اسلام آباد ہائیکورٹ (ای پی آئی )اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے سے متعلق کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے 9 صفحات اور 19 پیرا گراف پر مشتمل فیصلہ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے لکھا ہے کہ 21 دسمبر 2023 کو اس عدالت نے مقدمہ کے تمام فریقین اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کئے اس کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی پیش ہونے کی درخواست کی ۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ درخواست گزار عمران احمد خان نیازی نے اس پٹیشن کے ذریعے سپیشل کورٹ کے جج کی طرف سے 14 دسمبر کو جاری حکم کو چیلنج کیا ہے اس حکم میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم مقدمے میں استغاثہ کی طرف سے دائر کی درخواست منظور کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف جاری کارروائی کو ان کیمرہ کردیا تھا اس حکم میں ٹرائل کورٹ نے سائفر کیس کی کارروائی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی بھی پابندی لگا دی تھی ٹرائل کورٹ نے پیمرا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سائفر کیس کی کہیں بھی رپورٹنگ نہ ہو ۔

اس عدالتی حکم کے ذریعے صرف خاندان کے افراد اور ایف آئی اے اسلام آباد کے حکام کو کیس کی کارروائی سننے کی اجازت تھی لیکن انھیں منع کیا گیا تھا کہ کیس کی کارروائی کے دوران پیش کی گئی کوئی بھی شہادت یا بیان شائع نہیں ہونے چاہییں۔

عدالت نے لکھا ہے کہ خصوصی عدالت کے جج نے استغاثہ کی درخواست قبول کرنے کی وجہ یہ لکھی کہ وہ سائفر قانون کی شق 14 کی روشنی میں غیر ملکی مشن اور پاکستان کے درمیان ہونے والی والی خفیہ کمیونیکیشن کے تقدس کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں یہ بھی قرار دیا گیا کہ اگر کسی شہادت کو شائع کیا گیا تو اس سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔
عدالت نے عمران خان کے وکیل کے دلائل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سلمان اکرم راجا نے موقف اپنایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے 14 دسمبر کے حکم سے آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت حاصل فیئر ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔

عدالت نے سلمان اکرم راجا کے دیگر دلائل کو بھی اپنے حکم کا حصہ بنایا ہے جن میں ان کیمرہ پروسیڈنگز اور میڈیا کو کوریج کی اجازت نہ دینے کو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے منافی قرار دیا گیا تھا ۔

عدالت نے آج کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دلائل کا حوالہ بھی دیا ہے جن میں اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا تھا کہ 14 دسمبر کے حکم کے بعد 13 گواہان کے بیانات 21 دسمبر تک ریکارڈ کئے گئے ان 13 گواہان میں سے 2 گواہان پر جرح بھی مکمل ہو چکی ہے جبکہ تیسرے گواہ پر ایک وکیل کی جرح مکمل ہوئی تھی جبکہ دیگر وکلاء کی جرح مکمل نہیں ہو سکی تھی دیگر 10 گواہان کے بیانات پر جرح ہونا ابھی باقی ہے اٹارنی جنرل نے کہا کہ 14دسمبرکا آرڈر پاس ہونے سے لیکر 21 دسمبر تک کیس کی سماعت جاری رہی لیکن یہ عوام کے لئے اوپن نہیں تھی تاہم 21 دسمبر کو 12 گواہان کی بیانات قلمبند کئے گئے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اوپن تھی ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گواہ نمبر 1 ،2 ،3اور 7 دفتر خارجہ کے وہ ملازمین ہیں جو سائفر یا ٹیلی گرام وصول کرتے ہیں اور براہ راست اس کی ڈی کوڈنگ یا دیگر عوامل میں شامل ہوتے ہیں اس لئے ان کی شہادت قلمبند کرنے کی کارروائی اوپن نہیں کی جا سکتی تاہم دیگر 12 گواہان کے بیانات سے ملکی سلامتی سے کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا ۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ
اٹارنی جنرل کے دلائل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ 9 گواہان کے ان کیمرہ بیانات قلمبند کرنے کا ٹرائل کورٹ کے پاس کوئی جواز نہیں تھا ۔

ٹرائل کورٹ کے پاس ان کیمرہ کارروائی کرنے کی کوئی قانونی وجہ بھی موجود نہیں ہے اور اس مقدمے کے ٹرائل کا اثر قانونی اہمیت رکھتا ہے جس کا تعین عدالت نے کرنا ہے ۔

عدالت نے لکھا ہے کہ یہ بھی طے کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا خصوصی عدالت کے جج نے 14 دسمبر کو جاری اپنے آرڈر پر کسی بھی مرحلے پر نظر ثانی کی ؟ اور جج نے عوامی نمائندوں کو کارروائی میں شرکت کی اجازت دی ؟

اس سوال پر ایف آئی اے کے وکیل راجا رضوان عباسی نے 23 دسمبر کوخصوصی عدالت کے جج کی طرف سے جاری حکم کاحوالہ دیا اس حکم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شریک ملزم شاہ محمود قریشی نے فاضل جج کی توجہ کمرہ عدالت میں موجود چند میڈیا پرسنز کی طرف دلوائی جس پر فاضل جج نے اس حکم میں اپنے 14 دسمبر کے حکم کا ایک حصہ بھی شامل کیا اور قرار دیا کہ اگر استغاثہ چاہے تو وہ پبلک کو عدالتی کارروائی سے الگ کرنے کی درخواست کر سکتا ہے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لکھا ہے کہ 23 دسمبر کے حکم سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جب بھی استغاثہ درخواست کرے گا تو عام عوام کو کیس کی کارروائی سے الگ کر دیا جائے گا ۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ صرف استغاثہ کی درخواست پر کیس کی کارروائی کو ان کیمرہ نہیں کیا جا سکتا اس حوالے سے عدالت نے سپریم کورٹ کے غلام محمد بنام ریاست کیس میں فیصلے کا حوالہ دیا ہے ۔

عدالت نے کہا ہے کہ یہ تسلیم شدہ پوزیشن ہے کہ 14 دسمبر کے متنازعہ حکم کے علاوہ کوئی دوسرا حکم موجود نہیں ہے جو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی شق 14 کے تحت جاری کیا گیا ہو اور اس میں جزوی یا مکمل طور پر عوام کو کارروائی دیکھنے سے روکتا ہو ۔

23 دسمبر کے حکم میں بھی 14دسمبر کے حکم کو واپس لینے یااس پرنظر ثانی نہیں کی گئی ۔

عدالت نے حکم میں واضح کیا ہے کہ اس عدالت کے ڈویژن بینچ نے 19 دسمبر کو انٹرا کورٹ اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے اوپن ٹرائل کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا اگر اوپن ٹرائل کی وجہ سے کوئی منفی اثر ہونے کا خدشہ ہو تو عدالت کو اس ضمن میں حکم جاری کرنے کے لئے وجوہات دینا ضروری ہیں ۔

عدالت نے لکھا ہے کہ ایسی کارروائی جس کو ان کیمرہ کرنے کی نہ ضرورت ہو اور ایسی گواہی جس سے ریاست کی سلامتی کو کوئی خطرہ بھی نہ ہو تو اسے خفیہ رکھنے کے پورے ٹرائل کی قانونی حیثیت پر اثرات ہونگے ۔

تحریری آئین کے تحت چلائے جانے والے جمہوری ملک میں اوپن ٹرائل کی اہمیت کو ذہن میں رکھنا ہوگا فاضل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا ہے کہ یہ عدالت ان 4 گواہان کی شہادت ان کیمرہ ریکارڈ کرنے کا حکم دے سکتی ہےجو دفتر خارجہ کے ملازم ہیں اٹارنی جنرل کی یہ درخواست اس وقت دیکھی جائے گی جب اس معاملے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔

عدالت نے لکھا ہے کہ جہاں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی شق 14 کے تحت ان کیمرہ کارروائی کا حکم پاس کیا گیا تو اس کے ذریعے ان لوگوں کی شہادت بھی سیف کسٹڈی میں رکھی گئی جن کی ضرورت نہیں تھی ۔

یہ عدالت اور اٹارنی جنرل اس وقت حیران ہوئے جب عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ ان گواہان کے بیانات بھی سلمان اکرم راجا کو فراہم کئے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر ان کے بیانات پبلک کئے گئے تو اس سے ریاستی سلامتی کو خطرہ ہوسکتا ہے ۔

عدالت نے لکھا ہے کہ ان گواہان کے بیانات کی مصدقہ کاپیاں اس عدالت میں پیش کی گئیں اور وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں ۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ دفتر خارجہ کے چاروں ملازمین کے بیانات کی مصدقہ نقول درخواست گزار کو دینے سے ان دستاویزات کا سٹیٹس پبلک ڈاکیومینٹ کا ہوچکا ہے اس ضمن میں قانون شہادت آردڑ کا آرٹیکل 87بالکل واضح ہے عدالت نے اس آرٹیکل 87 کو اپنے حکم کا حصہ بنایا ہے۔

عدالت نے لکھا ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت نے 25 گواہان کی شہادتوں کی مصدقہ نقول ہائیکورٹ میں پیش کی ہیں سہادتوں کی مصدقہ نقول جاری کرتے ہوئے یہ نہیں کہا گیا کہ ان کا استعمال ممنوع ہے ہر صفحے پر خصوصی عدالت کی مہر اور ریکارڈتحویل میں رکھنے والے فرد کے دستخط موجود ہیں اب دفتر خارجہ کے چاروں گواہان کے بیانات پبلک ہو چکے ہیں اس لئے یہ عدالت اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ ان شہادتوں کے کون سے حصے ملک کی سلامتی کے خلاف ہیں ۔

عدالت نے لکھا ہے کہ اب تک جو بھی واقعات ہو چکے ہیں ان کی سنگین قانونی و آئینی حیثیت ہے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی شق 14 کا درست استعمال نہیں کیا گیا اس شق کے حوالے سے سپریم کورٹ کا صرف ایک فیصلہ موجود ہے اور وہ فیصلہ اس وقت دیا گیا تھا جبکہ آئین کا آرٹیکل 10 اے موجود نہیں تھا ۔

عدالت نے لکھا ہے کہ خصوصی عدالت کے جج روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل آگے بڑھا رہے ہیں اس سے قبل ہائیکورٹ نے 8 نومبر کوایک حکم دیا تھا جس میں ٹرائل ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن اس حکم کو سپریم کورٹ نے 22 دسمبر کو کالعدم قرار دے دیا تھا ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کو کالعدم کرنے کے باوجود ٹرائل کورٹ نے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت جاری رکھی اس لئے ٹرائل کورٹ میں جاری کارروائی کو متنازعہ ہونے سے بچانے کے لئے ٹرائل کی مزید کارروائی کو آئندہ سماعت تک روکا جاتا ہے ۔آئندہ سماعت 11 جنوری 2024 کو ہوگی تمام فریقین آئندہ سماعت پر پیش ہوں