1
سندھ کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش: تنخواہوں میں 22 سے30 فیصد اضافہ،سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت میں شروع ہوا، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ 30کھرب روپے سے زائد تخمینے کا بجٹ انگریزی میں پیش کیا۔سندھ کے عوام نے مسلسل چوتھی بار پاکستان پیپلزپارٹی کو منتخب کیا ہے اور اس ایوان نے مجھے مسلسل تیسری بار وزیراعلی سندھ منتخب کیا ہے۔مرادعلی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کا مشکور ہوں امید ہے وہ تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔بجٹ دستاویز کے مطابق سندھ کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 959 ارب روپے ہوگا، ترقیاتی بجٹ میں جاری شدہ ترقیاتی اسکیمز بھی شامل ہیں۔صوبائی بجٹ میں 32 ارب محمکہ تعلیم اور 18 ارب روپےصحت جبکہ محکمہ توانائی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ تجویز کے مطابق صوبائی اسمبلی کیلئے فنڈز میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ 15 سو سے 3 ہزار سی سی امپورٹڈ گاڑیوں پر 45 ہزار روپے تک لگژری ٹیکس ہوگا۔اس کے علاوہ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ سےریسٹورینٹ پرادائیگی پر5فیصدکم ٹیکس لیا جائے گا۔
2
واجبات کی عدم ادائیگی: کے الیکٹرک کا سرکاری محکموں کی بجلی کاٹنے کا فیصلہ،کے الیکٹرک کی جانب سے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری توانائی کو ایک خط ارسال کیا گیا ہے جس میں سندھ کے 64 محکموں کی بجلی منقطع کرنے سے آگاہ کیا گیا ہے۔کے الیکٹرک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 8 خط لکھے جاچکے مگر وعدے کے مطابق واجبات اور بل ادا نہیں ہوئے، فیصلہ کیا گیا ہے کہ بجلی کے کنکشن منقطع کیے جائیں گے۔
3
پارلیمانی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں تعیناتی کیلئے ججز کے ناموں کی منظوری دیدی۔سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تعیناتی کا اجلاس ختم ہوگیا جس میں سپریم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے ناموں کی توثیق کرتے ہوئے ناموں کی منظوری دی گئی۔پارلیمانی کمیٹی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی بطورسپریم کورٹ جج کی منظوری دی جب کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس عقیل احمد عباسی کی بطورجج سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال کی بھی بطور جج سپریم کورٹ کی منظوری دی گئی۔
4
عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے جان چھڑانے کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور یقین ہے کہ عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا جلد اختتام ہوگا۔ سائلین کا اس عدالتی نظام سے واسطہ پڑتا ہے ، یہ نظام معاشرے کے کمزور افراد کے لیے بنایا گیا ہے۔مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر سب سے بڑا مسئلہ ہے، تین نسلیں فیصلوں کا انتظار کرتی ہیں، 30، 30 سال لگ جاتے ہیں، مقدمات میں اس لیے تاخیر ہوتی ہے کہ گواہ پیش نہیں ہوسکتے، بیرون ملک مقیم افراد کو بھی عدالت پیشی میں مشکلات تھیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمدکاراولپنڈی میں تقریب سے خطاب
5
مانسہرہ میں ڈاکوؤں نے بینک عملے کو یرغمال بناکر ایک کروڑ 30 لاکھ روپے لوٹ لیے۔ڈکیتی کی واردات مانسہرہ کے علاقے چنار روڈ پر نجی بینک میں ہوئی جس دوران 2 ڈاکوؤں نے عملے کو یرغمال بناکر بینک سے ایک کروڑ 30 لاکھ 60 ہزارروپے لوٹ لیے ہیں۔ڈی پی او کا کہنا ہے کہ ڈاکو بینک سے ایک کروڑ 30 لاکھ 60 ہزارروپے لوٹ کر لے گئے ہیں تاہم سی سی ٹی وی ویڈیوکی مدد سےڈاکوؤں کو جلد گرفتار کرلیں گے۔
6
سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں مذاکراتی عمل تعطل کا شکار،سینیٹ میں قائد ایوان اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کو مرضی کی کمیٹیاں دینے سے معذرت کرلی، اتفاق رائے نہ ہونے پر حکومت اور اپوزیشن میں مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔سینیٹ میں قائمہ کمیٹیوں کے معاملے پر تحریک انصاف کے وفد کی اسحاق ڈارسے آج طے شدہ ملاقات بھی نہ ہوسکی۔
7
’ارکان میں ترقیاتی فنڈ برابر تقسیم ہوتے ہیں‘رانا ثنا نے شیری رحمان کا دعویٰ مسترد کردیا۔ کہا ہے کہ ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈ برابری کے ساتھ تقسیم کیے جاتے ہیں۔پیپلز پارٹی نے ملاقات میں ہم سے ایسا کوئی گلہ نہیں کیا۔ اسحاق ڈار نے شواہد دکھائے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے پی ایس ڈی پی پر اُن کی میٹنگز ہوئی تھیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تمام مسائل کے حل کا طریقہ کار طے ہے، پیپلز پارٹی کے وفد اور وزیراعلیٰ پنجاب کے درمیان مختلف معاملات پر عید کے بعد ملاقات طے ہوئی ہے۔جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو
8
نوشہرہ میں شوہر نے بیوی اور اس کے والدین کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ڈی پی او نوشہرہ کے مطابق نظام پور میں ملزم یاسر زمان کی بیوی ناراض ہوکر گزشتہ چار ماہ سے میکے میں تھی۔ ملزم اپنی بیوی کو گھر لے جانے کے لیے سسرال پہنچا، سسرالیوں کے انکار پر ملزم نے اپنی ساس، سسر اور بیوی پر فائرنگ کرکے تینوں افراد کو قتل کردیا، فائرنگ کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔