہ آزادی سے فیصلہ دے لہذا ہمارے آئین کے تحت عدالت وہی ہو سکتی ہے جس پر ہائی کورٹ کا دسترس ہو صرف ہائی کورٹ کے باہر جو ہے اختیار سے باہر اس کے سپروائز کرنا اس کو دیکھنا اس کو ایڈمنسٹر کرنا وہ عدالت ہی نہیں ہے

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اب فوجی عدالت میں تو افسر بیٹھے ہوئے ہیں وہ تو آزاد نہیں کرنل صاحب بیٹھے ہوں گے فوجی عدالت لگی ہوگی اب کرنل صاحب کو تو یہ پتہ ہے کہ مجھے یوں ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے مجھے یوں نکالا جا سکتا ہے فوج سے تو بھائی وہ فوجی عدالت عدالت ہی نہیں کہلا سکتے اور سپریم کورٹ نے آج جو سیکشن چار کو بھی کالعدم قرار دیا ہے اس سے آب ائندہ بھی نہیں کہہ سکتے

پنجاب میں الیکشن کے لئے 14مئی کے فیصلہ پر علمدرآمد نہ ہونے اور اب اس فیصلہ پر علمدرآمد کے حوالہ سے کئے گئے سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہاآرڈر پر علمدر آمد ہوگا مجھے یقین ہے کوئی ایسی بات نہیں عمر عطا بندیال صاحب بھی کر جاتے آرڈرتو اس پر عمل درآمد ہوگا پوائنٹ یہ ہے پہلے بھی اس عدالت نے یا لیجیٹمائز کرنا تھا فوجی عدالتوں کویا نہیں کرنا تھا ججوں نے خدانخواستہ خود کو فوجی افسروں کو عدالت سے اٹھا کے تو نہیں کرنا لاء انہوں نے ڈکلیئر کرنا ہے انہوں نے لار ڈکلیئر کر دی

نواز شریف کی آمد ،خطاب اور چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بارے میں سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان میں ماضی کے علاوہ اور کوئی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی

پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے لیول فیلڈ پلینگ کے مطالبہ اور نواز شریف کے چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بن جانے کی صورت میں ان کو قبول کرنے بارے سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ کنٹروورشل ہوگا کنٹروورشل ہوگا میں تو سمجھتا ہوں کہ ہر کسی کو ایک ایک قدم پیچھے لینا چاہیے فوج ملٹری کورٹ سے اعتراض کر لے اب تو ہو گیا یہ پہلے ہوجانا چاہیے تھا

مسلم لیگ نواز اس معاملے پہ ایک تاریخ وہ ڈیلے کرنا چاہتے ہیں کہ پہلے حلقہ بندیاں ہو جائیں اور کل بھی پرسوں بھی انہوں نے کہا مریم بی بی نے اور ان کے ایک دو سینیئر ممبرز نے اور وہ ایک قدم پیچھے ہو جائیں گے ڈیٹ ہو جائے پیپلز پارٹی ڈیٹ مانگ رہی ہے اور عمران خان بھی عمران خان بھی

اگر ڈیٹ ہو جائے الیکشن کمیشن آزاد ہو جائے تو عمران خان بھی ایک قدم پیچھے لے کہ وہ یہ نہ وہ وعدہ کرے کہ ایسے الیکشن ہو گئے تو وہ شور نہیں ڈالے گا

باہر نکلتے ہی سائفر کیس کے حوالہ سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سائفر کیس تو کوئی کیس بھی نہیں ہے کہا جارہا کہ 28گواہ پیش ہونے ہیں28گواہ کیا کریں گے سائفر میں خود کچھ ہو تو سائفر کو ڈی سائفر کرنا یاکلاسیفائیڈ کو ڈی کلاسیفائی کرنا یہ اختیار ہے پرائم منسٹر کا یہ اختیار ہے اس کے حلف میں لکھا ہے یہ اس کا اختیار ہے اور وہ استعمال کرے گا اس اختیار کو اگر وہ سمجھتا ہے