خبرنمبر1
نوازشریف کا مشن بلوچستان، ن لیگ کی قیادت نے کوئٹہ میں ڈیرے ڈال دیے ، بلوچستان کے رہنمائوں سے نوازشریف کی ملاقاتیں ، ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلے ہیں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت پر ہی چلیں گے۔ سب کے ساتھ تعاون کا رشتہ جوڑا تھا اس رشتے کو مضبوط بنائیں گے ۔ ہمارا شوق تھا ہماری محبت تھی، ہماری فکر تھی بلوچستان کیلئے ہم نے یہاں ترقی کا سفر شروع کیا، سڑکوں کے جال بچھائے ، فاصلوں کو ختم کیا۔ دہشت گردی ختم ، لوڈشیڈنگ ختم کی ، نوازشریف کی قیادت میں ن لیگ کی اعلیٰ سطح کے وفد سے پی اے پی رہنمائوں کی ملاقات، خالد مگسی صادق سنجرانی اور دیگر شامل ، سابق وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا ہے اپنے فیصلے سے کچھ دیر میں آگاہ کریں گے ۔ نوازشریف سے جے یو آئی کے وفد کی بھی ملاقاات، نیشنل پارٹی کے عبدالمالک بلوچ کی بھی ملاقات،

خبرنمبر2
بلاول نے اپنے ترکش سے تیر نکال لیے ۔ ن لیگ پر نشانہ لگا دیا، نوازشریف کے دورہ بلوچستان کو ن لیگ کی کمزوری کا نتیجہ قرار دیدیا ، کہا ن لیگ کو لاہور میں مسائل ہیں اس لیے انہیں بلوچستان میں توجہ دینے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ نوازشریف بلوچستان میں اکا دُکا سیٹوں کے لیے تکلیف اٹھا رہے ہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ وہ پنجاب پر فوکس کریں ۔ باپ کے سینیٹرز کے ووٹ لینے پر ہمیں طعنے دیے تھے کل باپ برا تھا تو آج بھی برا ہوگا۔ ایسا ہی نتیجہ میاں صاحب کے دورے میں نکلے گا۔ ن لیگ ضمنی الیکشن سے بھاگتی رہی تھی ، ہم نے تو ایسی سیاست کبھی نہیں دیکھی، بلاول بھٹو

خبرنمبر3
ن لیگی رہنما احسن اقبال کا بلاول بھٹو کے بیان پر ردعمل، کہا 16 ماہ کی حکومت نے اپنی وزارت کی کارکردگی کا دفاع فخر سے کر سکتا ہوں ، 16ماہ میں پی ٹی آئی حکومت کے دور کے مفلوج منصوبے شروع کیے ۔ ملک میں متعدد نئے منصوبے شروع کیے گئے ۔ صوبہ سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور فنڈنگ کی گئی ۔ تھر منصوبہ جس کا بلاول بھٹو نے کریڈٹ لیا کاغذوں میں گھوم رہا تھا۔ پیپلزپارٹی کے 3ادوار میں کوئی قابل ذکر عمل نہیں ہو سکا تھا۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر تھر کو سی پیک میں شامل کیا گیا۔ تو یہ خواب حقیقت بن سکا، اچھا ہوتا اگر بلاول تھر منصوبے کے لیے نوازشریف کے تعاون کا بھی ذکر کر دیتے ۔ ہمیں طعنوں کی سیاست سے پرہیز کرنا چاہیے ،

خبرنمبر4
اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت ، دوگواہان کے بیانات قلمبند، ایک گواہ پر جرح بھی مکمل، ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ کی خاتون افسر اقراء اشرف کا بیان قلمبند ہوا اور جرح مکمل ہوئی ۔ خصوصی عدالت نے دوسرے گواہ حسیب بن عزیز کا ابتدائی بیان قلمبند ہوا ، اور رجرح مکمل ہوئی ۔ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے جج ابو الحسنات نے سماعت 17نومبر تک ملتوی کر دی۔

خبرنمبر5
یو اے ای کے سفیر نے آئی ایم ایف کو پاکستان کے بیرونی فنانسنگ گیپ پر یقین دہانی کرادی۔ اکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات کے اہم مرحلے پاکستان کو درپیش ساڑھے 6 ارب ڈالر کے بیرونی فنانسنگ گیپ کے معاملے پر آئی ایم ایف مشن چیف نے متحدہ عرب امارات کے سفیر سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق یواے ای کے سفیر اور آئی ایم ایف مشن چیف کی ملاقات کے دوران پاکستان کیلئے بیرونی فنانسنگ گیپ پورا کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

خبرنمبر6
سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 20نومبر کو طلب ، شکایت کنندگان، جسٹس مظاہر علی نقوی ، جسٹس سردارطارق مسعود کو نوٹس جاری 27اکتوبر کو جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا گیا تھا جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے جواب میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی پر اعتراض کیا تھا۔

خبرنمبر7
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف زمین پر قبضے کی درخواست، سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ کہا درخواست گزار کے مطابق فیض حمید نے مدعی اور ان کے اہل خانہ کے خلاف مقدمات بنائے ۔ درخواست گزار نے فیض حمید پر سنگین الزامات لگائے ۔ بتایا فیض حمید کے کہنے پر ان کا قیمتی دفتری سامان لوٹا گیا۔ ان کے گھر والوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ اہلخانہ کو غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا۔ مدعی کے الزامات پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار فیض حمید کے خلاف وزارت دفاع سے رجوع کر سکتے ہیں ۔ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کے پاس دوسرے فورمز موجود ہیں ۔ سپریم کورٹس میرٹس کو چھیڑے بغیر درخواستیں نمٹاتی ہے ۔

خبرنمبر 8
بابر اعظم خود فیصلہ کریں کیا کرنا ہے ، پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان عالیہ رشید کی گفتگو، کہا ہو سکتا ہے ہمیں بابر اعظم سے ہی ان کا فیصلہ مل جائے ۔ اسٹریلیا کے خلاف سیریز کافی مشکل ہے ، اس لئیے زیادہ تبدیلیاں نہیں کرنا چاہ رہے ، بورڈ سابق کرکٹرز کو نئی ذمہ داریاں دے رہا ہے ۔ یونس خان کو نوجوان کرکٹرز کی گرومنگ کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ وہاب ریاض کا سلیکشن کمیٹی میں آنے کا امکان نہیں ہے ۔ بورڈ سمجھتا ہے جس کا کام ہے اسی سے ہی لیا جائے ۔ سسٹم چلانے کیلئے کرکٹرز سے بہتر رائے کوئی نہیں دے سکتا۔