لاہور (ای پی آئی ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جیل میں سکیورٹی سے متعلق درخواست پر سماعت ،
عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکیل کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ جو سہولیات نوازشریف کو دی جا رہی ہیں، وہ باقیوں کو بھی فراہم کی جائیں۔ بشریٰ بی بی کی درخواست پر سردار لطیف کھوسہ عدالت پیش ہوئے،
انہوں نے دلائل میں کہا کہ 5 اکتوبر کو سماعت ہوئی تو عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کئے۔ چیئرمین تحریک انصاف کی جیل میں سکیورٹی اور تحفظ کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں ،عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خطرہ ، بشریٰ بی بی نے عدالت کو کیا کہا ؟ مکمل تفصیلات سامنے آگئیں
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ سپرٹنڈنٹ جیل کو بلا لیتے ہیں ، وہ آ کر بتا دیں گے کیا سہولیات دی جا رہی ہیں۔ اس درخواست پر آرڈر کر کے آئندہ ہفتے کیس کو دوبارہ لگا دیں گے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جو سہولیات نوازشریف کو دی جا رہی ہیں باقیوں کو بھی مہیا کی جائیں۔ نوازشریف کی طرح چیئرمین پی ٹی آئی کی بھی سزا معطل ہو چکی ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عمران خان کو جیل مینوئل کے تحت سہولیات دے رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک درخواست شیر افضل مروت کی تھی، اس پر ڈویژن بینچ نے آرڈر کیا ہے۔ اٹک تو کھلا علاقہ ہے وہاں کیا سہولیات تھیں یہاں کیا ہیں؟
لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تو سزا بھی معطل ہے پھر بھی ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ خادم حسین کیس میں آپکی ججمنٹ ہے، اسی ڈائریکشن پر عملدرآمد کرا دیں، اسی ڈائریکشن پر عمل کروا دیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جیل سپرٹنڈنٹ کو اسی لئے بلا رہا ہوں تاکہ تسلی ہو جائے کہ عمل درآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔


