اسلام آباد (ای پی آئی )چیف جسٹس کی پیشکش کے باوجود پی ٹی آئی کے وکیل رہنما شعیب شاہین کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے جس پر کورٹ رپورٹرز نے قانونی ٹیم کی نا اہلی پر دلچسپ رائے دی ہے ۔
سینئرصحافیوں اور کورٹ رپورٹرز سابق بیوروچیف بول نیوز ،یو ٹیوبر ،صدیق جان .،سینئر اینکر سمیع ابراہیم ،کورٹ رپورٹر ادریس عباسی ،کورٹ رپورٹر عدیل سرفراز اور کورٹ رپورٹرعادل سعید عباسی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر شدید تنقید کی ہے ۔
سینئر اینکر سمیع ابراہیم نے ٹوئٹ میں لکھا کہ
کیا عمران خان کے ساتھ بھٹو والی تاریخ دھرائی جا رھی ھے ۔۔اس وقت بینچ میں ججز کی اکثریت بھٹو کی سزاے موت کے حق میں نہیں تھی لیکن ایک خفیہ حکمت عملی کے تحت بھٹو کے وکلا سے دلائل کو طویل کروایا گیا اور اس بیچ دو ججز کو علالت کے باعث بینچ سے علیحدہ کر دیا گیا یہ دونوں جج صاحبان بھٹو کو سزاے موت دینے کے خلاف تھے جس کے نتیجے میں بھٹو کے مخالف ججز اکثریت میں ا گئے اور سزاے موت ھو گئی ۔۔آج بھی سپریم کورٹ میں صبح ایک وکیل صاحب نے بات کرنے کی کوشش کی لیکن قاضی صاحب نے سرد مہری سے کہا کہ وقفے کے بعد آ کر بات کریں ۔۔لیکن وقفے کے بعد جب باری آئی تو پی ٹی آئی کے وکیل صاحب موجود ھی نہیں تھے اور پھر قاضی صاحب نے فوری طور پر کیس ھی نبٹا دیا اور قصوروار بھی پی ٹی آئی ھی ٹھہرائی گئی ۔۔۔۔
کیا عمران خان کے ساتھ بھٹو والی تاریخ دھرائی جا رھی ھے ۔۔اس وقت بینچ میں ججز کی اکثریت بھٹو کی سزاے موت کے حق میں نہیں تھی لیکن ایک خفیہ حکمت عملی کے تحت بھٹو کے وکلا سے دلائل کو طویل کروایا گیا اور اس بیچ دو ججز کو علالت کے باعث بینچ سے علیحدہ کر دیا گیا یہ دونوں جج صاحبان بھٹو…
— Sami Abraham (@samiabrahim) January 1, 2024
صدیق جان نےٹوئٹر پر لکھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی صاحب نے الیکشن کے حوالے سے شعیب شاہین صاحب کو کہا کہ آپ کو آخر میں سنتے ہیں،
بریک کے بعد سماعت شروع ہوئی، اب تمام کیسز ختم ہو چکے، بنچ جا چکا لیکن بریک کے بعد پی ٹی آئی کا کوئی ایک وکیل کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھا،
ویلڈن لیگل ٹیم پی ٹی آئی…..
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی صاحب نے الیکشن کے حوالے سے شعیب شاہین صاحب کو کہا کہ آپ کو آخر میں سنتے ہیں،
بریک کے بعد سماعت شروع ہوئی، اب تمام کیسز ختم ہو چکے، بنچ جا چکا لیکن بریک کے بعد پی ٹی آئی کا کوئی ایک وکیل کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھا،
ویلڈن لیگل ٹیم پی ٹی آئی…..— Siddique Jan (@SdqJaan) January 1, 2024
صدیق جان نے اپنی دوسری ٹوئٹ میں شعیب شاہین کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ
پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کی نالائقی اور غیر سنجیدگی کے حوالے سے کئی دنوں سے لکھ رہا ہوں،
آج سب نے دیکھ لیا کہ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم اس سارے معاملے میں کس حد تک غیر سنجیدہ ہے،
کمرہ عدالت میں شعیب شاہین صاحب کو ہونا چاہیے تھا، لیکن وہ کمرہ عدالت کی بجائے باہر میڈیا ٹاک کررہے ہیں
پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کی نالائقی اور غیر سنجیدگی کے حوالے سے کئی دنوں سے لکھ رہا ہوں،
آج سب نے دیکھ لیا کہ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم اس سارے معاملے میں کس حد تک غیر سنجیدہ ہے،
کمرہ عدالت میں شعیب شاہین صاحب کو ہونا چاہیے تھا، لیکن وہ کمرہ عدالت کی بجائے باہر میڈیا ٹاک کررہے ہیں pic.twitter.com/hh7QGLTzmR— Siddique Jan (@SdqJaan) January 1, 2024
صدیق جان نے اپنی تیسری ٹوئٹ میں لکھا کہ
پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم عمران خان کو وہ نقصان پہنچائے گی کہ جو سب مخالفین مل کر نہیں پہنچا سکے، میں نے پرسوں لکھا تھا کہ کیا کیا چیزیں انہوں نے جاری نہیں کیں اور وہ اب تک جاری نہیں کر سکے یہ،
آج کمرہ عدالت میں ایک وکیل نہیں تھا جب الیکشن کے حوالے بات سنی جانی تھی،70 فیصد وکلاء اپنے اپنے الیکشن اور ٹکٹ پر فوکس کیے ہوئے ہیں،
وکلاء کا الیکشن لڑنا ایک سیاسی حکمت عملی ہے،بالکل لڑیں تو پھر کیسز کے لیے فیس دے کر پروفیشنل وکلاء انگیج کیوں نہیں کر لیتے؟؟
پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم عمران خان کو وہ نقصان پہنچائے گی کہ جو سب مخالفین مل کر نہیں پہنچا سکے، میں نے پرسوں لکھا تھا کہ کیا کیا چیزیں انہوں نے جاری نہیں کیں اور وہ اب تک جاری نہیں کر سکے یہ،
آج کمرہ عدالت میں ایک وکیل نہیں تھا جب الیکشن کے حوالے بات سنی جانی تھی،
70 فیصد وکلاء… https://t.co/59fDR9b1lO— Siddique Jan (@SdqJaan) January 1, 2024
کورٹ رپورٹر ادریس عباسی نے ٹوئٹ میں لکھا کہ
اس وقت پی ٹی آئی کے ذیادہ تر وکلاکا فوکس اپنے الیکشن اور سیاست پر اور آج بھی ایک وکیل صاحب نے فرمایا کہ الیکشن ٹریبونل ہمارے کاغزات منظور کرے تو کمپین شروع کریں لیکن جس شخص کی خاطر انکو لوگ جانتے ہیں اور ووٹ دیں گے اس کے کیسز میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے
اس وقت پی ٹی آئی کے ذیادہ تر وکلاکا فوکس اپنے الیکشن اور سیاست پر اور آج بھی ایک وکیل صاحب نے فرمایا کہ الیکشن ٹریبونل ہمارے کاغزات منظور کرے تو کمپین شروع کریں لیکن جس شخص کی خاطر انکو لوگ جانتے ہیں اور ووٹ دیں گے اس کے کیسز میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے https://t.co/7eWwSsJ0NV
— Idrees Abbasi (@idrees_abbaxi) January 1, 2024
کورٹ رپورٹر عدیل سرفراز نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ
پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے ایک انتہائی اہم موقع گنوا دیا !
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی پیشکش کے باوجود شعیب شاہین وقفے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔ بینچ سے اٹھ کر جانے سے پہلے چیف جسٹس کی نظریں انہیں تلاش کرتی رہیں مگر پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم غائب
پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے ایک انتہائی اہم موقع گنوا دیا !
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی پیشکش کے باوجود شعیب شاہین وقفے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔ بینچ سے اٹھ کر جانے سے پہلے چیف جسٹس کی نظریں انہیں تلاش کرتی رہیں مگر پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم غائب
— Adeel Sarfraz (@AhmedASarfraz) January 1, 2024
عدایل سرفراز نے اپنی دوسری ٹوئٹ میں لکھا کہ
بینچ کے اٹھ کر چلے جانے کے بعد شعیب شاہین کی سپریم کورٹ آمد !
ایک سوال کے جواب میں بولے "ہماری رجسٹرار سے ملاقات ہوئی ہے،رجسٹرار نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یقین دہائی کرا دی ہے. آج یا کل ہماری درخواست سماعت کیلئے مقرر ہو جائیگی”
بینچ کے اٹھ کر چلے جانے کے بعد شعیب شاہین کی سپریم کورٹ آمد !
ایک سوال کے جواب میں بولے "ہماری رجسٹرار سے ملاقات ہوئی ہے،رجسٹرار نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یقین دہائی کرا دی ہے. آج یا کل ہماری درخواست سماعت کیلئے مقرر ہو جائیگی" https://t.co/BbKzn5O4dO
— Adeel Sarfraz (@AhmedASarfraz) January 1, 2024
کورٹ رپورٹر عادل سعید عباسی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ
کاغذات مسترد ہونے کے حوالے سے چیف جسٹس سے بات کرنے کے لیے شعیب شاہین چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی عدالت میں پہنچے جہاں کسی کیس کی سماعت چل رہی تھی۔ سماعت کے دوران ہی شعیب شاہین نے چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس نے سماعت کے بعد آنے کا کہا۔ سماعت ختم ہونے پر چیف جسٹس شعیب شاہین کو ڈھونڈتے رہے لیکن وہ عدالت سے غائب تھے
کاغذات مسترد ہونے کے حوالے سے چیف جسٹس سے بات کرنے کے لیے شعیب شاہین چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی عدالت میں پہنچے جہاں کسی کیس کی سماعت چل رہی تھی۔ سماعت کے دوران ہی شعیب شاہین نے چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس نے سماعت کے بعد آنے کا کہا۔ سماعت ختم ہونے پر چیف جسٹس… pic.twitter.com/Z95fp00SZY
— Aadil Saeed Abbasi (@AadilSaeed1212) January 1, 2024


