اسلام آباد (عابد علی آرائیں)پاکستان تحریک انصاف نے بلے کا نشان حاصل کرنے کے لئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کر لیا ہے۔
چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بیرسٹر علی ظفر کے توسط سے آئین کے آرٹیکل 185/3 کے تحت دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے 3 جنوری 2024 کو چیلنج کیا گیا حکمنامہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
درخواست میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو ایک حکمنامہ جاری کیا جس کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا اور درخواست گزار کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے 26 دسمبر 2023 کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے بلے کا نشان بحال کر دیا جس پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی۔ اس متفرق درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے 3 جنوری 2024 کو اپنا 26 دسمبر 2023 والا حکم واپس لے لیا ۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو تحریک انصاف کا سرٹیفیکیٹ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بھی واپس لے لیا جس سے پارٹی غیر فعال ہو گئی اور نشان کے بغیر انتخابات میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 17 سے متصادم ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو یہ حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ درخواست میں پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے جاری فیصلے کے 4 نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے سنگل جج نے اپنے فیصلے میں بہت سے نقائص چھوڑے ہیں ۔ ہائیکورٹ نے عبوری حکم ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سننے کے بعد جاری کیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن کی طرف سے طویل دلائل دئیے حالانکہ یہ معاملہ فوری نوعیت کا تھا جس میں پی ٹی آئی کو عبوری ریلیف ایک محدود وقت کے لئے دیا گیا تھا کیونکہ عدالت کا ڈویژنل بینچ موجود نہیں تھا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ ایکس پارٹی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے کیونکہ عبوری حکم محدود وقت کے لئے تھا جس کا اطلاق 9 جنوری 2024 تک ہونا تھا اور ابھی تک فائنل آرڈر نہیں ہوا ۔ کوئی حکم اگر ایک بار جاری کر دیا جائے تو اس پر عملدرآمد ہونا ہوتا ہے یہ معاملہ الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کے درمیان تھا اس لئے پشاور ہائیکورٹ نے غلط طور پر یہ اخذ کیا کہ اس فیصلے کا اثر پورے ملک پر کر دیا گیا ہے اس لئے پشاور ہائیکورٹ کا یہ حکم کالعدم قرار دیا جائے ۔ درخواست میں 10 قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سوال نمبر1: کیا پشاور ہائیکورٹ کا 3 جنوری 2024 کو جاری کیا گیا حکم بلاجواز نہیں تھا جس کے ذریعے عبوری ریلیف واپس لیا گیا ہے؟
سوال نمبر2: کیا پشاور ہائیکورٹ کے سنگل جج نے ریکارڈ اور مواد کا غلط طریقے سے جائزہ نہیں لیا؟ جن 4 حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلہ دیا گیا کیا اس سے درخواست گزار کے لئے انصاف کا قتل نہیں ہوا؟
سوال نمبر3: کیا الیکشن کمیشن نے غلط نمائندگی نہیں کی ؟ یہ وہ مقدمہ ہے جس میں 26 دسمبر 2023 کو سنگل جج کے سامنے ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دئیے اور کیا ایک درخواست پر اس طرح کا حکم جاری کیا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا ہو کہ پہلا حکم دوسرے فریق کی غیر موجودگی میں جاری کیا گیا
سوال نمبر4: کیا یہ طے شدہ قانون نہیں ہے کہ دوسرے فریق کی غیر موجودگی میں ریلیف دیا جا سکتا ہے؟ کیا ایسا روزانہ کی بنیاد پر عدالتوں میں صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کیا جاتا؟
سوال نمبر 5: کیا پشاور ہائیکورٹ کا حکم خلاف قانون نہیں ہے؟ جس کی بنیاد پر اسے کالعدم قرار دیا جا سکے
سوال نمبر 6: کیا الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ کی شق 209/3 کے دائرہ اختیار سے باہر جا سکتا ہے اورکیا الیکشن کمیشن ویب سائٹ پر سرٹیفیکیٹ اپلوڈ کرنے سے پہلے ان چیزوں کا پوچھ سکتا ہے جو شق 209 میں موجود نہیں ہیں؟
سوال نمبر7: کیا الیکشن کمیشن کے پاس کسی سیاسی جماعت کے انٹرا پارٹی الیکشن پر سوال اٹھانے کا اختیار ہے؟ اور کیا الیکشن کمیشن ان لوگوں کی درخواست کا جائزہ لے سکتا ہے جو اس پارٹی کے ارکان نہ ہوں؟
سوال نمبر8: جن 4 گراؤنڈز پر پشاور ہائیکورٹ نے اکتفاء کرتے ہوئے حکم جاری کیا ہے اس سے یہ تاثر نہیں ابھرتا کہ حقائق کا درست انداز میں ادراق نہیں کیا گیا؟
سوال نمبر 9: کیا الیکشن کمیشن نے دیگر 175 سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے امتیازی سلوک نہیں کیا ؟
سوال نمبر10: کیا ان حقائق کی موجودگی میں الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا حکم معطل کئے جانے کے قابل نہیں تھا؟ کیا پشاور ہائیکورٹ کا دوسرا حکم بھی قابل تنسیخ نہیں ہے؟
درخواست میں 30 حقائق اپناتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 2 دسمبر 2023 کو جو انٹراپارٹی انتخابات کرائے گئے تھے وہ پارٹی کے آئین کے مطابق تھے۔ ان حقائق میں پارٹی انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی کے 2019 کے آئین کے مطابق کرائے گئے ہیں جس میں تمام عہدے داروں کا انتخاب کیا گیا۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے پارٹی کے انتخابات پر سوال نہیں اٹھایا۔ الیکشن کمیشن نے ان 14 افراد کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا جو پی ٹی آئی کے ارکان نہیں تھے حالانکہ کے ان کی درخواستیں قابل سماعت ہی نہیں تھیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن پشاور ہائیکورٹ کے 26 تاریخ کے فیصلے پر عملدرآمد کا پابند تھا لیکن اس نے عمل کرنے کی بجائے پشاور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی حالانکہ وہ ایسا کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ درخواست میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ 26 تاریخ کو ہونے والی سماعت کے دوران ڈی جی الیکشن کمیشن اور ایڈووکیٹ جنرل پیش ہوئے اور طویل دلائل دیئے اس لئے ان کا یہ مؤقف درست نہیں ہے کہ انہوں نے کیس میں دلائل نہیں دئیے دونوں نے ایک گھنٹے سے زیادہ کھلی عدالت میں دلائل دئیے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 3 جنوری کو الیکشن کمیشن کی درخواست پر جسٹس محمد اعجاز خان نے سماعت کرتے ہوئے 26 دسمبر کا عبوری حکم واپس لے لیا جو قانون کی نظر میں درست نہیں ہے اس سے درخواست گزاروں کی حق تلفی ہوئی ہے اور وہ حکم طے شدہ قانونی اصولوں کے منافی ہےاس لئے اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔ درخواست کو کالعدم قرار دینے کے لئے 26 گراؤنڈز دئیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سامنے جانے والے درخواست گزاروں نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دکھایا جس سے ثابت ہو کہ وہ تحریک انصاف کے رکن ہیں اور الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے اپنے فیصلے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے جو کہ بنیادی حقوق کے5 آئینی آرٹیکلز کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں اعلی عدالتوں کے فیصلوں کی نظیریں بھی دی گئی ہیں اور مؤقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی صورت انتخابی نشان واپس نہیں لے سکتا اس لئے الیکشن کمیشن کا حکم بہت زیادہ سخت ہے جس سےملک کی 70 فیصد آبادی جو کہ تحریک انصاف سے وابستہ ہے کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ صرف سپریم کورٹ کسی پارٹی کی تحلیل کا فیصلہ کر سکتی ہے اور الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے سے بالواسطہ وہ عمل کیا ہے جو وہ نہیں کر سکتا تھا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست منظور کی جائے اور 3 جنوری کا حکم کالعدم قرار دے کر پی ٹی آئی کو دیا گیا عبوری ریلیف بحال کیا جائے۔


