اسلام آباد (ای پی آئی ) نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں وفاقی حکومت اور دیگر کی اپیلوں کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے 5 رکنی لارجر بینچ کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے 31 اکتوبر کو سماعت کی تھی تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اپیل کے حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹس کو ٹرائل جاری رکھنے لیکن فیصلہ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فل کورٹ کی تفصیلی وجوہات جاری ہونے کے بعد اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں۔
تحریری حکمنامہ میں کہا گیا سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش ہونے کا موقع فراہم کر دیا، عدالتی حکم کی نقل اڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی کو پہنچائی جائے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی عدالت میں پیش ہونا چاہیں تو جیل سپرنٹنڈنٹ انتظامات کریں۔
سپریم کورٹ کے حکمنامہ میں کہا گیا نیب ترامیم فیصلے کیخلاف سماعت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کے تفصیلی فیصلے سے مشروط ہے، اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کر دیئے، چیئرمین پی ٹی آئی کو نوٹس جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے بھیجا جائے گا۔
واضح رہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی نیب ترامیم کیس میں مرکزی درخواست گزار ہیں۔
تحریری فیصلے کے ذریعے عدالتِ عظمیٰ نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔


