اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرصدارت اعلی عدلیہ کے ججزکے مواخذے کے واحد فورم سپریم جوڈیشل کونسل کے پہلے اجلاس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیاگیاہے جبکہ دوسرے جج جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف شکایت کنندہ سے ثبوت طلب کرتے ہوئے شکایت کرنے والی خاتون آمنہ ملک کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیاگیاہے، کونسل نے فوجی عدالتوں میں سویلینزکےٹرائل کرنے کا قانون کالعدم قراردینے والے بینچ کے سربراہ اور عدالت عظمی کے سینئر ترین جج جسٹس اعجازالاحسن کیخلاف دائر کی گئی شکایت مسترد کردی ہے ۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جاری کیے گئے ایک صفحے کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا گزشتہ اجلاس 12 جولائی 2021 کو ہوا تھا جب چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر جسٹس گلزار احمد فائزتھے اس کے بعد سے مزید شکایات موصول ہوئیں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کونسل کا اجلاس 27 اکتوبر 2023 کو ساڑھے گیارہ بجے بلایا جس میں دو نکاتی ایجنڈا رکھا گیا پہلا ایجنڈا کونسل کو موصول ہونے والی شکایات اور دوسرا ایجنڈا چیئر مین کی اجازت سے کوئی بھی معاملہ تھا۔
سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن ،ہائی کورٹس کے دو چیف جسٹس صاحبان جسٹس امیر حسین بھٹی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل ہے اس کونسل نے 29 شکایات کا جائزہ لیا جن میں سے 19 مسترد کردی گئیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ججز کے خلاف جو شکایات تھیں ان پر فیصلے سے ان ججزکو آگاہ کیاجائےگا اور جو ججز اس دنیا میں نہیں رہے ان کے قانونی ورثا کو آگاہ کیا جائے گا کونسل نے نوٹ کیا کے کچھ وکلاء کی طرف سے بے بنیاد شکایات درج کی گئی تھی ان وکلا کو آئندہ کے لیے خبردار کیا جائے گا ۔
اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف دس شکایات درج کی گئی تھیں سپریم جوڈیشل کونسل نے تین دوکی اکثریت سے یہ فیصلہ کیا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں ان شوکاز نوٹسز کے ساتھ شکایات کی کاپیاں بھی بھجوائی جائیں گی اور ان سے 14 روز میں جواب طلب کیا جائے تاہم اقلیتی ممبران نے موقف اپنایا کہ انہیں ان شکایات کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ان شکایات میں سے ایک شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن جسٹس اعجازالاحسن کے خلاف تھی اور جسٹس اعجاز الاحسن نے اس شکایت کا جائزہ لینے کے دوران کونسل میں بیٹھنے سے معذرت کر لی جس پر کونسل کی تشکیل تبدیل کرتےہوئےاگلے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کو کونسل میں بٹھایا گیا کونسل نے شکایت کا جائزہ لینے کے بعد یہ شکایت مسترد کردی
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایک اور شکایت آمنہ ملک کی طرف سے جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف دائر کی گئی تھی جسٹس طارق مسعود نے درخواست کی کہ آمنہ ملک نے یہ شکایت پبلک کر دی تھی اس لیے کونسل کو اس شکایت کو سننا چاہیے اور اس کی اثرات دیکھنے چاہییں، سردار طارق مسعود نے بھی اپنے خلاف دائر اس شکایت کی سماعت کے جائزے میں بیٹھنے سے معذرت کی تو جسٹس سید منصور علی شاہ کو کونسل کا حصہ بنایا گیا کیونکہ وہ جسٹس سردار طارق مسعود کے بعد سینئر ترین ہیں کونسل نے آمنہ ملک کی طرف سے دائر کی گئی شکایت کا جائزہ لیا تو درخواست کے ساتھ مناسب مواد موجود نہیں تھا اس لئے کونسل نے آمنہ ملک کو ہدایت کی کہ اپنی شکایت کی سپورٹ میں مواد فراہم کریں جب آمنہ ملک یہ مواد فراہم کر دیں گی تو سیکرٹری کونسل وہ تمام مواد جسٹس سردار طارق مسعود کو فراہم کریں گے تاکہ وہ اس کا جواب دے سکیں ۔ کونسل نے آمنہ ملک کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے اس موقع پر جسٹس سردار طارق مسعود بھی موجود ہوں گے تاکہ وہ اپنا موقف پیش کر سکیں ۔
کونسل کے اجلاس میں یہ بھی ڈسکس کیا گیا کہ مناسب ہوگا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے لئے الگ سیکرٹریٹ موجود ہو جس کا کل وقتی سیکرٹری اور سٹاف موجود ہو ۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ جو کہ کونسل کے قائم مقام سیکرٹری ہیں اس ضمن میں چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک ورکنگ پیپر تیار کر کے فراہم کریں گے جس میں چیف جسٹس ترمیم بھی کر سکتے ہیں وہ ورکنگ پیپر کونسل کے دیگر ممبران میں کو فراہم کیا جائے گا کونسل نے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو ہدایت کی ہے کہ شفافیت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اس اجلاس کی پریس ریلیز جاری کی جائے۔
یاد رہے کہ ماضی میں سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی خبریں ذرائع سے بھی چلانے پر پابندی لگائی گئی تھی. چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کے منصب سنبھالنے پر کارروائی کے اعلامیے جاری ہونا شروع ہوگئے ہیں.



