1
جج بننے کیلئے دوہری شہریت یا رہائش رکھنا نااہلیت نہیں: عدالت کا فیصل واوڈا کوجواب،جواب میں مزید کہا گیا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے چھ ججز کے خط پر از خود کیس کی کارروائی میں اس بات کو واضح کیا، جسٹس اطہر من اللہ نے بتایا کہ جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ڈسکس ہوا، سپریم جوڈیشل کونسل نے ڈسکشن کے بعد جسٹس بابر ستار کو بطور جج مقرر کرنے کی منظوری دی، یہ عدالت جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی ڈسکشن کا ریکارڈ نہیں رکھتی۔رجسٹرار آفس نے فیصل واوڈا کو اپنے جواب میں کہا کہ ہائیکورٹ کی پریس ریلیز میں وضاحت کی گئی تھی کہ جسٹس بابر ستار نے اس وقت کے چیف جسٹس کو بتایا تھا کہ وہ گرین کارڈ رکھتے ہیں، فیصل واوڈا نے جسٹس بابر ستار کی جانب سے تعیناتی سے قبل گرین کارڈ ہولڈر ہونے کی انفارمیشن فراہم کرنے کا ریکارڈ مانگا تھا۔
2
اسحاق ڈار کی بطورنائب وزیراعظم تقرری کیخلاف دائردرخواست خارج،لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی ۔درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ سینیٹر اسحاق ڈار وزیر خارجہ کے عہدے پر تعینات ہیں، جنہیں مزید نوازنے کیلئے نائب وزیر اعظم بھی مقرر کر دیا گیا ہے،آئین میں نائب وزیر اعظم کا عہدہ ہی موجود نہیں لہٰذا عدالت اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیر اعظم تقرری کالعدم قرار دے۔عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیراعظم تقرری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جس پرآج ہونیوالی سماعت میں درخواست کو خارج کردیا گیا۔
3
مریم نواز سے گورنر پنجاب کی ملاقات،صوبے کی ترقی کے امور پر تبادلہ خیال،جاتی امراء میں ہونے والی ملاقات میں وزیر اعلیٰ مریم نواز نے نو منتخب گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی، ملاقات میں صوبے کی ترقی کے لیے مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہر آئینی عہدے کا احترام کرتے ہیں، صوبے میں قانون کی حکمرانی ہوگی، گورنر ایک آئینی عہدہ ہے جو صوبوں اور وفاق کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے، صوبہ بھر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید مؤثر بنایا جارہا ہے۔
4
زرتاج گل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر ریکارڈ طلب،پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما زرتاج گل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ زرتاج گل کے خلاف اسلام آباد اور پنجاب میں 5 مقدمات درج ہیں جس پر وکیل درخواست گزار اسامہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ جو کیس بتائے گئے ان تمام میں زرتاج گل ضمانت پر ہیں، جو ضمانت پر ہو اسکا نام بھی پی این آئی ایل لسٹ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔دوران سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ زرتاج گل کتنے کیسوں میں ضمانت پر ہیں؟ آئندہ سماعت پر درخواست گزار عدالت میں پیش ہوں۔بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے زرتاج گل کے وکیل کو ریکارڈ سمیت اگلے ہفتے پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اگلے ہفتے تک کیلئے ملتوی کر دی۔
5
وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر آزاد کشمیر پہنچ گئے۔وزیراعظم شہباز شریف کے آزاد جموں و کشمیر پہنچنے پر وزیر اعظم چودھری انوار الحق نے استقبال کیا، وزیراعظم شہباز شریف آزاد حکومت جموں و کشمیر کی کابینہ سے خطاب کریں گے۔شہباز شریف سے جموں و کشمیر کے حریت رہنماؤں کی ملاقات بھی ہو گی جبہ وزیراعظم نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ کریں گے جہاں ان کو بریفنگ دی جائے گی۔
6
9 مئی کے دو مقدمات میں علی امین گنڈا پورکی ضمانت منظورانسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے فیصلہ سنایا، علی امین کی جانب سے ایڈووکیٹ محمد فیصل ملک اور سردار عبدالرازق پیش ہوئے تھے، ضمانتیں تھانہ نیو ٹاؤن تھانہ سول لائن کے مقدمات میں منظور کی گئیں۔علی امین کی گزشتہ روز 9 مئی کے گیارہ مقدمات میں فاضل عدالت نے ضمانتیں منظور کیں۔
7
سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی حاکم خان نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 8 فروری کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بیان دیا تھا جس پر ان کیخلاف انکوائری چل رہی ہے۔
8
اورنج ٹرین میں بے ضابطگیوں پر نیب نے ایل ڈی اے سے تفصیلات مانگ لیں،اورنج ٹرین کی تعمیر کے دوران خلاف ضابطہ ہونے والے کاموں پر نیب نے ریکارڈ طلب کیا ہے، منصوبے کی فزیکل پراگریس اور فنانشل پوزیشن سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔نیب کی جانب سے اورنج ٹرین پراجیکٹ میں ٹھیکیداروں کو ہونے والی ادائیگیوں سے متعلق استفسار کیا گیا ہے جبکہ مرکزی ٹھیکیداروں کو رقوم کے اجراء کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔
9
بانی پی ٹی آئی کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت پرسماعت 20 مئی تک ملتوی،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجھوکا نے کیس کی سماعت کی ، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے خالد یوسف چوہدری اور سردار مصروف ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ اب تو حاضری سے استثنیٰ دے کر بھی درخواست ضمانت کا فیصلہ دیا جا سکتا ہے، جس پر وکیل خالد یوسف چودھری نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں ایسے ضمانت کے فیصلے ہوئے ہیں جن میں ہماری ضمانتیں منظور ہوئی ہیں، ہم دلائل کے لئے تیار ہیں بس بانی ہی ٹی آئی کو پیش نہیں کیا گیا وہ حاضری کا ایشو رہا ہے۔جج افضل مجھوکا کے ریمارکس
10
بانی پی ٹی آئی کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت پرسماعت 20 مئی تک ملتوی،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجھوکا نے کیس کی سماعت کی ، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے خالد یوسف چوہدری اور سردار مصروف ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔جج افضل مجھوکا نے ریمارکس دیئے کہ اب تو حاضری سے استثنیٰ دے کر بھی درخواست ضمانت کا فیصلہ دیا جا سکتا ہے، جس پر وکیل خالد یوسف چودھری نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں ایسے ضمانت کے فیصلے ہوئے ہیں جن میں ہماری ضمانتیں منظور ہوئی ہیں، ہم دلائل کے لئے تیار ہیں بس بانی ہی ٹی آئی کو پیش نہیں کیا گیا وہ حاضری کا ایشو رہا ہے۔بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ وقت مقرر کردیں ہم دلائل دینا چاہتے ہیں ،عدالت نے کیس کی سماعت دلائل کیلئے 20 مئی تک ملتوی کردی۔
11
انتشار انگیز گفتگو کا کیس: فواد چودھری کی عبوری ضمانت منظور،ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفار نے دو صفحات پر مشتمل عبوری ضمانت کا تحریری حکم جاری کر دیا، عدالت نے 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض سابق وفاقی وزیر کی ضمانت منظور کی۔عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ لاہور میں ٹریفک کسی اور وجہ سے جام ہو سکتا ہے، لاہور میں اکثر ٹریفک جام رہتا ہے، فواد چودھری پر ٹریفک جام کرنے کا الزام درست نہیں ہے۔
12
غزہ کا مستقبل ؟ اسرائیلی وزیردفاع اورنیتن یاہومیں اختلاف سامنے آگیا نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جب تک حماس غزہ میں برسراقتدار رہے گی، جنگ کے بعد کے دن کے انتظامات کے بارے میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔غزہ پر حکمرانی کیلئے حماس کا متبادل پیدا کرنے کے کسی بھی اقدام سے قبل حماس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے بلا حیل و حجت کوشش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔گیلنٹ نے کھلے عام حکومت پر تنقید کی تھی کہ وہ جنگ کے بعد کی حماس کے بغیر فلسطینی انتظامیہ کی تشکیل کی تجویز پر سنجیدہ بحث سے گریز کر رہی ہے۔
13
گرمی بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، بجلی کی طلب میں بھی اضافہ، ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار 218 میگا واٹ سے بڑھ گیا، ملک بھر میں بجلی کی طلب 24 ہزار میگاواٹ ہو گئی، تمام ذرائع سے بجلی کی پیداوار 18 ہزار 782 میگاواٹ ہے۔پن بجلی ذرائع سے بجلی کی پیداوار 5 ہزار5 سو، سرکاری تھرمل پاور پلانٹس 6 سو میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اسی طرح آئی پی پیز سے بجلی کی پیداوار 8 ہزار 2 سو میگاواٹ ہے۔ونڈ پاور پلانٹس سے 7 سو میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ سولر سے 157 میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔