1
موبائلز فونز، تابنے، کوئلہ، کاغذ، پلاسٹک سکریپ پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کا فیصلہ،حکومت کی جانب سے بجٹ میں متعدد اشیاء پر سیلز ٹیکس کا سٹینڈرڈ ریٹ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، موبائلز فونر کی مختلف کیٹگریز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگے گا، تانبے، کوئلہ، کاغذ اور پلاسٹک کے سکریپ پر ودہولڈنگ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔لگژری گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پچاس ہزار ڈالر مالیت کی درآمدی گاڑی پر ٹیکس اور ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، شیشے کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، سٹیل اور کاغذ کی مصنوعات کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
2
حکومتی اخراجات میں کمی بارے ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت حکومتی اخراجات اور حکومتی ڈھانچے کا حجم کم کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، حکومتی اخراجات کم کرنے کے حوالے سے تشکیل کی گئی کمیٹی نے وزیراعظم کو ابتدائی رپورٹ پیش کی، ابتدائی رپورٹ میں قلیل مدتی اور وسط مدتی سفارشات پیش کی گئیں ، کمیٹی نے کچھ سرکاری اداروں کو بند کرنے، کئی اداروں کو ضم کرنے اور کچھ اداروں کو صوبوں کے حوالے کرنے اور ایسی تمام اسامیاں جو ایک سال سے زائد کے عرصے سے خالی ہیں ختم کر کے قومی پیسہ بچانے کی سفارش کی ۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی کہ نئے بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کی کنٹریبیوٹری پینشن کا نظام لایا جائے، سرکاری اداروں میں سروسز کی فراہمی کے لیے نجی شعبے کی خدمات لی جائیں، حکومتی اخراجات کم کرنے کے لئے سرکاری اہلکاروں کے غیر ضروری سفر پر پابندی عائد کی جائے اور ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دیا جائے۔
3
قومی اسمبلی کے 100 دنوں کی کارکردگی پر فافن کی رپورٹ جاری، قومی اسمبلی کے ابتدائی 100 دنوں میں قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار رہا، قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر سے اسمبلی کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔فافن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی خدشات کی آڑ میں قومی اسمبلی کی گیلری تک شہریوں کی رسائی پر پابندی بھی کارکردگی پر اثر انداز ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ایوان نے 66 گھنٹے اور 33 منٹ پر محیط 23 اجلاس کیے، ہاؤس کے موجودہ 310 ممبران میں سے 159 (51 فیصد) ممبران نے فعال ہو کر اجلاسوں میں شرکت کی، ایوان میں ارکان کی اوسط حاضری 231 رہی جس میں سب سے زیادہ 302 اور سب سے کم 176 ہے۔
4
بلوچستان حکومت کا تمام محکموں کیلئے 67 اصلاحات لانے کا فیصلہ،گندم خریداری کا معاملہ عدالت میں ہے، اس پر بات کرنا مناسب نہیں، ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے،عدالت میں طلبی کو بےعزتی نہیں سمجھتا۔ وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو نظر انداز نہیں کیا گیا، وفاقی بجٹ میں بلوچستان کا کیس وفاق میں پیش کیا ہے، تجاویز بھی دیں، وفاقی بجٹ میں کئی سکیمیں شامل کرائیں۔ بلوچستان کا ہمیشہ وفاق سے شکوہ رہا ہے کہ اس کی ایلوکیشن پر توجہ نہیں دی گئی، وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے بہت سے منصوبے دوبارہ شامل کئے گئے ہیں، بلوچستان کا بجٹ عوام دوست تیار کرنے کیلئے پُرعزم ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت
5
جسٹس شجاعت علی خان کو قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مقرر کرنے کا فیصلہ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان کی سپریم کورٹ میں نامزدگی کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں فوری طور پر مستقل چیف جسٹس کی تقرری کا فیصلہ نہیں ہو سکا، مستقل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تقرری کے لئے جولائی کے پہلے ہفتے میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان کی سپریم کورٹ میں نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد فوری طور پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدہ کی خالی اسامی پر کرنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس شجاعت علی خان کو قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مقرر کر دیا جائے گا۔
6
آئی سی سی رینکنگ: ٹی 20 میں بابر اعطم کی ترقی، رضوان کی تنزلی،آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بیٹنگ میں بھارت کےسوریا کماریادیو پہلے نمبرپر ہیں، انگلینڈ کے فل سالٹ کا دوسرا نمبر ہے جبکہ بابراعظم ایک درجہ ترقی کے بعد تیسرے نمبر پر آگئے ہیں۔اس کے علاوہ محمد رضوان ایک درجہ تنزلی کے بعد چوتھے نمبر پرچلے گئے جبکہ انگلینڈ کے جوز بٹلر دو درجہ ترقی کے بعد پانچویں نمبر پر ہیں۔ٹی ٹوئنٹی بولنگ رینکنگ میں انگلینڈ کے عادل رشید کا پہلا نمبر ہے، سری لنکا کے وانندو ہسارانگا کا دوسرا، افغانستان کے راشد خان 4 درجہ بہتری کے بعد تیسری پوزیشن پر آ گئے۔
7
بجٹ2024-25: جعلی سگریٹس کی فروخت پر سخت سزائیں دینے کا فیصلہ،بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ جعلی سگریٹس فروخت کرنے والی دکانوں کو سیل کر دیا جائے گا، سگریٹ فلٹر کی پیداوار میں استعمال ہونے والے مواد پر 44 ہزار روپے فی کلو ٹیکس لگانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
8
سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام مثبت زون میں ہوا جس کے باعث 100 انڈیکس 208 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ 72 ہزار 797 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز 100 انڈیکس 72 ہزار 589 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔


