اسلام آباد (عابد علی آرائیں)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی تضحیک آمیز منظم مہم پر شروع کی گئی توہین عدالت کی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے ۔8 جولائی کو ہونے والی فل کورٹ کی کارروائی کا حکم 4 صفحات اور 7 پیرا گراف پر مشتمل ہے ۔
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال ڈگل ،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت،اور وفاقی پراسیکیوٹر جنرل غلام سرور نہانگ پیش ہوئے
پیرا گراف نمبر 1
عدالت نے لکھا ہے کہ اس فوجداری مقدمے کے ذریعے فاضل عدالت کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف چلائی جانے والی سنگین مہم کا نوٹس لیتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جا رہی ہے
پیرا گراف نمبر 2
عدالت نے لکھا ہے کہ ہماری توجہ اس جانب دلائی گئی کہ گذشتہ چند ایام سے فاضل جج کی تضحیک کے لئے سنگین مہم چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد عدالت کی تضحیک اور اس کے وقار کو نقصان پہنچانا ہے بادی النظر میں یہ عمل آئین کےآرٹیکل 204 اور توہین عدالت آرڈیننس کے زمرے میں آتا ہے
پیرا گراف نمبر 3
عدالت نے پیمرا ،پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) ڈی جی ایف آئی اے کونوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ 4 ہفتوں میں اپنے تحریری جوابات جمع کرائیں جن میں ان افراد کی نشاندہی کی جائے جنھوں نے اس تضحیک آمیز مہم میں حصہ لیا اور جسٹس طارق جہانگیری سے متعلق بے بنیاد مواد سوشل میڈیا پر شیئر کیا ۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ رپورٹس میں ان افراد اوا کاؤنٹس کی نشاندہی بھی کی جائے جنھوں نے یہ سنگین مہم شروع کی اور جنھوں نے اس میں 5 جولائی 2024 کو اس مہم کا آغاز کرنے میں ٹائم لائن فراہم کر کے حصہ لیا ۔
پیرا گراف نمبر 4
عدالت نے 2 صحافیوں غریدہ فاروقی اور حسن ایوب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف چلائی گئی اس سنگین مہم میں حصہ لینے پر اپنا وضاحتی جواب 4 ہفتوں میں عدالت میں جمع کرائیں ۔عدالت نے انھیں ہدایت کی ہے کہ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا کاؤنٹ پر فاضل جج کے حوالے سے جو ٹوئٹس کیں اور جو مواد شیئر کیا وہ بھی اپنے جواب کے ساتھ جمع کرائیں ۔عدالت نے کہا ہے کہ ان دونوں صحافیوں کو توہین عدالت کے نوٹس ڈی جی ایف آئی اے کے ذریعے تعمیل کروائے جائیں گے ۔عدالت نے 7 اور سوشل میڈیا کاؤنٹس بھی اپنے حکم کا حصہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان 7 اکاؤنٹس کو چلانے والے افراد کو بھی نوٹس جاری کئے جاتے ہیں اور ان نوٹسز کی تعمیل بھی ایف آئی اے کروائے گی ،ان اکاؤنٹس میں
عمار سولنگی
اعجاز خان
ڈاکٹر سیدہ صدف
آیات گل
میر صاحب
اقصہ حورین
اور مصباح نامی اکاؤنٹس شامل ہیں ،عدالت نے ان ساتوں افراد کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ 4 ہفتوں میں فاضل عدالت کے خلاف چلائی گئی سنگین مہم کا حصہ بننے پر اپنا تحریری جواب جمع کرائیں ۔
پیرا گراف نمبر 5
عدالت نے اپنے حکم میں چیئرمین پاکستان بار کونسل ،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ،وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل ،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے نوٹس جاری کئے ہیں اور ہدایت کی ہے کہ وہ عدلیہ کے احتساب اور آزادی کے حوالے سے عدالت کی معاونت کریں ۔
عدالت نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے )کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای ) آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائیٹی (اے پی این ایس ) اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹر اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تمام تنظیمیں عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے میڈیا کے کردار کے متعلق آئین کی روشنی میں عدالت کی معاونت کریں
پیرا گراف نمبر 6
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ غیر تصدیق شدہ الزامات کی ترسیل اور پروپیگنڈا سے ایک جج کی ساکھ متاثر ہوئی ہے یہ معاملہ توہین عدالت آرڈیننس کی شق 9 کے زمرے میں آتا ہے اور اس عمل کو آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت تحفظ نہیں دیا جا سکتا جو اس وقت دباؤ کے لئے سامنے آتا ہے جب کوئی سیاسی افراد کا مقدمہ عدالت کے سامنے زیر سماعت ہوتا ہے۔
پیرا گراف 7
کیس کی آئندہ سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے فوراً بعد کی جائے گی ۔
فیصلے پر فل کورٹ ساتوں ججز
چیف جسٹس عامر فاروق
جسٹس محسن اختر کیانی
جسٹس بابر ستار
جسٹس اعجاز اسحاق خان
جسٹس ارباب محمد طاہر
اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے دستخط موجود ہیں ۔


