اسلام‌آباد(عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے لیول پلینگ فیلڈ کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان کی طرف سے دائر کی گئی آئینی درخواست کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے دو صفحات اور پانچ پیراگراف پر مشتمل تحریری حکم نامہ جسٹس سید منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے تین رکنی بینچ جس میں جسٹس سردار طارق مسعود جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے بیرسٹر گوہر علی خان کی طرف سے شعیب شاہین اور نیاز اللہ خان نیازی کے توسط سے دائر درخواست کی سماعت کی

عدالتی نوٹس پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال ڈی جی لاء الیکشن کمیشن محمد ارشد اور الیکشن کمیشن کے لیگل کنسلٹنٹ فلک شیر پیش ہوئے

جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے کے پہلے پیراگراف میں لکھا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف گوہر علی خان نے آئین کے آرٹیکل 184 3 کے تحت یہ آئینی درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ ملک میں صاف شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لئے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ، درخواست میں یہ الزام لگایا گیا کہ اعلان شدہ الیکشن پروگرام کے تحت کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جا رہا ہے ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کے کاغذات نامزدگی چھینے جا رہے ہیں جو کہ صاف شفاف انتخابی عمل کھلم کھلا خلاف ورزی ہے

درخواست گزار کے وکیل اللہ نے مزید کہا کہ انہوں نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن میں شکایت درج کی ہے لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا

پیراگراف نمبر دو میں عدالت نے لکھا ہے کہ عدالت کی کال پر اٹارنی جنرل پاکستان اور الیکشن کمیشن کے نمائندے عدالت کے سامنے پیش ہوئے ان نمائندوں نے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن کو آج صبح اس ضمن میں کچھ شکایات موصول ہوئی ہیں جن کو فوری طور پر دیکھا جا رہا ہے
عدالت نے لکھا ہے کہ اٹارنی جنرل پاکستان اور الیکشن کمیشن کے نمائندوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئین کے تحت عام انتخابات صاف اور شفاف انداز میں کرائے جائیں گے انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پی ٹی آئی کے ارکان اور کسی دیگر جماعت کے ارکان کی طرف سے آنے والی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا ان شکایات کا فوری فیصلہ اور ہنگامی
بنیادوں پر مسائل حل کئے جائیں گے
انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قانون کے مطابق اور جہاں پر کسی بھی ایکشن کی ضرورت محسوس ہوئی تو فوری طور پر ایکشن لیا جائے گا تاکہ ہر سیاسی جماعت کو لیول پلیئنگ فیلڈمیسر سر ہو اور انتخابات صاف شفاف انداز میں کرائے جائیں گے

فیصلہ کے پیراگراف نمبر3 میں جسٹس منظور منصور علی شاہ نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے خصوصا انتخابات کے انعقاد سے متعلق آئین کے آرٹیکل 218 میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق شفاف انتخابات کا انعقادیقینی بنائے اور کسی بھی قسم کی کرپٹ پریکٹسز کو روکے
عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل دو سو بیس کے تحت تمام انتظامی اتھارٹیز انتخابی عمل کے دوران الیکشن کمیشن کی معاونت کی پابند ہیں الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے گاکہ انتخابات جمہوری اصولوں کے مطابق کسی دباؤ اور کرپشن کے بغیر ہونگے
الیکشن کمیشن نے یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو الیکشن عمل میں حصہ لینے کا یکساں موقع فراہم کیا جا رہا ہے
عدالت نے لکھا ہے کہ صاف شفاف انتخابات کی اہمیت اور انتخابی عمل کے دوران لیول پلینگ فیلڈ فراہم کرنے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا صاف شفاف انتخابات منتخب حکومت کو قانونی تحفظ فراہم کر سکتے ہیں اور جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد بحال کرتے ہیں صحت مند انتخابی مقابلے کے لئے لیول پلینگ فیلڈ بنیادی اہمیت کی حامل ہے
عدالت نے لکھا ہے کہ الیکشن کو عوامی خواہش کاعکاس بنانا بھی الیکشن کی ذمہ داری ہے بجائے اس کے کہ جبر اور مینیو پولیشن سے انتخابی نتائج بنائے جائیں
عدالت نے لکھا ہے کہ صاف شفاف انتخابات منعقد کرانا انتخابی نتائج سے بھی زیادہ اہم ہے

پیراگراف نمبر46میں عدالت نےلکھا ہے کہ درخواست گزار یا کسی اور سیاسی جماعت کا نمائندہ بھی چاہے توآج تین بجے تک الیکشن کمیشن سے رجوع کر سکتا ہے تاکہ ان کے کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے الیکشن کمیشن ہنگامی بنیادوں پر ان تمام شکایات کا جائزہ لے کر ان مسائل کو حل کرے گا تاکہ انتخابی عمل درست انداز میں درست اور شفاف انداز میں آگے بڑھ سکے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ الیکشن پروگرام میں دی گئی ٹائم لائنز کے مطابق تمام عمل کو بغیر کسی ڈسٹربنس کے مکمل
کرے کیونکہ ووٹرز کو انتخابی عمل پر مکمل یقین ہونا چاہیے تاکہ جمہوریت کامیابی کی طرف بڑھے

پانچویں پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ مندرجہ بالا آبزرویشنزکیساتھ پٹیشن نمٹائی جا تی ہے