اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کی سماعت کرنے والے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی تعیناتی اور جیل میں کیس کے ٹرائل کے حق میں ایک رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل منظور کرنے کا مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے ایک رکنی بینچ نے 16اکتوبر2023کو جج کی تعیناتی اور جیل ٹرائل کے خلاف عمران خان کی درخواست مسترد کر دی تھی ۔ ایک رکنی بینچ کا فیصلہ انٹراکورٹ اپیل کے ذریعے چیلنج کیا گیا جس کی سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت نے کی۔
عمران خان کی طرف سے انٹرا کورٹ اپیل میں وفاق کو فریق بنایا گیا تھا آج 21 نومبر 2023 کو ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو ساڑھے پانچ بجے سنایا گیا
پیراگراف نمبر 1
عدالت نے لکھا ہے کہ اس مختصر فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی تاہم ہم یہ قرار دیتے ہیں کہ
نمبر 1: اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے 16 اکتوبر 2023 کو جاری کئے گئے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت ہے اور یہ انٹرا کورٹ اپیل لاء ریفارمز آرڈیننس 1972 کے تحت دائر کی گئی تھی۔
نمبر 2: عدالت نے لکھا ہے کہ وزارت قانون و انصاف کی طرف سے آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923کے تحت سائفر کیس کا ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت قائم کرنے کے لئے جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن جائز اور قانونی ہے ۔
نمبر 3: عدالت نے لکھا ہے کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جو کسی مجسٹریٹ کو مجبور کرتی ہو کہ وہ کسی معمول کی عدالت میں کیس کا ٹرائل کرے ۔ مخصوص حالات اور جہاں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے موزوں ہو تو ٹرائل جیل میں بھی کیا جا سکتا ہے تاہم اس ٹرائل کے دوران اوپن ٹرائل یا ان کیمرہ ٹرائل کے قانونی تقاضے اسی طرح پورے کرنا ہوتے ہیں جو قانون میں وضع کئے گئے ہیں۔
نمبر 4: عدالت نے لکھا ہے کہ 29 اگست 2023 کو وزارت قانون کی طرف سے جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہو گا اور حکومت مجموعہ ضابطہ فوجداری قانون کی شق 352 سمیت لاہور ہائی کورٹ کے رولز کی روشنی میں قانونی تفاضے پورے کرتے ہوئے احکامات جاری کرے۔
نمبر5: عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ جیل ٹرائل سے متعلق 12 ستمبر ، 25 ستمبر ، 3 اکتوبر، اور 13 اکتوبر کو وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری کئے گئے نوٹیفیکیشنز بغیر قانونی اختیار کے جاری کئے گئے اس لئے کالعدم قرار دئیے جاتے ہیں ان کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے اس حوالے سے بھی تمام نوٹیفیکیشنز مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق 352 اور لاہور ہائی کورٹ رولز کی روشنی میں جاری کئے جانے چاہئیں۔
نمبر6: فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ کابینہ کے فیصلوں کے بعد وزارت قانون کی طرف سے 12 نومبر ، 13 نومبر اور 15 نومبر کو جو نوٹیفیکیشنز جاری کئے گئے تھے ان کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے کیونکہ یہ نوٹیفیکیشنز خصوصی عدالت کے فاضل جج کی ہدایت پر جاری نہیں کئے گئے تھے۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق 352 کے تحت اس حوالے سے نوٹیفیکیشنز کے لئے خصوصی عدالت کے جج جوڈیشل کارروائی کے دوران احکامات جاری کرتے ہیں۔
نمبر7: عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ وضاحت کے لئے یہ قرار دیا جاتا ہے کہ 15 نومبر 2023 کووفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت قانون کی طرف سے جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔
نمبر8: عدالت نے قرار دیا ہے کہ 29 اگست 2023 سے ہونے والی عدالتی پروسیڈینگز، 15 اگست کوآفیشل سیکرٹس ایکٹ کی شق 5 اور 9 کے تحت ایف آئی اے کے انسداد دہشتگردی ونگ کی طرف سے درج کی جانے والی ایف آئی آر نمبر 6/2023 پر جیل میں کئے گئے ٹرائل کو اوپن ٹرائل نہیں کہا جا سکتا اس لئے اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
پیراگراف نمبر 2
مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ درخواست گزار عمران خان کی اپیل منظور کی جاتی ہے ۔
دروان سماعت عمران خان کی طرف سے سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر سلمان آفریدی، انتظار حسین پنجوتھہ، بیرسٹر گوہر علی خان، نعیم حیدر پنجوتھہ، علی اعجاز بٹر اور مرزا عاصم بیگ پیش ہوئے۔ جبکہ وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈیشنل اٹارنی جنرلز منور اقبال دگل، عامر رحمن، ارشد محمود کیانی، اسسٹنٹ اٹارنی جنرلز آسیہ بتول اور عمران فاروق پیش ہوئے اور ایف آئی اے کی طرف سے سپیشل پراسیکیوٹرز راجہ رضوان عباسی، ذوالفقار عباسی، شاہ خاور اور مدثر حسین ملک پیش ہوئے جبکہ اسلام آباد پولیس کی طرف سے لاء افسر طاہر کاظم بھی پیش ہوئے۔


