اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستا ن با ر کونسل نے آئینی اور سیاسی مقدما ت کی سما عت کیلئے آئینی عدالت کے قیام کا مطالبہ کردیا۔
جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستا ن با ر کونسل نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئینی ترمیم کر کے ملک میں ایک آئینی عدالت قائم کی جا ئے جو صر ف اور صرف آئینی اور سیاسی مقدما ت کی سما عت کر کے انکے فیصلے کرے۔ وفاقی حکومت کے اس اقدام سے سپریم کورٹ کے ججز کا بہت سا را قیمتی وقت جو سیا سی مقدما ت کی سما عت میں صرف ہوتا ہے وہ بچ جا ئے گا اور عا م لوگوں کے مقدما ت جن کی سیا سی مقدما ت کی وجہ سے سماعت نہیں ہوسکتی کی سماعت کر کے جلدسے جلد فیصلے کیے جا سکیں گے اس سے عام آدمی کو فوری انصاف ملے گا اور انکا عدالت پر اعتما د بحال ہو گا۔
اعلامیہ کے مطابق ممبرا ن پاکستا ن با ر کونسل،خیبر پختونخواہ اور پنجا ب با رکونسلز نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی، چیف جسٹس آف پاکستان سے مل کر انکو درخواست کی تھی کہ سپریم کورٹ میں سیا سی مقدمات کی وجہ سے عا م سائلین کے مقدمات کی سماعت نہیں ہور ہی لہذا سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 182 (a & b)کے تحت عارضی ججز تعینات کیے جائیں تا کہ عا م لوگوں کے مقدمات بھی سماعت کے لیے مقر ر کیے جائیں اور سپریم کورٹ رجسٹریوں میں مستقل طور پر بینچز تشکیل دئیے جائیں تا کہ وہا ں پر بھی درج مقدما ت کی سما عت ہو سکے۔
اعلامیہ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسٰی، چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے بار کونسلز کے ممبرا ن کی گزارش کو مانتے ہوے انیس تاریخ کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستا ن کا اجلاس بلا کر اس میں سپریم کورٹ کے ماضی قریب میں ریٹا ئر ہونیوالے ججز کی سپریم کورٹ میں عا رضی تعیناتی کو سراہا ہے جس کی آئین میں بھی اجازت ہے۔ اس سے سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسوں کوجلدنمٹا نے میں بہت مدد ملے گی کیونکہ سپریم کورٹ کے ججز کا بہت سا را وقت سیا سی مقدمات کو سننے میں صرف ہوتا ہے جسکی وجہ سے عام لوگوں کے مقدمات کی سماعت تاخیر کا شکا ر ہو جا تی ہے اور انکے مقدمات کے فیصلے جلد نہ ہونے کی وجہ سے ان میں بہت بے چینی پا ئی جا تی ہے۔ ان تعیناتیوں کے بعد سپریم کورٹ رجسٹریوں میں بینچ مستقل طور پر تشکیل دئیے جائیں۔


