اسلام آباد(ای پی آئی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی کے روکنے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا پریس کانفرنس کرنے پہنچ گئے۔شوکت بسرا کو چیف جسٹس پاکستان نے عدالت میں پیش آنے والے واقعے پر بات کرنے سے روکا تھا .

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی رہنما شوکت بسرا نے انتخابی دھاندلی کے معاملے پر فل کورٹ کی تشکیل اورفارم پنتالیس جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھاندلی کرنے والے آر اوز کے خلاف ایف آئی آرز کے اندراج کا اعلان کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھاکہ پاکستان تحریک انصاف نے 180 سیٹیں جیتیں مگر صرف 90 دی گئیں، ہم اس دھاندلی پر فل کورٹ کا مطالبہ کرتے ہیں، قوم نے مینڈیٹ عمران خان کو دیا، قوم نے بغیر کسی کیمپین اور نشان کے صرف عمران خان کے نام پر مجھے ووٹ دیا مگر ایک سابق ڈکٹیٹر کے بیٹے کو جتوایا گیا،

ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی کے خلاف کیس میں بات کرنے گیا تو چیف جسٹس نے مجھے روک دیا، دوبارہ بولنا چاہا تو مجھے ڈانٹ کر چپ کروا دیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں میں قرآن پاک پر حلف دیتا ہوں کہ ملک بھر میں دھاندلی ہوئی ہے،
میں تمام ججز اور سیاستدانوں کو چیلنج دیتا ہوں کہ آئیں اور قرآن پاک پر حلف اٹھائیں کہ وہ شفاف طریقے سے جیتے،

شوکت بسرا نے کہاکہ سلمان اکرم راجہ، شعیب شاہین عالمگیر خان سمیت دیگر کو ہروا دیا گیا اور اپنی من مرضی کے امیدواروں کو جتوایا گیا،میرے حلقے میں ن لیگ دوسرے نمبر پر آئی مگر اس کے ووٹ بھی اعجاز الحق کو دیے گئے، شوکت بسرا نے کہاکہ ہم اب لڑ کر مریں گے، ڈریں گے نہیں، قوم کی آواز بنیں گے، عمران خان نے ہمیں غیرت سکھائی ہے،
ان کا کہنا تھاکہ قوم پر شہباز اور مریم کو مسلط کیا جا رہا ہے، ہم فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں،
کروڑوں کی ای وی ایم مشینوں کو استعمال نہیں کیا گیا، ہمیں کہا گیا کہ فارم 45 پر پکوڑے رکھ کر بیچیں،
دھاندلی کرنے والے تمام آر اوز کے خلاف مقدمے کروانے جا رہے ہیں، تمام آر او آفس کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی جائے،
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی یہ الیکشن کسی صورت قبول نہیں کرے گی، خون کے آخری قطرے تک قوم کے مینڈیٹ کی حفاظت کریں گے،

شوکت بسرا نے سپریم کورٹ میں قرآن مجید لے جانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ آئینی عہدوں پر بیٹھی شخصیات اور سیاستدان قرآن پر حلف دیں،ہم سب کو حلف دینا ہو گا کہ ہم سب سچ بولیں گے،انہوں نے کہاکہ آئینی عہدوں پر بیٹھی شخصیات قرآن مجید پر حلف دیں کہ الیکشن شفاف ہوئے،الیکشن میں صرف دو شخصیات چیف جسٹس پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر نے کرائے،شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹس کی زیر نگرانی الیکشن کرانے کا حکم چیف جسٹس پاکستان کا تھا ہم نے پہلےکہا تھا کہ بیوروکریٹس بدترین دھاندلی کریں گے لیکن چیف جسٹس پاکستان نے بیوروکریسی کی صفائیاں دی تھیں،

انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر حلف دیں کہ الیکشن شفاف ہوئے،میں سپریم کورٹ قرآن مجید لے کر گیا تھامیں نے قرآن پر حلف دیا کہ دھاندلی ہوئی،چیف جسٹس بھی حلف دیں کہ دھاندلی نہیں ہوئی،ججز اور الیکشن کمیشن ممبران حلف دیں کہ وہ انصاف کررہے ہیں،شوکت بسرا نے کہاکہ اب سائلین اور ملزمان کو نہیں ججز کو حلف دینا چاہیے،ان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کے بیٹے کو چیلنج کرتا ہوں کہ فارم پنتالیس دکھا دے، میں آج بھی فارم پنتالیس ساتھ لایا ہوں،انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات پر فل کورٹ تشکیل دی جائےاور اس فل کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان نہ بیٹھیں کیونکہ چیف جسٹس پر کمشنر راولپنڈی نے دھاندلی کا الزام لگایا ہے.شوکت بسراکا کہناتھا کہ اب روزانہ ایک ڈویژن کی دھاندلی پر پریس کانفرنس کریں گے،

جہاں جہاں دھاندلی ہوئی وہاں کے آر او کے خلاف ایف آئی درج کرانی ہیں جہاں ایف آئی آر درج نہ ہوئی،وہاں عدالت سے رجوع کریں گے،الیکشن کمیشن نے ابھی تک فارم پنتالیس جاری نہیں کیے،
ن لیگ اور الیکشن کمییشن دونوں کے پاس فارم پنتالیس نہیں ہیں،ن لیگ اور الیکشن کمیشن اس وقت تک فارم پنتالیس تیار کررہے ہیں لگتا ہے کہ فارم پنتالیس گوالمنڈی میں تیار ہورہے ہیں،انہوں نے کہاکہ لکشمی کے بیلٹ پیپرز اور گوالمنڈی کے فارم پنتالیس کی حکومت بنائی جارہی ہے.

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جہاں جہاں دھاندلی ہوئی ہے،وہاں کے آر او آفس کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی جائے،سی سی ٹی وی فوٹیج میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا،ہرائے گئے تمام امیدوار سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول کی درخواست دیں،سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آجائے گا کہ کون کون اندر گیا،
الیکشن کمیشن بری طرح پھنس چکا ہے،عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے والوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے،

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماشوکت بسرا نے عام انتخابات دھاندلی کے ذمہ داران اورعوامی مینڈیٹ چرانے والوں کوکیفرکردارتک پہنچانے کیلئے فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم نے مینڈیٹ عمران خان کودیا ہے ۔قوم نے امانت عمران خان تک پہنچانے کیلئے ووٹ ہمیں دیا ہے ہم قوم کی امانت پر پہرہ دینگے چھینا ہوا مینڈیٹ واپس لیں گے اور جب بھی کال دی جائے توقوم سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار رہے ہم اپنا مینڈیٹ کسی کو اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہونے دینگے ۔

شوکت بسرا نے کہا کہ میں پرسوں سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش ہوا تھااورمیرا سپریم کورٹ جانے کا مقصد یہ تھا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ الیکشن سپریم کورٹ کی زیر نگرانی ہوئے ہیں اور یہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین الیکشن تھے اسی لئے میں چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے گیا تھا تاکہ وہ اس معاملے میں فل کورٹ تشکیل دیں اور وہ خود اس میں نہ بیٹھیں کیونکہ چیف کمشنر راولپنڈی نے الزامات لگائے ہیںکہ اس دھاندلی میں چیف جسٹس آف پاکستان بھی ملوث ہیں۔

شوکت بسرا نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن بھی قرآن مجید لے کر گیاسپریم کورٹ بھی قرآن مجید لے کر گیا میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے تمام آئینی عہدوں پر بیٹھی شخصیات، تمام سیاستدان اور میڈیا کے لوگ قرآن مجید ہاتھ میں پکڑ کر حلف دیں کہ بہت ہوگیا اب ہم سچ بولیں گے اب پاکستان مزید جھوٹ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔میں نے الیکشن کمیشن کے ممبران سے بھی کہا ہے کہ وہ قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہہ دیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن صاف و شفاف ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ میں چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی یہ مطالبہ کرنے گیا تھا کہ قرآن مجید ہاتھ میں پکڑ کر کہہ رہا ہوں کہ جنرل ضیاء الحق کے بیٹے کو دھاندلی کے ذریعے جتوایا گیاہے چیف جسٹس آف پاکستان بھی قرآن پاک پرحلف دے دیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ الیکشن صاف اور شفاف ہوئے ہیں ان میں دھاندلی نہیں ہوئی تو بات ختم ہوجائے گی سپریم کورٹ جانے کا میراصرف یہی مقصد تھا ۔

شوکت بسرا نے کہا کہ الیکشن کو پندرہ روز گزر چکے ہیں ابھی تک نہ توفارم 45ن لیگ کے جیتے ہوئے امیدوار دکھانے کو تیار ہیں نہ آر او دکھانے کو تیار ہیں نہ الیکشن کمیشن اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کررہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک بیلٹ پیپرز بھی چھاپے جارہے ہیںاور اس وقت تک نئے فارم 45 بھی تیار ہورہے ہیںکیونکہ بہت سے پریزائیڈنگ آفیسرز نے یہ بات بتائی ہے کہ ان سے خالی فارم 45 پر دستخط کروائے گئے ہیں۔کئی پریزائیڈنگ افسران کو ابھی بھی دھمکیاں دی جارہی ہیںکہ آپ فارم45 پر دستخط کردیںجعلی فارم45تیارہورہے ہیں جعلی بیلٹ پیپرتیار کئے جارہے ہیں جعلی ٹھپے لگائے جارہے ہیں دن رات یہ کام ہورہا ہے ۔8فروری کو لوگوں نے اتنے ووٹ ڈالے ہیں کہ اس وقت تک دھاندلی اور دو نمبری کی جارہی ہے اس صورتحال میں کوئی ادارہ اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔پورے پاکستان میں سے ابھی تک کسی ایک فورم نے یہ نہیں کہا کہ فارم 45 لائے جائیں کسی عدالت نے فارم45 الیکشن کمیشن سے نہیں منگوائے تو یہ بات بہت تشویشناک ہے ۔

شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے کہاکہ اصل فارم45وہ ہیں جو الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کئے ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے ویب سائیٹ پر اپ لوڈ نہیں کئے شاید وہ الیکشن کمیشن نے کسی ایسی ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کئے ہیں جو صرف جاتی عمرہ میں کھلتی ہے اورکسی جگہ وہ ویب سائیٹ نہیں کھلتی۔

انہوں نے کہا کہ غریب قوم کے کروڑوں روپے لگا کر الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) تیار کیا گیا لیکن ایک بھی نتیجہ ای ایم ایس کے ذریعے جاری نہیں ہوا۔اب الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ انٹرنیٹ نہیں تھا اس لئے رزلٹ ای ایم ایس کے ذریعے نہیں آئے لیکن جب پہلے چیف الیکشن کمشنرسے پوچھا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا انٹرنیٹ اور موبائل کے بغیر بھی ای ایم ایس کام کرے گا ، الیکشن کمشنر کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جھوٹ بولا تھاغلط بیانی کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انٹرنیٹ سروس بند ہی اس لئے کی گئی ہے کہ ای ایم ایس کے ذریعے رزلٹ نہ آئے تاکہ نتائج میں دو نمبری کی جاسکے۔

شوکت بسرا نے پی ٹی آئی کے فارم 47 پر ہرائے گئے اور فارم 45رکھنے والے تمام امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اپنے وکلا کے ساتھ اپنے اپنے آر او آفس جائیں اور اپنے فارم 45 ان سے لیں اگروہ اب بھی فارم 45 نہیں دیتے تو آپ ان سے تحریری طور پر جواب یا آرڈر لیں کہ وہ فارم 45کیوں نہیں دے رہے؟۔پھر اس آرڈر کو متعلقہ فورم پر چیلنج کریں
شوکت بسرا نے کہا ہے کہ ہر امیدوار آر او آفس سے انکے دفاتر کی 8 اور 9فروری کی سی سی ٹی فوٹیج مانگیں اور کہیں کہ فوٹیج ہمیں دی جائے تاکہ پتہ چل سکے 8 اور9 فروری کو کون کون ان کے دفاتر میں آیا اور گیا تھاکیونکہ ہمارے پاس انفارمیشن ہے کہ ان کے دفاتر میں صرف ن لیگ کے لوگ تھے اور ن لیگ سے وابستہ سہولت کار آر اوآفسز کے اندر موجود تھے جنہوں نے سارے نتائج تبدیل کروائے ہیں ہم ان چہروں کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اندر کون کون گیا ہے کیونکہ کسی ایک بھی جگہ پر پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آروز کے دفاتر میں جانے نہیں دیا گیا۔

انہوں نے یہ کہا ہے کہ جہاں جہاں آر اوز نے دھاندلی کروائی ہے وہاں آر اوز کیخلاف ایف آئی آر درج کرائیںلیکن اگر ایف آئی آرز درج نہیں کی جاتیں تو متعلقہ فورم سے رجوع کرکے 22 اے کی درخواستیں دائر کریں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے الیکشن آفس اور آر او آفس سے تحریری رپورٹ مانگیں گے کہ انہوں نے کتنے رزلٹ ای ایم ایس سسٹم کے ذریعے الیکشن کمیشن کو بھجوائے اور الیکشن کمیشن کو کتنے رزلٹ ای ایم ایس کے ذریعے موصول ہوئے۔

شوکت بسرا نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جوآپ کی زیر نگرانی ملکی تاریخ کے بدترین الیکشن ہوئے ہیں اور جو راولپنڈی کے کمشنر نے کہا ہے اس کی تحقیقات کیلئے فل کورٹ تشکیل دیا جائے جس میں چیف جسٹس خود نہ بیٹھیں کیونکہ ان پر یہ الزامات لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم نے مینڈیٹ عمران خان کودیا ہے ۔قوم نے امانت عمران خان تک پہنچانے کیلئے ووٹ ہمیں دیا ہے ہم قوم کی امانت پر پہرہ دینگے چھینا ہوا مینڈیٹ واپس لیں گے اور جب بھی سڑکوں پر نکلنے کی کال دی جائے توقوم سڑکوں پر نکلنے کیلیئے تیار رہے ہم اپنا مینڈیٹ کسی کو اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہونے دینگے اور دھاندلی کرنے والے تمام آر اوز کیخلاف مقدمات درج ہونے چاہیئیں اور ان کو گرفتار ہونا چاہیئے الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے ایک جے آئی ٹی، آزادکمیشن یا فل کورٹ بننا چاہیئے تاکہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والوںکو سزائیں دی جاسکیں اور انکو عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ نہ ڈالے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ملک میں جوبھی عدم استحکام آئے گا اس کے ذمہ دار وہی آر اوز ہونگے جنہوں نے عوام کا مینڈیٹ چوری کیاہے۔