خبرنمبر1

ایم کیو ایم نے اپنے بانی سے وفا نہیں کی کسی اور سے کیا وفا کریں گے ۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر وقار مہدی کہتے ہیں سیاسی مقبولیت کھونے کے بعد ن لیگ بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، ن لیگ مفادات کے لیے پہلے پیر پھر گلے پکڑتی ہے ۔ مسلم لیگ ن کے رانا تنویر کہتے ہیں شکست دیکھ کر پی پی لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کررہی ہے ۔ ن لیگ مضبوط جماعت ہے کامیاب ہم ہی ہوں گے۔

خبرنمبر2
پرانے لوگ بانی ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں ، ایم کیو ایم کسی قابل نہیں رہی جو بولی لگاتا ہے اس کے ساتھ چلی جاتی ہے ۔ عوام کی حمایت سے محروم ایم کیو ایم کسی قابل نہیں رہی ، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا ایم کیو ایم اور ن لیگ کے اتحاد پرردعمل کہا سندھ کی نگران حکومت پی پی حکومت کی توسیع ہے ، 6ماہ میں جماعت اسلامی اپنے ٹائونز میں کام کرائے گی ۔ حکومت نے رکاوٹ ڈالی تو بڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خبرنمبر3
نگراں وزیر اعظم کی سعودی ولئ عہد سے ملاقات، نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے سعودی عرب کے ولئ عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے، جس میں غزہ پر اسرائیلی جنگ سمیت اہم موضوعات پر بات چیت کی گئی۔دونوں رہنماؤں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کو وحشیانہ اور اندھا دھند جارحیت سے روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

خبرنمبر4
فلسطین کیلئے متنازع بیان دینا برطانوی وزیر داخلہ کے گلے پڑ گیا، برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے وزیر داخلہ سویلا بریورمین کو عہدے سے برطرف کردیا۔برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے اپنی کابینہ میں بطور وزیر داخلہ ذمہ داریاں انجام دینے والی سویلا بریورمین کو وزارت سے ہٹا دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ کی برطرفی کابینہ میں بڑے ردو بدل کا آغاز ہے جب کہ سویلا کو ملک میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مارچ سے نمٹنے کی حکمت عملی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔بین الاقوامی میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وزیر خارجہ جیمز کلیوری کو نیا وزیر داخلہ بنائے جانے کا امکان ہے، وزیراعظم رشی سونک نے سویلا کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا، جسے انہوں نے قبول کرلیا
خبرنمبر5
فلسطینیوں کے مضبوط ایمان سے متاثر ہو کر امریکی ٹک ٹاکر نے اسلام قبول کر لیا،امریکا کی معروف ٹک ٹاکر میگن رائس کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی خبر تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور ان کے مسلمان ہونے کا سبب غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران فلسطینیوں کے عزم و استقلال کے ساتھ حق پر ڈٹے رہنے کو قرار دیا جا رہا ہے۔