اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) سابق وزیراعظم عمران خان اورسابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی سائف کیس میں ضمانت کے مقدمہ میں سپریم کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے 9صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریرکیا ہے اس فیصلے میں جسٹس اطہر من اللہ نے 5 صفحات اور 5 پیراگراف پر مشتمل اضافی نوٹ لکھا ہے۔ جس میں انتہائی اہم ابزرویشنز دی گئی ہیں۔
پیراگراف نمبر1
جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ عمران احمد خان نیازی اور شاہ محمود قریشی نے سائفر کیس میں ضمانت کی استدعا کی لیکن ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ سے یکے بعد دیگرے ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ دونوں افراد نے سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہائی دے کر اپنی آزادی کی بحالی کے لئے استدعا کی دونوں درخواست گزار 08 فروری کو شیڈول کئے گئے عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے انتخابی شیڈول کا اعلان کر دیا ہے ۔ عمران احمد خان نیازی نے سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف بنا رکھی ہے اور وہ 2018 کے انتخابات کے بعد قائد ایوان رہ چکے ہیں وہ بطور وزیراعظم ملک کی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ شاہ محمود قریشی پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ اس معاملے میں عوامی اہمیت کے کچھ سوالات اس عدالت کے سامنے آئے ہیں ان میں
کیا الیکشن کے عمل کے دوران جو امیدوار انتخاب میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔؟
یا
وہ افراد جو ایک سیاسی پارٹی کے ساتھ منسلک ہیں اور ان کی شرکت انتخابی عمل کے دوران ووٹرز کے لئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیا ان افراد کو قید میں رہنا چاہئے۔
یا
کیا ایسی صورتحال میں ضمانت دینا اصولی طور پر مناسب ہو گا یا صرف غیر معمولی حالات کو سامنے دیکھ کر اس کا رد کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر جب کسی کے مفرور ہونے کا امکان ہو یا معاشرے کو خطرہ ہو کیونکہ ایسی صورتحال میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ملزم باہر نکل کر دوبارہ جرم کا ارتکاب کرے ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں اس معاملے میں ملوث اسٹیک ہولڈرز کے حقوق کا جائزہ لیا جائے اور یہ بھی ضروری ہے کہ گزشتہ 7 دہائیوں کے دوران انتخابی عمل کی تاریخ کا بھی جائزہ لیا جائے۔
پیراگراف نمبر2
جسٹس اطہر من اللہ لکھتے ہیں کہ آئین پاکستان واضح کرتا ہے کہ حکومت کا اختیار صرف اور صرف عوامی خواہش کی بنیاد پر قائم ہے عوام کی خواہش کا اظہار سیاسی عمل اور مقررہ دن پر ووٹنگ کے عمل میں شراکت سے ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ انتخابات ہی وہ بنیادی اور اہم طریقہ کار ہے جس سے ملک کے شہری بلخصوص رجسٹرڈ ووٹرز اپنے نمائندے کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کی نمائندگی کرتا ہے اور اسی کے ذریعے بعد میں وہ ریاست کے گورننس کے نظام میں شرکت کرتا ہے اور حکومتی اختیار استعمال کرتا ہے آئین پاکستان تشکیل دینے والوں نے ووٹ کو ہر شہری کا بنیادی حق لکھا ہے اسی طرح اس حق سے منسلک دیگر حقوق بھی ہیں جیسا کہ بھرپور انداز میں سیاسی عمل میں حصہ لینے کا حق، اظہار رائے کی آزادی، اجتماع کا حق، ایسوسی ایشن اور تحریک چلانے کا حق۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کے منشور اور امیدواروں سے متعلق معلومات تک رسائی کا حق بھی ختم نہیں کیا جا سکتا ہر پارٹی اور امیدوار کو بلا خوف و خطر اور بلا امتیاز مؤثر انداز میں کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے ۔ اقوام متحدہ میں نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ باخبر انتخاب کا تصور آزاد انتخاب کا لازمی جزو ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر انتخابات جینوئن طریقے سے ہوتے ہیں تو اس سے عوام کی خواہش واضح طور ظاہر ہوتی ہے۔ ووٹر انتخابی عمل ، سیاسی جماعتوں اور امیدواروں سے متعلق معلومات تک رسائی کے بغیر اپنی خواہش کا اظہار نہیں کر سکتا۔ ان بنیادی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے انتخابات کا انعقاد کافی نہیں ہے یہ بھی یقینی بنایا جانا ضروری ہے کہ شہریوں کو صاف شفاف انتخابات کے ذریعے اپنی خواہش کے اظہار کا مناسب موقع فراہم کیا جائے ہمارا آئین ، یونیورسل ڈیکلیریئشن آف ہیومن رائٹس اور سول و سیاسی حقوق سے متعلق عالمی کنونشن شفاف انتخابات کو ہی عوام کی خواہش کے اظہار کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پیراگراف نمبر 3
شفاف انتخابات کے لئے جسٹس اطہر من اللہ نے جینوئن الیکشن کی ٹرم استعمال کی ہے اس ٹرم کی تاریخ لکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جینوئن الیکشن وہ سیاسی عمل ہے جس سے آزادانہ طور پر عوامی خواہش کا اظہار ہوتا ہے
شیم الیکشنز جو عارضی طور پر اندرونی تنازعات کو حل کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں
یا
عالمی توجہ ہٹانے کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں تو ایسے انتخابات عالمی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ اصل انتخابات اس صورت یقینی بنائے جا سکتے ہیں جب ایک معلومات رکھنے والے ووٹر کو اس کی آزادانہ خواہش کے مطابق ووٹ ڈالنے کا حق دیا جاتا ہے۔ سیاسی رائے کی بنیاد پر امتیازی سلوک یا دھمکی ، آزادانہ انتخابات کے نظریئے سے متصادم ہے حتی کہ اس طرح کا تاثر بھی انتخابی عمل کے وقار پر کمپرومائز کے مترادف ہوگا اور یہ تاثر شیم الیکشنز کی طرف لے جائے گا۔ جسٹس اطہر من اللہ لکھتے ہیں کہ ہر سیاسی جماعت کو ہر صورت شہریوں تک پہنچنے اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سمیت تمام عوامی وسائل تک پہنچنے کا برابر موقع ملنا چاہئے انہوں نے لکھا ہے کہ آئین پاکستان میں ہر شہری کو ریاست کا نظام چلانے کے لئے سیاسی حق استعمال کرنے کی ضمانت دے رکھی ہے اور آئین پاکستان عوام کو منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کا حق بھی دیتا ہے اس حق کا استعمال عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جاتا ہے ۔ شفاف انتخابات کی نشاندہی اسی صورت ہوتی ہے جب لوگوں کو آزادانہ طور پر اپنی سیاسی خواہش کا اظہار کرنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے یونیورسل ڈیکلرئیشن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس ڈیکلرئیشن میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو مؤثر انداز میں اپنی سیاسی خواہش کا اظہار کرنے کا تصور ہی اصل انتخابات ہیں جو کہ آئین پاکستان میں انتخابی اسکیم کی بنیاد ہے اور اسی وجہ سے ووٹ کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے اصل الیکشن کا ٹیسٹ ووٹر، سیاسی ورکرز، امیدوار اور سیاسی جماعت کی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں ہے اور یہ حقوق بلاامتیاز اور بلا خوف و خطر حاصل ہونے چا ہئیں۔ اصل انتخابات کا نظریہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لئے لیونگ پلئینگ فیلڈ کی کلید ہے جب تمام سیاسی مخالفین کو ایک جیسے مواقع دستیاب نہیں ہوتے تو شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آئین کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سیاسی عمل میں حصہ لینے والے ہر فرد کے ساتھ بلاامتیاز مساوی سلوک کیا جا رہا ہے اور ہر شخص کو کامیاب ہونے کا ایک جیسا موقع مل رہا ہے۔ الیکشن کے عرصہ کے دوران سیاسی مقابلے میں حصہ لینے والے ایک شخص کی قید غیر ضروری طور پر ووٹرز کے حق کو بنیادی حقوق کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور انتخابات کے وقار کو متنازع بناتی ہے ۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ سیاسی لیڈرز اور سیاسی ورکرز کے ساتھ کیوں ترجیحی سلوک روا رکھا جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سیاسی عمل میں بڑے پیمانے پر عوام کا مفاد شامل ہوتا ہے اور اس مفاد کو دیگر مفادات پر ترجیح حاصل ہے مزید یہ کہ غیر ضروری طور پر کسی کو قید میں رکھنا بذات خود درست نہیں ہے اور یہ ایک عام ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کی بنیاد بھی بن سکتا ہے صرف سنگین جرائم کرنے والے ملزمان کو مخصوص حالات میں ضمانت کی سہولت دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ لکھتے ہیں کہ شفاف انتخابات کو یقینی بنانے سے بڑا عوامی مفاد کوئی نہیں ہو سکتا اگر قید میں موجود شخص انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہے یا ایک سیاسی جماعت کی اسٹینڈنگ اس شخص پر ڈیپنڈنٹ ہے تو میری رائے میں صرف اسی بنیاد پر الیکشن کے عمل کے دوران اسے ضمانت دی جانی چاہئے۔ ایسے حالات میں ضمانت کی رعائیت دے دی جانی چاہئے اور صرف مخصوص حالات میں ضمانت دینے سے انکار کیا جانا چاہئے ۔ 7 دہائیوں کی انتخابی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اصول کا سختی سے اطلاق ہونا چاہئے ۔
پیراگرف نمبر4
جسٹس اظہر من اللہ نے لکھا ہے کہ بطور آزاد و خود مختار ریاست پاکستان کے قیام سے ہی جمہوریت اور جمہوری بری طرح مجروح کیا جاتا رہا ہے۔ غیر جمہوری ایلیٹ نے پہلی بار آئین ساز اسمبلی تحلیل کر کے حملہ کیا اور بعد میں وفاقی عدالت نے غیر آئینی طور پر نظریہ ضرورت ایجاد کرتے ہوئے اس عمل کو قانونی تحفظ دیا اس عمل سے سیاسی مخالفین کو دبانے کی بنیاد رکھی گئی تقریبا تمام ہی منتخب وزرائے اعظم مدت پوری کرنے سے پہلے ہٹا کر قید کئے گئے وزرائے اعظم کو نااہل کیا گیا اور سیاسی مخالفین کو اختلاف رائے کرنے پر انتخابات میں حصہ لینے اور لیول پلئینگ فیلڈ دینے سے انکار کیا گیا۔ گزشتہ 2018 کے عام انتخابات ایک سیاسی جماعت کو مساوی سلوک سے انکار کرنے کی ایک مثال ہیں یہاں تک کہ ایک وزیر اعظم کو پھانسی چڑھا دیا گیا اور بعد میں لوگوں کو اس کی نماز جنازہ میں شرکت سے بھی روکا گیا۔ قوم کی آدھی زندگی فوجی ڈکٹیٹرز کے سائے میں گزری اور ان میں سے کوئی ایک دن بھی آئین شکنی منتخب وزرائے اعظم کو ہٹانے ، سیاسی ورکرز کا استحصال کرنے کی پداش میں ایک دن بھی جیل نہیں گیا اس کے بالکل برعکس منتخب وزرائے اعظم اور منتخب عوامی نمائندوں کو جیل میں قید کرکے یا جبری جلاوطنی پر بھیج کر انہیں انتخابی عمل سے روکا گیا۔ بلوچستان ، سرحد اور سندھ سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت کو اختلاف رائے رکھنے پر قید میں رکھا جانا تاریخ کی کتابوں سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ حقیقی انتخابات کا تصور گزشتہ 7 دہائیوں سے ایک تصور ہی رہا ہے اور اس کے اثرات جمہوری عمل اور لوگوں کے حقوق پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور حکومتوں کا فرض ہے کہ اصل انتخابات کے ذریعے لوگوں کو اپنی خواہش کا اظہار کرنے کا یکساں موقع فراہم کریں ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ایسا کوئی تاثر نہ قائم ہو جس سے ظاہر ہو کہ کسی کو دبایا جا رہا ہے یا کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جماعتوں کو حمایت دی جا رہی ہے۔ ملک کی خوشامدی انتخابی تاریخ اور اختلاف کرنے والی سیاسی جماعتوں کے ساتھ دباؤ کا رویہ اس بات کا متقاضی ہے کہ بطور رول ضمانت فراہم کی جائے ۔
پیراگراف نمبر 5
مبینہ طور پر درخواست گزار جس جرم میں ملوث ہیں وہ جرائم کی اس کیٹگری میں شامل نہیں ہے جس سے معاشرے کو خطرہ ہے جیسا کہ ریپ، بچوں کے ساتھ زیادتی یا قتل عام وغیرہ اس معاملے میں تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور ٹرائل جاری ہے ٹرائل کا انحصار مکمل طور پر دستاویزی شواہد پر مشتمل ہے ۔ درخواست گزاروں کو قید میں رکھنا کسی طرح بھی مفید نہیں ہے تاہم انتخابی عمل کے دوران ان کی ضمانت پر رہائی اصل انتخابات یقینی بنائے گی اور اس طرح لوگ اپنی خواہش کا حق مؤثر اور معنی خیز انداز میں استعمال کرنے کے قابل ہوں گے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایسے کوئی غیر معمولی حالات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر ضمانت کی رعائیت دینے سے انکار کیا جا سکے


