لاہور (ای پی آئی) پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی کے احاطے میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان کی گاڑی پر جوتا پھینک دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جوتا مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی راشد حفیظ کے ڈرائیور کی جانب سے پھینکا گیا ہے تاہم اس ضمن میں مصدقہ طور پر کنفرم نہیں ہوسکا کہ جوتا کس کا ہے اور کس نے اچھالا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے پر وفاقی وزیر داخلہ اسمبلی سے جانے لگے تو ان کی گاڑی پر جوتا اچھالا گیا۔ جوتا وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان کی گاڑی کی فرنٹ سکرین پر لگا۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان اسوقت گاڑی میں ہی موجود تھے۔

سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی بھر پور انداز میں مذمت کی جارہی ہے
ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ رانا صاحب کی گاڑی پر جوتا پھینکنے کی شدید مذمت کرتی ہوں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ایسی اوچھی حرکات سے رانا صاحب ڈر جائیں گے تو وہ شیر رانا صاحب کو نہیں جانتے۔۔۔وہ ان کو دن میں تارے دکھاتے رہیں گے۔۔

بول نیوزاسلام آباد کے بیورو چیف صدیق جان نے ویڈیو ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
کچھ روز پہلے کامران ٹیسوری کو جوتا مارا گیا تو آج رانا ثناء اللہ کی گاڑی پر کسی نے جوتا دے مارا ،میں سمجھتا ہوں کہ اس عمل کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ۔
یہ روایت ٹھیک نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ معاشرے میں عدم برداشت بڑھتا چلا جارہا ہے ،یہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے.