1
ایکس کا پوسٹ لائیکس کا آپشن پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ،اس بات کی تصدیق ایکس کے مالک ایلون مسک کی جانب سے کی گئی ہے۔ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لائیکس کو پرائیویٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ بہت اہم تبدیلی ہے جس سے صارفین کسی پوسٹ کو بغیر کسی خوف کے لائیک کر سکیں گے۔کمپنی کی جانب سے ایک ایکس پوسٹ میں بتایا گیا کہ رواں ہفتے ہر صارف کے لیے لائیکس کو پرائیویٹ کیا جا رہا ہے تاکہ پرائیویسی کا تحفظ حاصل ہوسکے۔
2
اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا ملا جلا دن، 100 انڈیکس میں 207 پوائنٹس کا اضافہ،پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا ملا جلا دن رہا۔اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 207 پوائنٹس اضافے سے 72797 پر بند ہوا۔ بجٹ کے سبب کاروبار 29 کروڑ شیئرز کا ہوا۔شیئرز بازار کے کاروبار کی مالیت 10.5 ارب روپے رہی جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 29 ارب روپے بڑھ کر 9783 ارب روپے رہی۔
3
کم سے کم تنخواہ 37 ہزار کرنے کی تجویز، قومی اسمبلی میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔وزیرخزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کا ایوان میں شور شرابہ جاری ہے اورسنی اتحاد کونسل کے ارکان کا اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج اور نعرے لگا رہے ہیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کرر ہے ہیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے اسٹینڈ بائی معاہدہ کرنے پر اس کی تعریف کرنا ہوگی، اسٹیڈ بائی معاہدے سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی، اسٹینڈ بائی معاہدے سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا، مہنگائی مئی میں کم ہوکر 12فیصد تک آگئی اور اشیائے خورد و نوش عوام کی پہنچ میں ہیں۔
4
اسحاق ڈار نے ناراض پی پی کو منا لیا مگر بلاول گھر چلے گئے۔پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا جس کے بعد حکومت کو کورم پورا کرنے میں پریشانی کا سامنا تھا۔تاہم ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بلاول بھٹو سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور انہیں منانے میں کامیاب ہوگئے۔خورشید شاہ، نوید قمر اسحاق ڈار کے ہمراہ ایون میں چلے گئے۔ اس کے وزیر خزانہ نے خورشید شاہ اور نوید قمر کی نشست پر جاکر ان سے گفتگو کی۔ بعد ازاں اعجاز جاکھرانی سمیت پیپلزپارٹی کے دیگر ارکان بھی ایوان میں پہنچ گئے۔اُدھر بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ ہاؤس سے گھر روانہ ہوگئے۔ صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ اجلاس میں شرکت کریں گے؟ اس پر انہوں نے کہاکہ میں تو گھر جارہا ہوں۔
5
پیپلز پارٹی کے بجٹ اجلاس میں عدم شرکت کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی۔مسلم لیگ ن کے لیے بجٹ تقریر میں کورم پورا رکھنا درد سر بن گیا۔ کابینہ کا اجلاس ختم ہونے کے بعد ارکان قومی اسمبلی ایوان میں موجود ہیں اور ارکان کے ایوان میں موجود ہونے کے باوجود اجلاس شروع نہ ہو سکا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اپنی نشست پر کھڑے ہو کر بجٹ تقریر کیلئے تیار ہیں لیکن حکومتی اتحاد کے ارکان کی کورم سے کم تعداد ایوان میں موجود ہے۔اسمبلی اجلاس چلانے کے لیے حکمران اتحاد کے 84 ارکان کا ایوان میں موجود ہونا ضروری ہے اور اس وقت ایوان میں حکمران اتحاد کے صرف 51 ارکان موجود ہیں۔
6
3 حلقوں کیلئے نئےٹربیونل کیخلاف کیس: عدالت نے نئے ٹربیونل کو کام کرنے سے روک دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نئے ٹربیونل پرحکم امتناع جاری کر دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان کو ذاتی حیثیت میں بلالیا، عدالت نے لیگی رہنما کو 24 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔عدالت نے کہا کہ ٹریبونل بدلنے کی درخواست پڑھ کر معلوم ہوتا ہے درخواست میں توہین آمیز زبان ہے۔
7
کابینہ اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ منظور،،گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدات ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مالی سال 25-2024 کے بجٹ تجاویز کی منظوری دی گئی۔وفاقی کابینہ نے کسانوں، نوجوانوں اور صعنتوں کے لیے پیکج کی منظوری دی ہے۔
8
پیپلزپارٹی کا بجٹ اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ، پیپلزپارٹی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت بلاول بھٹو زرداری نے کی۔پیپلزپارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی رائے دی۔ پیپلزپارٹی کے ارکان نے بجٹ سے متعلق اعتماد میں نہ لینےپرتحفظات کا اظہار کیا۔پیپلزپارٹی ارکان نے پی ایس ڈی پی پر اعتماد میں نہ لینے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ میں حکومت سے مسلسل رابطے کررہاتھا، پی ایس ڈی پی پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیاگیا،بات چیت نہیں کی گئی، یہ طے تھا کہ چاروں صوبوں میں پی ایس ڈی پی بیٹھ کرطےکریں گے۔
9
وزیر اعظم کا ن لیگ کو بجٹ سے متعلق پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دینے کی ہدایت،وزیرِاعظم شہبازشریف کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جہاں وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو بجٹ سے متعلق اعتماد میں لیا۔اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے ارکان کو بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی، ارکان کی جانب سے بجٹ پر مکمل اعتمادکا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم نے پارلیمانی پارٹی کے ارکان کو بجٹ اجلاس میں بھرپورحصہ لینے، تجاویز پیش کرنے اور بجٹ سے متعلق جھوٹ اور پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دینے کی ہدایت کی۔
10
وزیر اعلیٰ مریم نواز کا پنجاب کو جعلی اور غیر معیاری دواؤں سے پاک کرنے کا اعلان،محکمہ صحت کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر دوائی جعلی نکلی تو محکمہ صحت کا متعلقہ افسر ذمہ دار ہوگا جبکہ جعلی اور غیرمعیاری دوائی بیچنے والوں کو جرمانے، قید اور کاروبار سربمہر کرنے کی سزائیں دینے کا بھی فیصلہ کیا گیاہے۔ ضمیر کو جگانا اور نیتوں کو ٹھیک کرنا ہوگا ، خدا کا خوف کرنا پڑے گا، نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے ہر سطح پہ جزا اور سزا کو شامل کرنا پڑے گا۔
11
پیپلزپارٹی بجٹ پاس کرانےمیں ن لیگ کو بھرپور سپورٹ کرے گی، معاملات طے پاگئے۔پاکستان پیپلزپارٹی بجٹ پاس کرانےمیں ن لیگ کو بھرپور سپورٹ کرے گی، معاملات طے پاگئے۔آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ سے متعلق پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں معاملات طے پاگئے۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بجٹ سے متعلق معاملات ن لیگ، پی پی قیادت کی سطح پر طے پائے، پیپلزپارٹی بجٹ پاس کرانےمیں ن لیگ کو بھرپور سپورٹ کرے گی۔پیپلزپارٹی تمام تحفظات کے باوجود بجٹ کےحق میں ووٹ دے گی، پی پی پارلیمان میں احتجاج وتقاریر کے باوجود بجٹ پاس کرائے گی۔ پیپلزپارٹی کی بعض تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
12
بجٹ اجلاس کیلئے پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل نے حکمت عملی طے کرلی۔ پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں آج ہونے والے بجٹ اجلاس کیلئے حکمت عملی طے کی گئی۔ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 25-2024 کیلئے 18 ہزار ارب روپے سے زائد مالیت کا وفاقی بجٹ آج شام پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش کرے گی۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں موجودہ اتحادی حکومت کا یہ پہلا وفاقی بجٹ ہے، وفاقی حکومت اندرونی اور بیرونی سطح پر درپیش چیلنجز کے درمیان اپنا پہلا بجٹ پیش کر رہی ہے۔
13
پنجاب کا مالی سال 25-2024 کے بجٹ کا حجم 53 کھرب روپے متوقع،پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 700 ارب روپےکےقریب ہونےکا امکان ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 33 ارب82کروڑ مختص کرنےکی تجویز دی گئی ہے۔620 ارب 59 کروڑ روپے کی 4 ہزار 211 اسکیمیں بجٹ میں شامل کی گئی ہیں جبکہ 1863 اسکیموں کو مکمل کیا جائےگا، 391 ارب روپے کی جاری 2805 اسکیمیں آئندہ مالی سال میں شامل ہیں۔پنجاب کے بجٹ میں لوکل گورنمنٹ کے لیے 14 ارب چارکروڑ 80 لاکھ روپے مختص کرنےکی تجویز دی گئی ہے۔


